Friday, 26 December 2025

فاطمہ جناح کا صدارتی الیکشن: منظم دھاندلی کا پہلا واقعہ جب افواج پاکستان نے مادر ملت غدار وطن قرار دیا

 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 1965 کے صدارتی انتخابات ایک ایسا سنگِ میل ہیں جس نے ملک کے مستقبل کا رخ متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ انتخابات صرف دو شخصیات کے درمیان مقابلہ نہیں تھے بلکہ دو مختلف نظریات—ایک طرف ایوب خان کی صدارتی آمریت اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح کی پارلیمانی جمہوریت—کے مابین ایک عظیم سیاسی معرکہ تھا۔ اس معرکے کی تفصیلات پس منظر اور اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دور کی سیاسی حرکیات اور معتبر تاریخی حوالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان انتخابات نے پاکستانی عوام میں وہ سیاسی شعور بیدار کیا جو بعد ازاں 1969 کی عوامی تحریک کی بنیاد بنا۔

1965 کے انتخابات کا پس منظر 1962 کے اس آئین میں پوشیدہ ہے جسے فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملک پر نافذ کیا تھا۔ اس آئین کے تحت براہِ راست عوامی انتخابات کے بجائے "بیسک ڈیموکریسی " (Basic Democracies) کا بالواسطہ نظام اپنایا گیا تھا۔ الطاف گوہر اپنی کتاب "Ayub Khan: Pakistan's First Military Ruler" میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کا خیال تھا کہ ان 80 ہزار بی ڈی ممبرز پر مشتمل الیکٹورل کالج کو کنٹرول کرنا آسان ہوگا اسی لیے وہ اپنی فتح کے بارے میں مکمل پرامید تھے۔ ایوب خان کے مقابلے میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے متحد ہو کر "کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز" (COP) تشکیل دی جس میں کونسل مسلم لیگ، عوامی لیگ، اور جماعت اسلامی جیسی متضاد نظریات رکھنے والی جماعتیں شامل تھیں۔ ان سب کا واحد نقطہِ اتحاد ایوب خان کی آمریت کا خاتمہ اور پارلیمانی نظام کی بحالی تھا۔

محترمہ فاطمہ جناح، جنہیں قوم مادرِ ملت کے لقب سے یاد کرتی تھی، سیاست سے کنارہ کش تھیں لیکن اپوزیشن کے اصرار پر انہوں نے 71 سال کی عمر میں جمہوریت کی بقا کے لیے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا امیدوار بننا ایوب خان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ وہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ تھیں اور عوام کے دلوں میں ان کا احترام کسی بھی سیاسی عہدے سے بالاتر تھا۔ اسٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب "Jinnah of Pakistan" کے ضمیمے میں تذکرہ کرتے ہیں کہ فاطمہ جناح کی مہم نے پورے ملک میں ایک آگ لگا دی تھی۔ ڈھاکہ سے لے کر کراچی تک، لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ عوام براہِ راست حقِ رائے دہی اور سیاسی آزادی کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران ایوب خان اور ان کی حکومت نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے محترمہ فاطمہ جناح کی ساکھ کو متاثر کیا جا سکے۔ حکومت نواز اخبارات اور ریڈیو پاکستان کو یکطرفہ پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سب سے افسوسناک پہلو وہ مذہبی فتوے تھے جن کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام میں عورت سربراہِ مملکت نہیں بن سکتی۔ انہیں انڈین اور امریکن ایجنٹ کہا، ان کی نجی زندگی کے حوالے سے ان کے قائد اعظم کے ساتھ تعلقات بھی گھٹیا انداز میں پیش کیا۔ اس حوالے سے مہرالنسا علی اپنی تصنیف "Politics of Federalism in Pakistan" میں لکھتی ہیں کہ سرکاری مشینری نے ان فتووں کو دیہی علاقوں میں بی ڈی ممبرز کو متنفر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسری طرف، محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے خطابات میں ایوب خان کے دور کو "بدعنوانی اور جبر کا دور" قرار دیا اور وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آکر 1956 کے آئین کو بحال کریں گی اور بیوروکریسی کے سیاسی عمل میں مداخلت کا خاتمہ کریں گی۔

