Friday, 27 June 2025

کربلا کا پہلا "میڈیا وار": حقائق کو چھپانے اور سچائی کو پھیلانے کی ابدی جنگ


آج کی دنیا میں، جہاں "فیک نیوز" اور "انفارمیشن وارفیئر" کی اصطلاحات عام ہیں، ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ حقائق کو مسخ کرنے اور بیانیے پر قابو پانے کی جنگیں تاریخ میں صدیوں سے لڑی جاتی رہی ہیں۔ 680 عیسوی میں پیش آنے والا واقعہ کربلا، جس میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے نواسے، امام حسینؓ، کو ان کے اہل خانہ اور چند جاں نثاروں کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا محض ایک فوجی تصادم نہیں تھا۔ یہ ایک گہری ابلاغیاتی جنگ تھی، ایک ایسا "میڈیا وار" جہاں طاقتور حکمران نے سچائی کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی اور جہاں مظلوم نے اپنی قربانی اور پیغام کے ذریعے باطل کے بیانیے کو پاش پاش کر دیا۔ اس آرٹیکل میں ابتدائی اسلامی تاریخ کے مستند مآخذ کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح یزیدی حکومت نے ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلائی، اور کیسے اہلبیتِ رسول ﷺ نے، بالخصوص سیدہ زینبؓ اور امام زین العابدینؓ نے، انتہائی نامساعد حالات میں سچائی اور مظلومیت کے بیانیے کو مؤثر طریقے سے پھیلا کر اموی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور تاریخی بیانیے کا رخ بدل دیا۔
یزید بن معاویہ، جو اپنے والد کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ اس کی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج اس کا اپنا غیر اسلامی کردار اور اس کی حکمرانی کا جواز تھا۔ یزید شراب نوشی اور دیگر گناہوں میں ملوث تھا جو اسلامی اصولوں کے سراسر منافی تھا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے نواسے امام حسینؓ نے، جو امت میں ایک اعلیٰ اخلاقی و روحانی مقام رکھتے تھے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا اور اسے فسق و فجور اور اسلامی اقدار سے انحراف قرار دیا۔ یہ انکار دراصل یزید کے اقتدار کے لیے ایک براہ راست اخلاقی و شرعی چیلنج تھا۔ یزید کو معلوم تھا کہ فوجی فتح کے باوجود اگر اس کے اقتدار کو عوام الناس میں جائز تسلیم نہ کیا گیا تو وہ دیرپا نہیں ہوگا۔ چنانچہ اس نے ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا آغاز کیا تاکہ امام حسینؓ کے قیام کو بدنام کر سکے اور اپنے اقدامات کو شرعی جواز فراہم کر سکے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے یزیدی حکومت کی حکمت عملی کا مرکزی نقطہ امام حسینؓ کو اسلامی حکومت کے خلاف "باغی" (خارجی)کے طور پر پیش کرنا تھا۔ یزید کا کوفہ کا گورنر ابن زیاد اس مہم کا ایک اہم ستون تھا۔ اس نے کوفہ میں اپنے خطبات اور حکومتی پیغامات میں بارہا امام حسینؓ کو ایسا شخص قرار دیا جو مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانا چاہتا تھا۔ تاریخ طبری (جلد 4، صفحات 254-255) میں ایسی روایات ملتی ہیں جہاں ابن زیاد نے اپنے سپاہیوں اور عوام کو حکم دیا کہ وہ امام حسینؓ کے "خروج" کو بغاوت سمجھیں اور انہیں کچلنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عام لوگ امام حسینؓ کی حقیقی نیتوں سے لاعلم رہیں اور انہیں صرف ایک سیاسی اقتدار کے خواہشمند کے طور پر دیکھیں۔
دوسرے مرحلے میںیزید نے اپنے اقتدار کو مذہبی سند دینے کے لیے درباری علماء کا سہارا لیا۔ ان علماء نے یزید کی اطاعت کو واجب قرار دیا اور امام حسینؓ کے اقدام کو اسلام سے انحراف بتایا۔ اگرچہ اس دور کے فتووں کی براہ راست اسناد بہت کم ملتی ہیں جو اس حد تک جائیں، لیکن تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے لیے بعض مذہبی شخصیات کو استعمال کیا۔ ابن تیمیہ جیسے بعد کے علماء کی تحریروں میں بھی حکمران کی اطاعت پر زور دینے والی روایات ملتی ہیں، جو اگرچہ براہ راست یزید کی تائید نہیں کرتیں، مگر اس دور کے فکری ماحول کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں حکمران اپنی مرضی کے مطابق فتوے دلواتے۔ یزید نے عوامی ذہنوں میں یہ تاثر بٹھایا کہ جو اس کی اطاعت نہیں کرتا وہ دراصل اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کر رہا ہے۔
