کربلا کی یادگار جنگ سے سیکھے گئے چار قیادتی اصول: جب سب کچھ داؤ پر لگا ہو
تاریخ کے صفحات اکثر قیادت کے سبقوں سے بھرے
ہوتے ہیں۔ لیکن چند واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں گزرنے کے بعد بھی اپنی گونج اور
ریلیوینس برقرار رکھتے ہیں۔ 680 عیسوی میں موجودہ عراق میں پیش آنے والا کربلا کا
واقعہ جسے بنیادی طور پر ایک گہرے مذہبی اور تاریخی اہمیت کے حامل واقعے کے طور پر
دیکھا جاتا ہے درحقیقت انسانی ہمت، اخلاقی عزم، اور انتہائی ناموافق حالات میں
مثالی قیادت کا ایک شاندار مطالعہ پیش کرتا ہے۔ امام حسین ابن علی کی قیادت میں جو
پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) کے نواسے تھے ایک چھوٹی سی جماعت نے ایک طاقتور حکومتی
فوج کا سامنا کیا۔ نتیجہ ایک المناک سانحہ تھا لیکن اس جدوجہد میں اختیار کیے گئے
قیادتی اصول آج کے کارپوریٹ بورڈ رومز، سیاسی محاز آرائیوں اور سماجی تحریکوں کے
لیے ایک زبردست، آزمودہ اور ہمہ جہت ہوئی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
یہ محض عقیدے کی بات نہیں، بلکہ انسانی مزاحمت، اخلاقی سالمیت، اور
مشن پر ثابت قدمی کی عالمی داستان ہے۔ آئیے کربلا سے ماخوذ چار بنیادی قیادتی
ستونوں کو دیکھتے ہیں، جو آج کے رہنماؤں کے لیے حیرت انگیز طور پر جدید ہیں
سب سے پہلا اصول یہ کہ مصیبت میں بھی وژن نہایت
واضح ہو اور نظر کسی طور مشن سے نہ ہٹے ۔جب امام حسین کو حکمران یزید کی بیعت کرنے پر
دباؤ ڈالا گیا، جو ان کے نزدیک ظالم اور نااہل تھا، تو انہوں نے واضح اور دوٹوک
موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے اصولوں پر
سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا وژن اچھائی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، انسانی وقار
کی بحالی اور اپنے نانا کے اصولوں کو زندہ رکھنے پر مرکوز تھا۔ یہ محض نعرہ نہیں
تھابلکہ یہ ہر قدم پر ان کی رہنمائی کرنے والا اصول تھا، چاہے مکہ سے روانگی ہو یا
کربلا کے میدان میں آخری لمحات۔
بحران یا شدید دباؤ کے
وقت، مبہم وژن تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ کامیاب لیڈر – چاہے وہ کسی اسٹارٹ اپ کا سی
ای او ہو یا کسی بحران زدہ ملک کا وزیر اعظم – کو اپنے بنیادی مقصد
(Core Purpose) اور
اقدار (Core Values) کو بار بار، پراعتماد انداز میں بیان کرنا
چاہیے۔ یہ وژن صرف منافع یا اقتدار کے بارے میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خدمت،
انصاف، یا معاشرے پر مثبت اثرات کے بارے میں ہونا چاہیے۔ یہی وژن مشکل فیصلوں کا
معیار بنتا ہے اور ٹیم کو متحد رکھتا ہے جب سب کچھ بکھرتا نظر آ رہا ہو۔
دوسرا اصول عقل مندی کی
حکمت عملی اختیار کرتے
ہوئے جذبات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرناہے۔ امام حسین کا سفر جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں
تھا۔ یہ احتیاط، مشاورت، اور گہری حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کوفہ کے لوگوں
کے دعووں کی جانچ پڑتال کے لیے اپنے کزن مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ انہوں نے راستے
بدلے، مذاکرات کی کوششیں کیں، اور بالآخر کربلا میں ایک ایسی پوزیشن اختیار کی
جہاں ان کا پیغام (حتیٰ کہ شکست کے باوجود) تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔
