Tuesday, 10 June 2025

حضرت عثمانؓ کی شہادت کی وجوہات اور ریاستوں کے زوال کے اسباب


حضرت عثمانؓ تیسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے بیشمار فضائل ہیں جنہیں یہاں بیان محض کالم کو طوالت سے بچانے کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ آپ کے خلیفہ بننے، آپ کے طرز حکومت اور آپ کی شہادت کے اسباب کو نہایت غور سے پڑھا جانا چاہیے۔ اسی میں وہ سبھی اسباب موجود ہیں جو قوموں کے زوال کے پیچھے کارفرماں ہوتے ہیں۔
آپ کی بطور خلیفہ تقرری جمہوری اصولوں کے مطابق ہوئی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ اپنی شہادت سے قبل چھ معتبر صحابہ اکرام جن سے نبی کریم خوش گئے تھے اور ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا تھا ان پہ مشتمل ایک کمیٹی بنا گئے تھے کہ یہی لوگ آپس میں کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لیں۔ ان چھ افراد نے جب کوئی فیصلہ نہ ہو پایا تو ایک بات پہ اتفاق کر لیا کہ جو لوگ خلافت کے خواہاں نہیں ہیں وہ ان کے حق میں دستبردار ہو جائیں جو خلافت کے خواہاں ہیں۔ اس طرح حضرت زبیر بن العوامؓ حضرت علیؓ کے حق میں حضرت طلحہؓ حضرت عثمانؓ کے حق میں اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ اس طرح خلافت اب چھ کی بجائے تین افراد تک محدود رہ گئی۔ حضرت عبدالرحمانؓ جن کے پاس حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا بھی ووٹ تھا وہ بھی خلافت سے دستبردار ہوئے تو خلافت حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے مابین رہ گئی۔ ان دونوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کو اپنے بیچ ثالث مقرر کر لیا یعنی آپ پہلے چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے۔ آپ نے مدینہ میں موجود سبھی افراد کی رائے معلوم کی۔ بنو امیہ چونکہ کثرت میں تھے اور بااثر بھی تھے اس لیے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر لیا۔ اور حضرت عثمان تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے۔
حضرت عثمانؓ نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد جو اقدامات اٹھائے انہوں نے حضرت عمرؓ کی اٹھائی ہوئی بنیادوں کو ہلانا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ ایک حلیم مزاج انسان تھے انہوں نے بطور خلیفہ یہ بات قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ خلیفہ کی نجی زندگی خلیفہ کی عوامی زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ نجی طور پہ بہت سے معاملات میں آپ درگزر کا رویہ اپنا سکتے ہیں کیوں کہ اس سے صرف آپ کی تنہا ذات متاثر ہو رہی ہوتی۔جبکہ بطور ریاستی سربراہ آپ ویسا رویہ نہیں اپنا سکتے کیوں کہ ان فیصلوں سے عوام متاثر ہوتی ہے۔
دوسرا یہ کہ حضرت عثمانؓ ایک اقربا پرور انسان تھے۔ یہ خاصیت بھی اگر انفرادی سطح پہ ہو تو نہایت احسن ہے لیکن جب بطور سربراہ ریاست اپنائیں گے تو اس سے ریاست میں میرٹ کی دھجیاں بھی اڑیں گی اور ریاست مخالف عناصر کو سر اٹھانے کا موقعہ بھی ملے گا۔
"لوگ حضرت عثمانؓ سے اس لیے ناراض تھے کہ انہوں نے مروان کو مقرب بنا رکھا تھا اور وہ اس کا کہا مانتے تھے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ بہت سے کام جو حضرت عثمانؓ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کا حضرت عثمانؓ نے خود کبھی حکم نہیں دیا بلکہ مروان انس سے پوچھے بغیر اپنے طور پر وہ کام کر ڈالتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ مروان کو مقرب بنانے اور اس کو یہ مرتبہ دینے پر معترض تھے۔"