صدارتی انتخاب کا دن 2 جنوری 1965 مقرر تھا۔ چونکہ ووٹ ڈالنے کا حق صرف 80 ہزار بنیادی ڈیموکریٹس کو حاصل تھا اس لیے حکومت کے لیے جوڑ توڑ کرنا بہت آسان تھا۔ جی ڈبلیو چوہدری اپنی کتاب "The Last Days of United Pakistan" میں انکشاف کرتے ہیں کہ ان انتخابات میں انتظامیہ اور پولیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ بی ڈی ممبرز کو دھمکایا گیا اور ان کے لیے مراعات کے وعدے کیے گئے۔ جب نتائج کا اعلان ہوا تو ایوب خان کو 49,951 ووٹ (تقریباً 63 فیصد) ملے جبکہ محترمہ فاطمہ جناح نے 28,691 ووٹ (تقریباً 36 فیصد) حاصل کیے۔ اگرچہ ایوب خان کامیاب قرار پائے لیکن بڑے شہروں جیسے کراچی اور ڈھاکہ میں فاطمہ جناح نے واضح برتری حاصل کی جس نے یہ ثابت کر دیا کہ ملک کا تعلیم یافتہ طبقہ اور سیاسی شعور رکھنے والے شہری آمریت کے خلاف ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے عوام میں مرکز کے خلاف شدید بے چینی پیدا کی۔ مشرقی پاکستان میں فاطمہ جناح کی مقبولیت نے ایوب خان کو یہ باور کرا دیا کہ ان کی جڑیں وہاں کمزور ہو رہی ہیں۔ حامد خان اپنی معتبر کتاب "Constitutional and Political History of Pakistan" میں تجزیہ کرتے ہیں کہ 1965 کے صدارتی انتخابات نے پاکستان کی سلامتی کے لیے پہلا بڑا خطرہ پیدا کیا کیونکہ عوام کا انتخابی عمل سے اعتماد اٹھ گیا۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ جب تک "بالواسطہ انتخاب" کا نظام موجود ہے وہ کبھی بھی پرامن طریقے سے حکومت تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ یہی وہ احساسِ محرومی تھا جس نے بعد میں شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات اور ایوب خان کے خلاف ملک گیر تحریک کو جنم دیا۔

محترمہ فاطمہ جناح ان انتخابات کے ڈھائی سال بعد وفات پا گئیں لیکن ان کی مختصر سیاسی مہم نے پاکستان کی جمہوری تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ایک مضبوط فوجی حکمران کے سامنے بھی حق کی آواز بلند کی جا سکتی ہے۔ ایوب خان کے لیے یہ فتح دراصل ان کی سیاسی شکست کا آغاز ثابت ہوئی۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد تاشقند معاہدے پر عوامی ردعمل اور پھر ان انتخابات میں کی گئی دھاندلی کے چرچوں نے ایوب خان کے وقار کو خاک میں ملا دیا۔ محققین کے مطابق اگر 1965 میں براہِ راست انتخابات ہوتے تو محترمہ فاطمہ جناح کی جیت یقینی تھی لیکن بی ڈی سسٹم نے ایک آمر کو مزید چند سالوں کے لیے اقتدار سے چمٹے رہنے کا موقع فراہم کر دیا۔

نتیجہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1965 کا صدارتی الیکشن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں ریاست اور عوام کے درمیان تعلق بری طرح متاثر ہوا۔ ایوب خان نے الیکشن تو جیت لیا مگر وہ عوامی تائید کھو بیٹھے۔ ان انتخابات نے یہ سبق دیا کہ عوامی مینڈیٹ کو جبری ہتھکنڈوں سے دبانے کا نتیجہ ہمیشہ سیاسی عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج بھی جب پاکستان میں انتخابی شفافیت کی بات ہوتی ہے تو 1965 کے ان واقعات کو ایک عبرت ناک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو یہ یاد دلاتے ہیں کہ جمہوریت کی روح صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں بلکہ اس ووٹ کے تقدس اور شفافیت میں پنہاں ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home