ہر قدم غوروفکر، قابل اعتماد ساتھیوں سے مشورہ، اور موجودہ حالات کے عمیق تجزیے کے
بعد اٹھایا گیا۔
حقیقی قیادت جذباتی دھماکہ خیز فیصلوں کی نہیں،
بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ اس کا مطلب ہے:
مشاورت: ماہرین، قابل اعتماد
مشیروں اور ٹیم ممبران سے فعال طور پر رائے لینا۔
ڈیٹا اور تجزیہ: خطرات
(Risks)، مواقع
(Opportunities) اور
ممکنہ نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا۔
لچک
(Agility): منصوبے بنانا ضروری ہے،
لیکن نئے حقائق سامنے آنے پر انہیں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔
طویل
مدتی نقطہ نظر: فیصلے صرف فوری نفع کے لیے نہیں، بلکہ اخلاقی سالمیت اور دیرپا
اثرات کی روشنی میں کرنے چاہئیں۔ شارٹ کٹ اکثر طویل مدتی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
تیسرا اصول اپنے کردار سے اپنے فالورز جذبہ پیدا کرنا تاکہ مشن کو
متحرک رکھنے والی وفاداری جنم۔امام حسین کے چند سو ساتھیوں (جن میں خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل
تھے) نے ناقابل یقین ناموافق حالات میں بے مثال وفاداری، ہمت اور قربانی کا مظاہرہ
کیا۔ یہ وفاداری خاندانی تعلق یا خوف کی بنا پر نہیں تھی۔ یہ امام حسین کے کردار،
ان کی گہری سچائی، انصاف پسندی، دوسروں کے ساتھ احترام (حتیٰ کہ مخالفین کے ساتھ
بھی جنگ کے آداب کا خیال رکھنا)، اور ان کے مشن کی اخلاقی طاقت سے پیدا ہوئی تھی۔
انہوں نے اپنے ہر ساتھی کی آواز سنی اور ان کی عزت کی۔
آج کی مسابقتی دنیا
میں، حقیقی وفاداری اور جذبہ خریدا نہیں جا سکتا، یہ کمایا جاتا ہے۔
اس میں سیکھ یہ ہے کہ یہ
سمجھ لینا چاہیے کہ کردار ہی سب کچھ ہے
(Integrity is Currency): سچائی، انصاف، ہمت اور دوسروں کا احترام وہ بنیادیں ہیں جن پر
دیرپا اعتماد اور وفاداری تعمیر ہوتی ہے۔ ملازمین وہی لیڈر کی پیروی کرتے ہیں جن
پر وہ بھروسہ کرتے ہیں۔
لوگوں کو اپنی ذات کی
بجائے مقصد سے جوڑیں لوگ اس وقت سب سے زیادہ
متحرک ہوتے ہیں جب انہیں لگتا ہے کہ ان کا کام محض نوکری نہیں بلکہ کسی بڑے، معنی
خیز مقصد کا حصہ ہے۔ لیڈر کا کام اس مقصد کو زندہ کرنا اور اس سے جڑنا ہے۔
اپنے ساتھ چلنے والوں
کو اختیار دیں اور عزت کریں۔ (Empower & Respect) ٹیم ممبران کو ذمہ داری
دیں، ان کی رائے کو اہمیت دیں، اور ان کی شراکت کو تسلیم کریں۔ یہ احساس دلانا کہ
وہ قیمتی ہیں، گہری وفاداری پیدا کرتا ہے۔
چوتھا اصول یہ کہ اخلاقی بنیادوں ثابت
قدمیاختیار کی جائے اوراس میں اصول یہ
رکھا جائے کہ سمجھوتہ گناہ ہے۔ کربلا کا سب سے پائیدار سبق شاید یہ ہے: اپنے بنیادی اخلاقی اصولوں
پر ثابت قدم رہنا، چاہے اس کی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ یزید کی
بیعت کرنا امام حسین کے لیے ایک ایسے نظام کی توثیق کرنا تھا جو ان کے نزدیک ظلم،
بدعنوانی اور اخلاقی زوال کی علامت تھا۔ انہوں نے موت کو ترجیح دی لیکن اپنے
اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ، کربلا میں بھی، انہوں نے جنگ کے اصولوں،
پانی تک رسائی جیسے بنیادی انسانی حقوق، اور انصاف پر مبنی رویہ برقرار رکھا۔
سیکھنے کو سبق یہ ہے کہ
قیادت کی سب سے مشکل
آزمائش اخلاقی ہمت (Moral Courage) کا مظاہرہ کرنا ہے۔
سب سے پہلے دباؤ میں
ڈٹے رہیں۔ منافع، شیئر ہولڈرز کے دباؤ، یا فوری کامیابی کے
لالچ کے خلاف اپنی تنظیم کی بنیادی اقدار