تیسرے درجے میں کربلا کے خونریز واقعے کے بعد یزید نے حقائق کو مسخ کرنے اور اپنی افواج کی بربریت کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے قاصدوں نے فتح کی خبروں کو مبالغہ آرائی سے پیش کیا اور کربلا کی وحشت کو کم کر کے دکھایا۔ تاریخ طبری (جلد 4، ص 348) میں مروی ہے کہ یزید کے دربار میں جب فتح کی خبر پہنچی تو اسے اس انداز میں پیش کیا گیا کہ گویا یہ ایک چھوٹی سی بغاوت تھی جسے کامیابی سے کچل دیا گیا اور حسینؓ کو "خارجی" کے طور پر سزا دی گئی۔ اس وقت کے مواصلاتی ذرائع کی کمی کی وجہ سے سچی خبریں عام لوگوں تک مشکل سے پہنچتی تھیں جس نے یزید کو اپنے بیانیے کو پھیلانے کا موقع دیا۔
چوتھے درجے میں یزید کی حکمت عملی کا ایک اور اہم ستون خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ کوفہ میں امام حسینؓ کے حامیوں جیسے حضرت مسلم بن عقیلؓ کے قتل اور ان کے سروں کو بازاروں میں دکھانے کا مقصد لوگوں میں خوف پیدا کرنا تھا تاکہ کوئی بھی یزید کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہ کرے۔ مقتل الحسین للخوارزمی اور دیگر مآخذ میں اس سفاکی کا ذکر ہے۔ کربلا کے بعد اہلبیتؓ کو قیدی بنا کر مختلف شہروں میں ذلت آمیز طریقے سے پھرانا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ جس کا مقصد عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ یزید کی طاقت مطلق ہے اور اس کے خلاف کوئی سر نہیں اٹھا سکتا۔ یہ حربے آج کے ریاستی جبر اور پروپیگنڈے میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ جہاں آزادیٔ اظہار کو دبانے کے لیے خوف کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
یزید کے اس منظم پروپیگنڈے اور طاقت کے مظاہرے کے جواب میں، امام حسینؓ اور ان کے قافلے نے خاص کر کربلا کے بعد ان کی بہن سیدہ زینبؓ اور بیٹے امام زین العابدینؓ نے ایک ایسا "کاؤنٹر نیریٹو" (Counter-Narrative) تشکیل دیا جو نہ صرف یزید کے جھوٹ کو بے نقاب کر گیا بلکہ اس کی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔ ان کے پاس نہ فوج تھی، نہ ریاستی وسائل، لیکن ان کے پاس سچائی کی طاقت، مظلومیت کا استعارہ اور پیغمبر ﷺ کی وراثت تھی۔
اس سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ معاون ثابت ہوئی وہ یہ کہ امام حسینؓ نے اپنے قیام کا مقصد پہلے دن سے ہی واضح کر دیا تھا۔ انہوں نے مدینہ سے روانگی کے وقت، مکہ میں قیام کے دوران، اور راستے میں ہر پڑاؤ پر اپنے خطبات اور وصیت نامے کے ذریعے یہ واضح کیا کہ ان کا خروج صرف اور صرف امت کی اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) اور جد رسول ﷺ کے دین کی حفاظت کے لیے ہے۔ تاریخ طبری (جلد 4، ص 266-267) میں امام حسینؓ کا مشہور وصیت نامہ درج ہے جس میں آپ نے اپنے قیام کے مقاصد کو بیان فرمایا۔ الفتوح لابن اعثم الکوفی میں آپ کے مختلف خطبات کا ذکر ہے جہاں آپ نے واضح کیا کہ آپ کا مقصد فساد نہیں بلکہ اصلاح ہے۔ یہ وہ واضح اور اٹل پیغام تھا جو یزید کے بیانیے کی مکمل نفی کرتا تھا۔
