Saturday, 12 September 2026

بچے کی خوشی؟ یا ذمہ دار شہری


 بچے کی خوشی؟ یا ذمہ دار شہری

تحریر: ابو بکر صدیق
جان روزمنڈ امریکا کا ایک معروف ماہرِ نفسیات اور کالم نگار ہے۔ وہ 1947ء میں پیدا ہوا، یہ وہی سال تھا جب دنیا میں پہلی بار اڑن طشتریاں دیکھے جانے کا چرچا ہوا تھا۔ وہ مسکرا کر کہتا ہے کہ شاید یہ محض ایک اتفاق ہو، لیکن اس کے بعد کی دنیا واقعی بدل گئی۔ روزمنڈ پچھلی کئی دہائیوں سے پورے امریکا میں گھومتا ہے، سیمینارز کرتا ہے اور ہزاروں والدین سے ملتا ہے۔
وہ اپنے ہر سیمینار میں حاضرین کے سامنے ایک سیدھا، سادہ اور دو ٹوک سوال رکھتا ہے۔ وہ مائیک ہاتھ میں پکڑتا ہے، کسی باپ یا ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہے اور پوچھتا ہے:
"بحیثیت ماں یا باپ، آپ کا مشن سٹیٹمنٹ کیا ہے؟ آپ کی زندگی کا نصب العین کیا ہے؟"
اس سوال کے بعد ہال میں مکمل سناٹا چھا جاتا ہے۔ والدین کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ وہ ہڑبڑا جاتے ہیں، ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں اور پھر الٹے سیدھے کندھے اچکانے لگتے ہیں۔ جان روزمنڈ مسکراتا ہے اور کہتا ہے: "حیرت کی بات ہے! آپ نے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کر رکھا ہے جس کی مدت کم از کم 18 سال ہے۔ دنیا کا کوئی شخص بغیر پلان کے ایک چھوٹی سی چائے کی دکان نہیں کھولتا، لیکن آپ اتنے بڑے منصوبے میں بغیر کسی نقشے، بغیر کسی قطب نما کے اتر پڑے ہیں؟ آپ روزانہ صرف دن گزار رہے ہیں، جو سامنے آ گیا اسے نبٹا رہے ہیں؟"
جب وہ والدین کو کریدتا ہے، انہیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے، تو گھنٹوں کے غور و خوض کے بعد ایک روایتی سا جواب نکل کر سامنے آتا ہے:
"ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر خوش رہے اور ایک کامیاب انسان بنے۔"
روزمنڈ یہ سن کر ٹھنڈی آہ بھرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ذرا رکیے اور فلیش بیک میں جائیے۔ 1970ء کی دہائی سے پہلے چلے جائیے۔ اپنے دادا، پردادا کے دور میں جھانکیے۔ اگر آپ اُس دور کے کسی سیدھے سادھے، دیہاتی یا پرانے باپ سے یہی سوال پوچھتے تو وہ بغیر رکے، بغیر جھجھکے صرف ایک جملہ کہتا:
"میرا مقصد اپنے بچے کو ایک ذمہ دار اور باکردار شہری بنانا ہے۔"
آپ دونوں جوابات کا فرق دیکھیے اور سر دھنیے۔
پرانے وقتوں کے والدین سمجھتے تھے کہ ان کا پہلا فرض اپنے معاشرے، اپنی ثقافت اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہے۔ ان کی نگاہ میں بچے کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں تھا کہ وہ کتنا مال کماتا ہے یا کتنا پرتعیش جیتا ہے، بلکہ یہ تھا کہ وہ معاشرے کے لیے کتنا مفید انسان ثابت ہوتا ہے۔ وہ پرسکون تھے، ان کے اعصاب قابو میں تھے اور وہ بچوں کی پرورش کو ایک فطری اور سیدھا عمل سمجھتے تھے۔
اور آج کا منظرنامہ کیا ہے؟ آج کی مائیں اور باپ ڈپریشن کی گولیاں کھا رہے ہیں۔ وہ ہر وقت ذہنی دباؤ، خوف اور اینگزائٹی کا شکار ہیں۔ وہ سارا دن، سارے وسائل اور ساری توانائی صرف اس بات پر جھونک رہے ہیں کہ بچے کو ہر لمحہ خوش کیسے رکھا جائے۔ وہ خاندان کا قیمتی ترین وقت اور لاکھوں روپے ایسی فضول سرگرمیوں پر لٹا رہے ہیں جن کا عملی زندگی، اخلاقیات یا مستقبل کی سنجیدگی سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ زندگی صرف موج مستی کا نام نہیں، زندگی ذمہ داری نبھانے کا نام ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ فوراً دانشمندی کا لبادہ اوڑھ کر کہیں گے: "چوہدری صاحب! زمانہ بدل گیا ہے، یہ اکیسویں صدی ہے۔"
جان روزمنڈ کہتا ہے، جھوٹ مت بولیے! زمانہ ہمیشہ سے بدلتا آیا ہے اور ہمیشہ بدلتا رہے گا۔ زمانہ نہیں بدلا، دراصل ہمارے سوچنے کا زاویہ بدل گیا ہے۔ ہم نے بچوں کو 'معاشرے کی امانت' سمجھنے کے بجائے اپنی انا کا کھلونا بنا لیا ہے۔
کامیاب کمپنیاں وہی ہوتی ہیں جن کا وژن واضح ہو۔ جس بحری جہاز کو اپنی منزل کا پتا نہ ہو، سمندر کی تیز لہریں اسے چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش کر دیتی ہیں۔ آج کے بچے اندر سے کھوکھلے، تنہا اور چڑچڑے کیوں ہو رہے ہیں؟ کیونکہ ان کے کپتان، یعنی ان کے والدین، بغیر کسی مشن سٹیٹمنٹ کے بادبان کھولے بیٹھے ہیں۔
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے گا۔ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ سے پوچھیے گا:
کیا آپ محض ایک ایسا گاہک تیار کر رہے ہیں جو خوشیوں کے تعاقب میں زندگی گزار دے، یا پھر ایک ایسا انسان تراش رہے ہیں جس کے وجود سے کل کو یہ معاشرہ اور یہ کائنات سکھ کا سانس لے سکے؟
فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home