(Integrity, Sustainability, Fairness) پر کھڑے رہنا۔ اینرون یا فولکس ویگن جیسے اسکینڈلز اخلاقی سمجھوتے
کے تباہ کن نتائج کی یاد دہانی کراتے ہیں۔
پھر لیڈر ذمہ داری قبول
کرنے کی ہمت دیکھائے۔ اپنے فیصلوں اور ان کے نتائج کی ذمہ داری لیں۔ کبھی دوسروں پر
الزام نہ ٹھہرائیں۔
حقیقی، دیرپا کامیابی
وہ ہے جو مضبوط اخلاقی بنیادوں پر تعمیر ہو۔ غیر اخلاقی طریقے عارضی فائدہ دے سکتے
ہیں، لیکن وہ آخرکار ساکھ، برانڈ اور تنظیم کی روح کو تباہ کر دیتے ہیں۔ مزدور
استحصال، ماحولیاتی تخریب، یا اندرونی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا اخلاقی ثابت
قدمی کی مثالیں ہیں۔
آخر پہ یہی کہنا چاہوں گا کہ کربلا کا المیہ ایک فوجی شکست تھی،
لیکن امام حسین کی قیادت ایک گہرا فکری اور اخلاقی فتح ثابت ہوئی۔ یہ ہمیں یاد
دلاتا ہے کہ حقیقی قیادت کا تعلق طاقت کے استعمال یا ذاتی مفاد سے نہیں، بلکہ
خدمت، غیر متزلزل اخلاقیات، اور ایک ایسے وژن کے لیے عزم سے ہے جو ذاتی نقصان سے
بھی بالاتر ہو۔
آج، جب کارپوریٹ اسکینڈلز، سیاسی اخلاقیات کے بحران، اور سماجی عدم
مساوات کے خلاف جدوجہد ہمارے سماج کو متاثر کر رہی ہے، کربلا کے یہ اصول – واضح
وژن، حکمت عملی کی عقل مندی، کردار پر مبنی تحریک، اور اخلاقی ثابت قدمی – صرف ایک
تاریخی جھلک نہیں ہیں۔ یہ ایک ضروری "لیڈرشپ گائیڈ" ہیں، جو ہمیں یاد
دلاتے ہیں کہ سب سے مشکل وقتوں میں بھی، انسانی وقار، سچائی اور انصاف کے لیے کھڑے
ہونا ہی حقیقی کامیابی اور لازوال میراث کی بنیاد ہے۔ یہ اسباق صدیوں پرانے ہو سکتے ہیں،
لیکن ان کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
تاریخ کے صفحات اکثر قیادت کے سبقوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ لیکن چند واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں گزرنے کے بعد بھی اپنی گونج اور ریلیوینس برقرار رکھتے ہیں۔ 680 عیسوی میں موجودہ عراق میں پیش آنے والا کربلا کا واقعہ جسے بنیادی طور پر ایک گہرے مذہبی اور تاریخی اہمیت کے حامل واقعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے درحقیقت انسانی ہمت، اخلاقی عزم، اور انتہائی ناموافق حالات میں مثالی قیادت کا ایک شاندار مطالعہ پیش کرتا ہے۔ امام حسین ابن علی کی قیادت میں جو پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) کے نواسے تھے ایک چھوٹی سی جماعت نے ایک طاقتور حکومتی فوج کا سامنا کیا۔ نتیجہ ایک المناک سانحہ تھا لیکن اس جدوجہد میں اختیار کیے گئے قیادتی اصول آج کے کارپوریٹ بورڈ رومز، سیاسی محاز آرائیوں اور سماجی تحریکوں کے لیے ایک زبردست، آزمودہ اور ہمہ جہت ہوئی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
یہ محض عقیدے کی بات نہیں، بلکہ انسانی مزاحمت، اخلاقی سالمیت، اور مشن پر ثابت قدمی کی عالمی داستان ہے۔ آئیے کربلا سے ماخوذ چار بنیادی قیادتی ستونوں کو دیکھتے ہیں، جو آج کے رہنماؤں کے لیے حیرت انگیز طور پر جدید ہیں
سب سے پہلا اصول یہ کہ مصیبت میں بھی وژن نہایت واضح ہو اور نظر کسی طور مشن سے نہ ہٹے ۔جب امام حسین کو حکمران یزید کی بیعت کرنے پر دباؤ ڈالا گیا، جو ان کے نزدیک ظالم اور نااہل تھا، تو انہوں نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا وژن اچھائی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، انسانی وقار کی بحالی اور اپنے نانا کے اصولوں کو زندہ رکھنے پر مرکوز تھا۔ یہ محض نعرہ نہیں تھابلکہ یہ ہر قدم پر ان کی رہنمائی کرنے والا اصول تھا، چاہے مکہ سے روانگی ہو یا کربلا کے میدان میں آخری لمحات۔