دوسرے مرحلے میں کربلا کا میدان اور اس میں پیش آنے والے دلخراش واقعات نے خود ایک طاقتور پیغام بن کر کام کیا۔ امام حسینؓ کی شہادت، آپ کے اہل خانہ اور بچوں کی پیاس، چھ ماہ کے بچے حضرت علی اصغرؓ کی شہادت، اور خیموں کا جلایا جانا—یہ تمام مناظر وہ بصری ثبوت تھے جو یزیدی بربریت کی داستان سنا رہے تھے۔ ارشاد شیخ مفید (ص 241) اور تاریخ طبری (جلد 4، ص 343) میں ان دلخراش واقعات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ مناظر گواہ تھے کہ یہ ایک ایسی جنگ نہیں تھی جو صرف سیاسی اقتدار کے لیے لڑی گئی ہو، بلکہ یہ ایک اخلاقی اور روحانی جنگ تھی جہاں حق کے علمبرداروں کو بے رحمی سے کچل دیا گیا۔ ان بصری حقائق نے یزیدی پروپیگنڈے کو بے معنی کر دیا۔
تیسرے مرحلے میں سیدہ زینبؓ کی جرات مندانہ آواز نے یذیدی بندوبس کی چولیں ہلا دیں۔ یزید نے اہلبیتؓ کو قیدی بنا کر کوفہ اور دمشق کے درباروں میں پیش کیا تاکہ ان کی تذلیل کر سکے اور لوگوں میں خوف پیدا کرے۔ لیکن سیدہ زینبؓ نے ان مواقع کو اپنی بات پہنچانے کے لیے استعمال کیا جو آج کے "پریس کانفرنسز" یا "عوامی بیانات" کی حیثیت رکھتے تھے۔
پہلے جب کوفہ کے بازار میں قیدیوں کو لایا گیا تو سیدہ زینبؓ نے ابن زیاد اور کوفیوں کو ان کے منافقانہ کردار اور امام حسینؓ سے غداری پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقتل الحسین للخوارزمی اور احتجاج طبرسی میں اس خطبے کی تفصیلات موجود ہیں جہاں آپ نے کوفیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اے اہل کوفہ! اے فریب، دغا اور بے وفائی والو! تم پر ہمیشہ آنسوؤں کا سیلاب رہے، تمہارے سینوں میں آہ و بکا کے شعلے بھڑکتے رہیں!" یہ خطبہ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں دیا گیا اور اس نے کوفہ کے عوام پر گہرا اثر ڈالا، جس سے ابن زیاد کو غصہ آیا اور اسے محسوس ہوا کہ اس کا پروپیگنڈا ناکام ہو رہا ہے۔
پھر جب دمشق میں یزید کے دربار میں سیدہ زینبؓ کا تاریخی خطبہ ایک اور اہم موڑ تھا۔ جب یزید نے امام حسینؓ کے سر مبارک کی بے حرمتی کی اور اپنی فتح کا جشن منایا تو سیدہ زینبؓ نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ ہم کو در بدر پھرانے سے تو ہم کو ذلیل و رسوا کر سکتا ہے اور خدا کی بارگاہ میں تیری عزت افزائی ہو گئی؟... تو آج خوش ہو رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ تو نے دنیا حاصل کر لی ہے۔ لیکن تیرا یہ غرور، تیری یہ کامیابی صرف عارضی ہے۔" (لہوف سید ابن طاؤوس، طبقات ابن سعد میں اس واقعے کی روایت ملتی ہے، اگرچہ الفاظ میں تھوڑا اختلاف ہو سکتا ہے، اصل واقعے پر اتفاق ہے)۔ یہ خطبہ یزید کے تخت کو ہلا دینے والا تھا کیونکہ یہ اس کے اپنے دربار میں اس کے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر رہا تھا۔
چوتھے درجے میں امام زین العابدینؓ، جو کربلا میں موجود تھے اور بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہ لے سکے، کربلا کے چشم دید گواہ تھے۔ انہوں نے اپنی بیماری کے باوجود یزید کے دربار میں اور بعد میں مدینہ واپسی پر حقائق کو بیان کیا۔ دمشق میں یزید کے دربار میں آپ کا ایک خطبہ ہے جہاں آپ نے اپنی شناخت اور اپنے خاندان کے مقام کو واضح کیا (لہوف، مقتل خوارزمی)۔ آپ نے یہ واضح کیا کہ وہ کون ہیں اور یزید نے کس طرح پیغمبر ﷺ کے گھرانے پر ظلم ڈھایا ہے۔ آپ کی دعائیں، جو "صحیفہ سجادیہ" کے نام سے مشہور ہیں، بھی کربلا کے روحانی اور اخلاقی فضا کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں صبر، توکل اور اللہ سے لو لگانے کا پیغام نمایاں ہے۔
پانچویں درجے میں اہلبیتؓ نے اپنی مظلومیت کو ایک طاقتور ابلاغی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ان کی قید، بچوں کی پیاس اور خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم نے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔ تاریخ طبری اور الفتوح میں قیدیوں کی حالت، بھوک پیاس کا تذکرہ، اور خواتین و بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بار بار تذکرہ ملتا ہے جس نے ایک جذباتی لہر دوڑا دی اور یزید کی بے رحمی کو اجاگر کیا۔ یہ بیانیہ خشک پروپیگنڈے کے برعکس عوامی جذبات کو متحرک کرنے میں کامیاب رہا۔
