کسی قوم کے شہری جب نیند سے جاگتے ہیں تو ان کے سامنے ایک صبح ہوتی ہے—اور ایک امید۔ مگر اگر وہ صبح اس اعلان کے ساتھ شروع ہو کہ ان کا پورا شہر فوراً خالی کر دیا جائے، کہ وہ تباہی کی زد میں ہے، اور کہ ان کی زندگیاں کسی دشمن فوج کے عتاب میں آ گئی ہیں، تو وہ دن قیامت کی پیش گوئی بن جاتا ہے۔ تہران کے دس ملین شہریوں کو یہ پیغام دینا کہ وہ فوراً اپنے شہر کو چھوڑ دیں، کسی مہذب دنیا کا پیغام نہیں ہو سکتا۔ یہ سفاکی ہے، اور اس سفاکی کا تسلسل کل کو مغرب اور خود امریکہ کی سرزمین پر دہرایا جا سکتا ہے۔
تہران کو خالی کروانے کی پر دھمکی ایک نئی عالمی تباہی کی شروعات ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو خالی کرنے کی جو دھمکی دی گئی ہے، وہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ انسانیت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ یہ محض ایران کے خلاف کوئی محدود فوجی کارروائی کا اشارہ نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہ انسانوں کی اجتماعی ہلاکت کی دھمکی ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب تہران میں کوئی ایٹمی افزودگی کا مرکز تک موجود نہیں تھا—تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ اقدام کیوں؟ اور کس بنیاد پر؟
جواب واضح ہے: یہ اسرائیل کی موجودہ جنگی پالیسیوں کو سہارا دینے، مشرقِ وسطیٰ پر امریکی غلبہ برقرار رکھنے، اور ایران کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔ لیکن یہ طریقہ صرف تباہی کو بڑھائے گا، اور بدترین جنگی نظیر بن جائے گا—جس کا بدلہ کسی دن واشنگٹن، نیویارک، یا لاس اینجلس میں بھی اتر سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے جو کل دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وہی اس میں دفن ہوتے ہیں۔ ہمارا پہلا سوال ہے کہ کیا امریکہ نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا؟ جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے تو صرف جاپانی فوجی نشانہ نہیں بنے تھے، بلکہ عام شہری—بچوں، عورتوں اور بوڑھوں—کی زندگیاں بھسم ہو گئیں۔ یہ جنگی فتح نہ تھی، بلکہ اجتماعی قتلِ عام تھا۔ آج تک ان شہروں میں بچوں کی پیدائشوں میں جینیاتی خرابیاں، نوجوانوں میں کینسر، اور معاشرتی نفسیاتی زخم پائے جاتے ہیں۔
امریکہ نے ہی یہ بدعت قائم کی کہ "فتح" کا مطلب دشمن قوم کے بچوں تک کو تباہ کرنا ہے۔ اور اب، تہران کے دس ملین شہریوں کو نشانہ بنانے کی بات کرتے ہوئے، امریکہ ایک بار پھر اسی جرم کو دہرانے جا رہا ہے۔
صدر ٹمپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اپنی بربادی کا دروازہ آپ خود کھول رہے ہو۔اگر تہران جیسے شہری مراکز کو جنگی ہدف بنانا ایک جائز جنگی حکمتِ عملی بن جاتی ہے، تو کل کو یہی اصول ماسکو، لندن، پیرس، برلن، یا نیویارک پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔ یاد رکھو، تاریخ میں پہلی بار ایسا نہیں ہوگا کہ جنگ کا میدان واپس ان اقوام کے شہروں میں لَوٹ آئے جنہوں نے دوسروں کے گھروں میں جنگ کو جنم دیا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم میں جب جرمن فضائیہ نے لندن پر بمباری کی اور پھر اتحادی افواج نے ڈریسڈن، برلن اور دیگر جرمن شہروں کو آگ میں جھونک دیا، تو وہ سب کچھ اس روش کی یاد دہانی ہے جو آج امریکہ ایران کے خلاف اپنا رہا ہے۔ مگر اس وقت جنگی تباہی کا جواب بھی جنگی تباہی سے دیا گیا۔ آج اگر تہران کو نشانہ بنایا گیا تو کل کوئی ایران یا اس کے اتحادی ممالک امریکی یا اسرائیلی شہری مراکز کو اپنا ہدف بنا سکتے ہیں۔ کیا امریکہ اس خطرناک کھیل کے لیے تیار ہے؟