بحران یا شدید دباؤ کے وقت، مبہم وژن تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ کامیاب لیڈر – چاہے وہ کسی اسٹارٹ اپ کا سی ای او ہو یا کسی بحران زدہ ملک کا وزیر اعظم – کو اپنے بنیادی مقصد (Core Purpose) اور اقدار (Core Values) کو بار بار، پراعتماد انداز میں بیان کرنا چاہیے۔ یہ وژن صرف منافع یا اقتدار کے بارے میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خدمت، انصاف، یا معاشرے پر مثبت اثرات کے بارے میں ہونا چاہیے۔ یہی وژن مشکل فیصلوں کا معیار بنتا ہے اور ٹیم کو متحد رکھتا ہے جب سب کچھ بکھرتا نظر آ رہا ہو۔
دوسرا اصول عقل مندی کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے جذبات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرناہے۔ امام حسین کا سفر جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ احتیاط، مشاورت، اور گہری حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کوفہ کے لوگوں کے دعووں کی جانچ پڑتال کے لیے اپنے کزن مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ انہوں نے راستے بدلے، مذاکرات کی کوششیں کیں، اور بالآخر کربلا میں ایک ایسی پوزیشن اختیار کی جہاں ان کا پیغام (حتیٰ کہ شکست کے باوجود) تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔ ہر قدم غوروفکر، قابل اعتماد ساتھیوں سے مشورہ، اور موجودہ حالات کے عمیق تجزیے کے بعد اٹھایا گیا۔
حقیقی قیادت جذباتی دھماکہ خیز فیصلوں کی نہیں، بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ اس کا مطلب ہے:
مشاورت: ماہرین، قابل اعتماد
مشیروں اور ٹیم ممبران سے فعال طور پر رائے لینا۔
ڈیٹا اور تجزیہ: خطرات
(Risks)، مواقع
(Opportunities) اور
ممکنہ نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا۔
لچک
(Agility): منصوبے بنانا ضروری ہے،
لیکن نئے حقائق سامنے آنے پر انہیں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔
طویل
مدتی نقطہ نظر: فیصلے صرف فوری نفع کے لیے نہیں، بلکہ اخلاقی سالمیت اور دیرپا
اثرات کی روشنی میں کرنے چاہئیں۔ شارٹ کٹ اکثر طویل مدتی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
تیسرا اصول اپنے کردار سے اپنے فالورز جذبہ پیدا کرنا تاکہ مشن کو متحرک رکھنے والی وفاداری جنم۔امام حسین کے چند سو ساتھیوں (جن میں خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل تھے) نے ناقابل یقین ناموافق حالات میں بے مثال وفاداری، ہمت اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ یہ وفاداری خاندانی تعلق یا خوف کی بنا پر نہیں تھی۔ یہ امام حسین کے کردار، ان کی گہری سچائی، انصاف پسندی، دوسروں کے ساتھ احترام (حتیٰ کہ مخالفین کے ساتھ بھی جنگ کے آداب کا خیال رکھنا)، اور ان کے مشن کی اخلاقی طاقت سے پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے ہر ساتھی کی آواز سنی اور ان کی عزت کی۔
آج کی مسابقتی دنیا
میں، حقیقی وفاداری اور جذبہ خریدا نہیں جا سکتا، یہ کمایا جاتا ہے۔