طبقات، جلد ۵، صفحہ ۳۶
تیسری بات یہ کہ حضرت عثمانؓ ایک اچھے کاروباری منتظم تھے انہوں نے بڑی وسعت دی اپنے کاروبار کواور ان کا شمار ایک بڑے تاجر کے طور پہ ہوتا تھا لیکن ایک اچھا کاروباری منتظم ہونا اور ایک بہترین ریاستی ایدمنسٹریٹر ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ریاست کے معاملات میں آپ کاروباری سوچ کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اپنے کاروبار میں انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو اہم ذمہ داری سونپی جائے تاکہ بھروسہ برقرار رہے۔ لیکن ریاست میرٹ پہ تقرری چاہتی ہے خلیفہ کا رشتہ دار ہونا کسی طور میرٹ کی علامت نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ کوئی بڑے کاروبای نہیں تھے لیکن انہوں نے ریاست کے امور میں جو سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا وہ آج تک فہم سے بالاتر ہے کہ ایک شخص بغیر کسی تربیت کے انتا اعلیٰ درجے کا ریاستی انتظام کیسے کھڑا کر سکتا ہے؟
ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اہل کوفہ کے ایک وفد کا ذکر کیا ہے جو مدینہ میں آکر حضرت عثمانؓ سے ملا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو حضرت عثمانؓ سے اس امر پر بحث کرنے کے لیے بھیجا کہ آپ نے بہت سے صحابہ کو معزول کر کے ان کی جگہ بنی امیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کو گورنر مقرر کیا ہے۔ اس پر ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے بڑی سخت کلامی کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو معزول کر کے دوسروں کو مقرر کریں۔”
آگے چل کر حافظ ابن کثیر پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار جو اُن کے مخالفین کے پاس تھا، وہ یہی تھا کہ:
حضرت عثمان نے اکابر صحابہ کو معزول کر کے اپنے رشتہ داروں کو جو گورنر بنایا تھا اس پر وہ اظہارِ ناراضی کرتے تھے اور یہ بات بکثرت لوگوں کے دلوں میں اُتر گئی تھی۔
جبکہ حضرت عمر نے سعید بن زیدؓ کو خلیفہ کے چناو کے لیے بنائی جانیوالی کونسل میں اسلیے شامل نہیں کیا تھا کہ وہ ان کے رشتہ دار تھے۔ یعنی اس معاملے میں خلہفہ سوئم خلیفہ دوئم مخالف انتہاوں پہ نظر آتے ہیں۔
یہاں ایک سوال یہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ خلیفہ کا رشتہ دار ہونا کوئی گناہ کی بات تو نہیں پھر اتنی سختی کیوں؟ اصل معاملہ خلیفہ کی گرفت کا ہے۔ حضرت عثمانؓ اپنی طبعیت کے باعث یا پیرانہ سالی کی باعث اپنے گورنروں پہ ویسی گرفت نہیں رکھتے تھے جیسی حضرت عمرؓ کی تھی۔ حضرت عثمانؓ نے باغیوں سے مذکرات کرنے کے لیے حضرت علیؓ کو بھیجا تو واپسی پہ حضرت علیؓ نے خلیفہ وقت کو اپنی پالیسی پہ نظر ثانی کا مشورہ دیا تو حضرت عثمانؓ نے کہا جن لوگوں کو میں نے عہدے دیے ہیں اُنہیں آخر عمر ابن الخطابؓ نے بھی تو عہدوں پر مامور کیا تھا، پھر میرے ہی اوپر لوگ کیوں معترض ہیں؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا “عمرؓ جس کو کسی جگہ کا حاکم مقرر کرتے تھے، اس کے متعلق اگر انہیں کوئی قابلِ اعتراض بات پہنچ جاتی تھی تو وہ بری طرح اس کی خبر لے ڈالتے تھے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی برتتے ہیں۔” حضرت عثمانؓ نے فرمایا “وہ آپ کے بھی تو رشتہ دار ہیں۔” حضرت علیؓ نے جواب دیا: بے شک میرا بھی ان سے قریبی رشتہ ہے، مگر دوسرے لوگ ان سے افضل ہیں۔ حضرت عمثانؓ نے کہا “کیا عمرؓ نے معاویہؓ کو گورنر نہیں بنایا تھا؟” حضرت علیؓ نے جواب دیا “عمرؓ کا غلام یرفا بھی ان سے اُتنا نہ ڈرتا تھا جتنے معاویہؓ ان سے ڈرتے تھے، اور اب یہ حال ہے کہ معاویہؓ آپ سے پوچھے بغیر جو چاہتے ہیں کر گذرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عثمانؓ کا حکم ہے، مگر آپ انہیں کچھ نہیں کہتے۔”
(حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۷۷، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۷۶، البدایہ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۸، ابن خلدون تکملہ، جلد دوم صفحہ ۱۴۲
چوتھی بات یہ کہ حضرت عثمانؓ نے شوریٰ کے نظام کو بھی کمزور کر دیا تھا حالانکہ حضرت عمر کے دور حکومت کا سارا انحصار ہی اسی نظام پہ ہوتا تھا۔ انہوں نے کیچن کیبنٹ کی طرز پہ بنو امیہ کے نوجوان لوگوں کو کبار صحابہ پہ ترجیح دینا شروع کر دی تھی جن میں مروان سر فہرست تھا۔ اسی زمانہ فتنہ میں ایک اور موقع پر حضرت علیؓ سخت شکایت کرتے ہیں کہ میں معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور مروان ان کو پھر بگاڑ دیتا ہے۔ آپ خود منبرِ رسول پر کھڑے ہو کر لوگوں کو مطمئین کر دیتے ہیں اور آپ کے جانے کے بعد آپ ہی کے دروازے پر کھڑا ہو کر مروان لوگوں کو گالیں دیتا ہے اور آگ پھر بھڑک اٹھتی ہے۔ حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے متعلق بھی ابن جریر نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ حضرات بھی اس صورتِ حال سے ناراض تھے۔
(حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۸؂۹۸، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۳۸، ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، صفحہ ۱۴۷)
امام ابن حجر عسقلانی بھی اسبابِ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ پر کلام کرتے ہوئے یہی بات کہتے ہیں: "اُن کے قتل کا سبب یہ ہوا کہ بڑے بڑے علاقوں کے حکام ان کے اقارب میں سے تھے۔ پورا شام حضرت معاویہؓ کے ماتحت تھا، بصرے پر سعید بن العاص تھے، مصر پر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے، خراساں پر عبداللہ بن عامر تھے۔ ان علاقوں کے لوگوں میں سے جو لوگ حج پر آتے وہ اپنے امیر کی شکایت کرتے، مگر حضرت عثمانؓ نرم مزاج، کثیر الاحسان اور حلیم الطبع آدمی تھے۔ اپنے بعض امراء کو تبدیل کر کے لوگوں کو راضی کر دیتے اور پھر انہیں دوبارہ مقرر کر دیتے تھے۔۔۔” [حوالہ: الاصابہ فی تمیز الصحابہ، جلد ۲، صفحہ ۴۵۵
پانچویں بات جو کہ نہایت اہم ہے وہ فیصلہ سازی کی قوت ہے۔ حضرت عثمانؓ نے بغاوت کے دوران اس قوت ارادی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کا مظاہرہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فتنہ ارتاد اور منکرین زکوۃ کے خلاف کیا تھا۔ یا جس قوت فیصلہ کا مظاہرہ خوارج کے خلاف حضرت علیؓ نے کیا تھا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نوزائدہ ریاست کی کمان سنبھالی تھی نبی کریم ﷺ چند روز قبل دنیا سے گئے تھے۔ پورا عرب منحرف ہو گیا تھا حضرت عمرؓ جیسے لوگوں نے خیال کیا کہ ہمیں تحمل سے کام لینا چاہیے لیکن حضرت ابوبکر صدیق نے قوت سے فتنہ کچل دینا بہتر خیال کیا جو کہ بہترین فیصلہ تھا اگر آپ اس وقت وہ جواب دیتے جو حضرت عثمانؓ نے باغیوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کے جواز میں دیا تو اسلام بطور ریاستی قوت نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا۔ اسی طرح حضرت علیؓ کو نہروان میں خارجیوں کے خؒاف صورت حال کا سامنا تھا جو اللہ اور قرآن سے نیچے کوئی بات ہی نہ کرتے تھے ایسے میں آپ نے ایک لمحہ کے لیے نہیں سوچا کہ ہم کلمہ گو لوگوں کے خلاف تلوار اٹھا رہے ہیں۔
حضرت عثمانؓ کے خلاف محض دو ہزار افراد نے مدینہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اس وقت مدینہ میں انصار اور مہاجر صحابہ کی تعداد موجود تھی۔مغیرہ بن شعبہ ایام محاصرہ میں حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور کہا:آپ باہر نکل کر بلوائیوں کا مقابلہ کریں،آپ کے پاس ان سے زیادہ فورس ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے ،آپ اپنے گھر کے عقب میں ایک دروازہ بنا لیں اوروہاں سے نکل کر مکہ یا شام کو روانہ ہو جائیں۔عثمان نے وہی جواب دیا جو وہ کئی بار دے چکے تھے:میں اپنا دارِ ہجرت قطعاً نہ چھوڑوں گا اور رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا خون بہانے والا شخص ہر گز نہیں بنوں گا۔ عبداﷲ بن زبیرؓنے بھی ملتا جلتا مشورہ دیا۔انھوں نے کہا:عمرے کا احرام باندھ لیں تاکہ آپ کی جان ان کے لیے حرام ہو جائے،شام کو چلے جائیںیا پھر تلوار اٹھا لیں کیونکہ ان باغیوں سے قتال کرنا جائز ہے۔ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا:یہ لوگ احرام باندھنے کے بعد بھی میرا خون بہانا جائز سمجھیں گے۔میں خوف زدہ ہو کر شام کو بھاگنا بھی نہیں چاہتااور اﷲ سے اس حال میں ملنا چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کی جان نہ لی گئی ہو ۔
اس صورت حال میں حضرت عثمانؓ نے اپنے تقویٰ کو ریاست پہ ترجیح دی۔ وہ صرف مدینہ میں خون نہیں بہانا چاہتے تھے ان کے فیصلے کے بعد امت میں خونریزی کا ایک لا متناہی سلسہ شروع ہوا جو آج تک نہیں تھما۔ انہیں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ جیسی قوت ارادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغاوت کو کچل ڈالنا چاہیے تھا یہ ان کوئی ذاتی فعل نہ تھا نہ ہی اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ہوتا بلکہ یہ ریاستی فعل ہوتا جو بعد از مشورہ اپنایا گیا ہوتا جس سے ریاست تقسیم ہونے سے بچ جاتی۔ ایک مشہور روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے خود یہ بیان دیا کہ اگر آپ قتل کے مجرم ہوتے تو قاضی ہوتے، مگر آپ نے خود کو روکنے کی کوشش کی لیکن باغیوں نے خود ہی قتل کر دیا ۔
آپ شہادت کے محرکات کی فہرست کافی طویل ہے جنہیں ایک کالم میں اکٹھا بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن ریاست زوال پذیر تبھی ہوتی ہے جب حکمران طقبہ کسی بھی وجہ سے اپنی ذات اور ریاست میں فرق نہیں کر پاتا۔ بعض اوقات انسان اپنی ذات کو ریاست کی بقا کے لیے ضروری سمجھ کر ہر چیز کو داو پہ لگا دیتا ہے یہ چیز بھی ریاست کو کمزور کر دیتی ہے یا دوسری شکل میں انسان اپنی ذات میں اخلاقی خوبیوں کو ریاستی ذمہ داریوں پہ حاوی کر لیتا ہے جس سے بدانتظامی پیدا ہوتی اور ریاست کی وحدت کو شدید نقصان پہنچتا۔ ریاست ایک توازن چاہتی ہے

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home