چھٹے درجے میں کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنے کے لیے امام زین العابدینؓ نے منظم طریقے سے عزاداری (سوگ منانا) کی بنیاد رکھی۔ بحار الانوار اور مناقب آل ابی طالب میں مروی ہے کہ آپ تمام عمر کربلا پر گریہ کرتے رہے اور لوگوں کو اس کی یاد دلاتے رہے۔ یہ روایت بعد میں مجالس، نوحوں اور مرثیہ خوانی کی شکل اختیار کر گئی، جس نے پیغام کو نسل در نسل منتقل کیا۔ اس طرح، کربلا کا پیغام صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک زندہ تحریک بن گیا جو آج تک جاری ہے۔ یہ آج کے دور میں "میموریلائزیشن" اور "کیپسولائزیشن" کا ایک دیرپا ماڈل ہے جہاں کسی واقعے کو مختلف طریقوں سے یاد رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی معنویت برقرار رہے۔
کربلا کا "میڈیا وار" ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ طاقت اور پروپیگنڈا ہمیشہ سچائی پر غالب نہیں آتے۔ یزید کی فوجی فتح کے باوجود، وہ ابلاغی جنگ ہار گیا اور عوامی رائے اس کے خلاف ہو گئی۔ یزید کا اقتدار محض تین سال کا رہا اور اس کے بعد اس کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا (تاریخ یعقوبی، تاریخ طبری)۔ اس کی ساکھ ہمیشہ کے لیے خراب ہو گئی اور وہ اسلامی تاریخ میں ایک ظالم اور فاسق حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، کربلا کے بیانیے نے عالمگیر اثرات مرتب کیے۔ یہ واقعہ ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق پرستی کی ایک ابدی علامت بن گیا۔ ہر دور میں حریت پسند تحریکوں اور انقلابات میں کربلا کے پیغام کو استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جیسے کہ ایرانی انقلاب میں امام خمینی کا امام حسینؓ کی مثال دینا۔ کربلا نے اسلامی فقہ، ادب (مرثیہ، نوحہ)، شاعری اور ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، ترکی اور دیگر زبانوں میں بے شمار مرثیے اور کتب کربلا سے متاثر ہیں۔ عاشورہ کی رسومات اور مجالس کا دنیا بھر میں اہتمام اس کی زندہ مثال ہے۔
کربلا کے واقعے نے مسلم معاشروں میں سیاسی بیداری پیدا کی اور بنی امیہ کے ظلم کے خلاف کئی تحریکوں کو جنم دیا، جن میں توابین کی تحریک اور مختار ثقفی کی تحریک قابل ذکر ہیں۔ یہ تحریکیں، جن میں کربلا کا انتقام ایک اہم محرک تھا، بالآخر عباسی انقلاب پر منتج ہوئیں جس نے بنی امیہ کی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا (تاریخ طبری، تاریخ ابن خلدون)۔
کربلا کا واقعہ محض ایک فوجی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ حقائق، بیانیے اور تاثرات کی ایک عظیم جنگ تھی۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جہاں ایک طاقتور حکومت نے اپنے وسائل، فوج اور پروپیگنڈے کے ذریعے سچائی کو دبانے کی کوشش کی، لیکن ایک کمزور اور مظلوم گروہ نے، اپنی قربانیوں اور سچے بیانیے کی طاقت سے، اس پروپیگنڈے کو شکست دی۔ یزید کی فوجی فتح محض عارضی تھی، لیکن امام حسینؓ اور اہلبیت کا بیانیہ دائمی بن گیا۔
آج جب ہم ڈیجیٹل پروپیگنڈے، فیک نیوز، ریاستی پروپیگنڈے اور میڈیا مینیپولیشن کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، کربلا کا یہ "پہلا میڈیا وار" ایک گہرا اور لازوال سبق فراہم کرتا ہے: سچائی کو چھپانا کبھی ممکن نہیں ہوتا اور مظلوم کی آواز بالاخر دور دور تک پہنچتی ہے۔ یہ مقالہ اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ کربلا کی داستان صرف مذہبی عقیدت کا حصہ نہیں بلکہ تاریخی، سیاسی اور ابلاغیاتی علوم کے لیے بھی ایک بھرپور اور لازوال کیس سٹڈی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچائی کو دبانا کبھی ممکن نہیں ہوتا اور مظلوم کی آواز بالاخر غالب آ کر رہتی ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home