اس میں سیکھ یہ ہے کہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کردار ہی سب کچھ ہے (Integrity is Currency): سچائی، انصاف، ہمت اور دوسروں کا احترام وہ بنیادیں ہیں جن پر دیرپا اعتماد اور وفاداری تعمیر ہوتی ہے۔ ملازمین وہی لیڈر کی پیروی کرتے ہیں جن پر وہ بھروسہ کرتے ہیں۔
لوگوں کو اپنی ذات کی بجائے مقصد سے جوڑیں لوگ اس وقت سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں جب انہیں لگتا ہے کہ ان کا کام محض نوکری نہیں بلکہ کسی بڑے، معنی خیز مقصد کا حصہ ہے۔ لیڈر کا کام اس مقصد کو زندہ کرنا اور اس سے جڑنا ہے۔
اپنے ساتھ چلنے والوں
کو اختیار دیں اور عزت کریں۔ (Empower & Respect) ٹیم ممبران کو ذمہ داری
دیں، ان کی رائے کو اہمیت دیں، اور ان کی شراکت کو تسلیم کریں۔ یہ احساس دلانا کہ
وہ قیمتی ہیں، گہری وفاداری پیدا کرتا ہے۔
چوتھا اصول یہ کہ اخلاقی بنیادوں ثابت قدمیاختیار کی جائے اوراس میں اصول یہ رکھا جائے کہ سمجھوتہ گناہ ہے۔ کربلا کا سب سے پائیدار سبق شاید یہ ہے: اپنے بنیادی اخلاقی اصولوں پر ثابت قدم رہنا، چاہے اس کی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ یزید کی بیعت کرنا امام حسین کے لیے ایک ایسے نظام کی توثیق کرنا تھا جو ان کے نزدیک ظلم، بدعنوانی اور اخلاقی زوال کی علامت تھا۔ انہوں نے موت کو ترجیح دی لیکن اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ، کربلا میں بھی، انہوں نے جنگ کے اصولوں، پانی تک رسائی جیسے بنیادی انسانی حقوق، اور انصاف پر مبنی رویہ برقرار رکھا۔
سیکھنے کو سبق یہ ہے کہ قیادت کی سب سے مشکل آزمائش اخلاقی ہمت (Moral Courage) کا مظاہرہ کرنا ہے۔
سب سے پہلے دباؤ میں
ڈٹے رہیں۔ منافع، شیئر ہولڈرز کے دباؤ، یا فوری کامیابی کے
لالچ کے خلاف اپنی تنظیم کی بنیادی اقدار
(Integrity, Sustainability, Fairness) پر کھڑے رہنا۔ اینرون یا فولکس ویگن جیسے اسکینڈلز اخلاقی سمجھوتے
کے تباہ کن نتائج کی یاد دہانی کراتے ہیں۔
پھر لیڈر ذمہ داری قبول
کرنے کی ہمت دیکھائے۔ اپنے فیصلوں اور ان کے نتائج کی ذمہ داری لیں۔ کبھی دوسروں پر
الزام نہ ٹھہرائیں۔
حقیقی، دیرپا کامیابی
وہ ہے جو مضبوط اخلاقی بنیادوں پر تعمیر ہو۔ غیر اخلاقی طریقے عارضی فائدہ دے سکتے
ہیں، لیکن وہ آخرکار ساکھ، برانڈ اور تنظیم کی روح کو تباہ کر دیتے ہیں۔ مزدور
استحصال، ماحولیاتی تخریب، یا اندرونی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا اخلاقی ثابت
قدمی کی مثالیں ہیں۔
آخر پہ یہی کہنا چاہوں گا کہ کربلا کا المیہ ایک فوجی شکست تھی، لیکن امام حسین کی قیادت ایک گہرا فکری اور اخلاقی فتح ثابت ہوئی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی قیادت کا تعلق طاقت کے استعمال یا ذاتی مفاد سے نہیں، بلکہ خدمت، غیر متزلزل اخلاقیات، اور ایک ایسے وژن کے لیے عزم سے ہے جو ذاتی نقصان سے بھی بالاتر ہو۔
آج، جب کارپوریٹ اسکینڈلز، سیاسی اخلاقیات کے بحران، اور سماجی عدم
مساوات کے خلاف جدوجہد ہمارے سماج کو متاثر کر رہی ہے، کربلا کے یہ اصول – واضح
وژن، حکمت عملی کی عقل مندی، کردار پر مبنی تحریک، اور اخلاقی ثابت قدمی – صرف ایک
تاریخی جھلک نہیں ہیں۔ یہ ایک ضروری "لیڈرشپ گائیڈ" ہیں، جو ہمیں یاد
دلاتے ہیں کہ سب سے مشکل وقتوں میں بھی، انسانی وقار، سچائی اور انصاف کے لیے کھڑے
ہونا ہی حقیقی کامیابی اور لازوال میراث کی بنیاد ہے۔ یہ اسباق صدیوں پرانے ہو سکتے ہیں،
لیکن ان کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home