یہ قیادت نہیں، اشتعال انگیزی ہے — اور اشتعال کی آگ سب کچھ جلا دیتی ہے۔دنیا میں جو قومیں جنگ کو ایک سفارتی آلہ سمجھتی ہیں، وہ جلد یا بدیر خود اس کی لپیٹ میں آتی ہیں۔ آج اگر تہران خالی کرانے کی دھمکی دی جا رہی ہے، تو کل کوئی طاقت نیویارک یا لاس اینجلس کو بھی خالی کرنے کا الٹی میٹم دے سکتی ہے۔ اخلاقیات کی جنگ میں جیت ان کی نہیں ہوتی جو بم زیادہ رکھتے ہیں بلکہ ان کی ہوتی ہے جو انسانی قدروں کو بلند رکھتے ہیں۔
کیا امریکہ تیار ہے؟ امریکہ کو جان لینا چاہیے کہ 2025 کا ایران 1980 کا ایران نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو بیلسٹک میزائلوں، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور علاقائی اتحادی نیٹ ورکس سے لیس ہے۔ تہران کو دھمکی دینا، گویا اُس شہد کے چھتے کو چھیڑنا ہے جس سے پورا علاقہ آگ میں جھونکا جا سکتا ہے۔
تہران جیسے گنجان آباد شہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشنز، اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عام شہریوں کو خوفزدہ کرنا، انہیں ہجرت پر مجبور کرنا، یا جنگی بلیک میل کا نشانہ بنانا بین الاقوامی جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
نو۔رنبرگ مقدمات میں ان رہنماؤں کو سزا دی گئی تھی جنہوں نے عام شہریوں کو دانستہ جنگ کا نشانہ بنایا۔ کیا کل کو امریکی صدر یا ان کے اتحادی بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے؟
ایران کی مزاحمت ایک عالمی تحریک بن سکتی ہے۔ آج اگر تہران پر حملہ کیا جاتا ہے، تو ایران تنہا نہیں ہوگا۔ لبنان کی حزب اللہ، شام کی مزاحمتی قوتیں، عراقی ملیشیائیں، یمن کے حوثی، اور شاید خود ترکی اور روس کی خاموش حمایت — ایک مکمل خطہ جنگ میں دھکیل دیا جائے گا۔
ایران کا ردعمل محدود نہیں ہوگا۔یہ صرف فوجی ٹھکانوں کا جواب نہیں ہوگا بلکہ امریکی اڈوں، بحری بیڑوں، اور شاید خود امریکی زمین پر بھی خفیہ اور علانیہ حملوں کی لہر شروع ہو سکتی ہے۔ جو آگ تہران پر برسائی جائے گی، وہ آگ امریکہ کے اپنے شہروں تک پہنچ سکتی ہے۔
مغرب کے لیے سخت انتباہ ہے کہ
تمہاری تہذیب نے اگر جنگ کو کھیل بنا لیا ہے، تو تیار رہو کہ وہ کھیل تمہارے ہی آنگن میں کھیلا جائے۔
تم نے اگر عام شہریوں کو ہدف بنانا جائز سمجھا ہے، تو یاد رکھو کہ دوسرے بھی اب یہی اصول اپنا سکتے ہیں۔
اگر تم نے تہران کو خالی کرانے کی دھمکی دی ہے، تو کل کو تمہارے اپنے شہر بھی خالی کروائے جا سکتے ہیں۔
یہ کوئی ہالی ووڈ فلم نہیں—یہ حقیقت ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب صرف تمہاری مرضی سے نہیں چلے گی۔ اگر انصاف کی زبان بند ہوگی، تو جنگ کی زبان کھلے گی—اور جنگ کا سب سے پہلا شکار تم خود بنو گے۔
دشمنی کی نہیں، بصیرت کی ضرورت ہے۔دنیا کو جنگ سے نہیں، عقل و حکمت سے چلایا جا سکتا ہے۔ تہران پر دھمکی امن کی نہیں، وحشت کی علامت ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی یہی راستہ اپناتے رہے، تو وہ صرف ایران کو نہیں، بلکہ خود اپنے مستقبل کو بھی خاک میں ملا دیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ انسانیت کی طرف واپس لوٹا جائے—ورنہ جنگ کے شعلے تمہاری اپنی نسلوں کو جلا کر راکھ کر دیں گے۔
0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home