Sunday, 21 December 2025

"پہلی ٹیڑھی اینٹ: وہ خفیہ سازش جس نے ایوب خان کو آرمی چیف اور پاکستان کو آمریت کا غلام بنا دیا"

پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ میں 1951 کا سال ایک ایسے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس نے آنے والی کئی دہائیوں کے لیے ملک کے نظم و نسق اور طاقت کے توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ جیسا کہ معروف دفاعی تجزیہ نگار حسن عسکری رضوی اپنی معرکتہ الآرا کتاب "دی ملٹری اینڈ پولیٹکس ان پاکستان" میں رقم کرتے ہیں کہ   پاکستان کے ابتدائی برسوں میں فوجی قیادت کی تعیناتی محض ایک انتظامی یا محکمانہ معاملہ نہیں رہا تھا بلکہ یہ ایک پیچیدہ سیاسی، نفسیاتی اور قومی سطح پر دور رس اثرات مرتب کرنے والا فیصلہ بن چکا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد نوزائیدہ ریاست پاکستان کو جہاں بے شمار انتظامی اور مالی مشکلات کا سامنا تھا، وہیں ایک قومی فوج کی تشکیل اور اس کی قیادت کا مسئلہ بھی درپیش تھا۔ 1948 میں جب برطانوی جنرل سر ڈگلس گریسی کو کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا تو یہ ایک عبوری انتظام تھا۔ تاہم، جنوری 1951 میں جنرل گریسی کی مدتِ ملازمت کے خاتمے کے قریب آتے ہی یہ بحث زور پکڑ گئی کہ اب پاکستانی فوج کی باگ ڈور کسی مقامی افسر کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ اس وقت قوم یہ توقع کر رہی تھی کہ اس حساس عہدے پر تقرری خالصتاً سینیارٹی، پیشہ ورانہ مہارت اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی، مگر اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی جوڑ توڑ اور زمینی حقائق اس عوامی توقع سے یکسر مختلف نکلے۔

ڈاکٹر عائشہ جلال اپنی مایہ ناز تصنیف "اسٹیٹ آف مارشل رول" میں اس دور کے پردہ نشین حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھتی ہیں کہ 1950 کے آغاز تک فوجی قیادت کے لیے سب سے موزوں اور سینیئر ترین امیدوار میجر جنرل افتخار خان تھے۔ انہیں ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور قائدِ اعظم کی پسندیدگی کی وجہ سے پہلے ہی مستقبل کا آرمی چیف نامزد تصور کیا جا رہا تھا مگر قدرت کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا؛ دسمبر 1949 میں ایک المناک ہوائی حادثے میں میجر جنرل افتخار خان اور ان کے ساتھ ایک اور قابل افسر میجر جنرل شیر خان جاں بحق ہو گئے۔ اس اچانک حادثے نے پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا جس نے سینیارٹی کی ترتیب کو درہم برہم کر دیا۔ اس واقعے کے بعد قیادت کی دوڑ میں جو تین اہم نام سامنے آئے، ان میں میجر جنرل اکبر خان، میجر جنرل این اے ایم رضا (نصیر احمد رضا) اور میجر جنرل محمد ایوب خان شامل تھے۔ ان میں ایوب خان سینیارٹی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر تھے اور ان کا کیریئر ریکارڈ بھی ان کے حریفوں کے مقابلے میں اتنا شاندار نہیں تھا لیکن یہاں سے شخصی لابنگ اور سیاسی اثر و رسوخ کا وہ کھیل شروع ہوا جس نے میرٹ کو پسِ پشت ڈال دیا۔

الطاف گوہر اپنی کتاب "ایوب خان: پاکستان کے پہلے فوجی حکمران" میں ان پسِ پردہ محرکات کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں جن کی وجہ سے ایوب خان کو برتری حاصل ہوئی۔ ایوب خان نے اس غیر متوقع موقع کو بھانپ لیا تھا اور انہوں نے پیشہ ورانہ محاذ کے بجائے سیاسی محاذ پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنا شروع کی۔ اس وقت وزارتِ دفاع کے طاقتور سیکریٹری اسکندر مرزا تھے، جو بیوروکریسی اور سیاست کے گٹھ جوڑ میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ ایوب خان نے اسکندر مرزا سے اپنے ذاتی مراسم کو اس حد تک بڑھایا کہ وہ ان کے معتمدِ خاص بن گئے۔ اسکندر مرزا اور ایوب خان کے درمیان تعلقات کی نوعیت محض افسر اور ماتحت کی نہیں تھی بلکہ یہ دو ایسے افراد کا ملاپ تھا جو اقتدار کی بساط پر مہرے ہلانا جانتے تھے۔ الطاف گوہر اور دیگر مورخین کے مطابق، ایوب خان جب ایبٹ آباد یا راولپنڈی سے کراچی آتے، تو ان کا زیادہ وقت اسکندر مرزا کے ساتھ گزرتا۔ ان ملاقاتوں میں ایوب خان نے بڑی مہارت سے اس وقت کے دیگر اہم فوجی کرداروں، بالخصوص میجر جنرل اکبر خان کے خلاف "ذہنی فائلیں" تیار کیں۔ انہوں نے اسکندر مرزا کو یہ باور کرایا کہ اکبر خان کے خیالات حد سے زیادہ خود مختار، قوم پرستانہ اور پین اسلامک (Pan-Islamic) ہیں، جو مغرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات اور ملک کے اندرونی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسکندر مرزا، جو کہ خود برطانوی طرز کی بیوروکریسی کے تربیت یافتہ تھے، ایک ایسے "باغی" جرنیل کے بجائے ایوب خان جیسے "ڈسپلن کے پابند" اور "مغرب نواز" شخص کو ترجیح دیتے تھے جو بیوروکریسی کے مفادات کو تحفظ دے سکے۔

ڈاکٹر عائشہ جلال کے مطابق، ایوب خان کی تقرری کے پیچھے برطانوی اثر و رسوخ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنرل ڈگلس گریسی نے سبکدوش ہوتے وقت حکومت کو جو سفارشات دیں ان میں بھی ایوب خان کا ذکر مثبت انداز میں کیا گیا تھا کیونکہ برطانوی قیادت ایوب خان کو ایک "اعتدال پسند" اور "سمجھدار" افسر سمجھتی تھی۔ اس کے برعکس میجر جنرل این اے ایم رضا کو ایک حد تک روایتی اور میجر جنرل اکبر خان کو "غیر متوقع" (Unpredictable) قرار دیا گیا۔ یوں ایوب خان نے اندرونی لابنگ اور بیرونی حمایت کے امتزاج سے وہ راستہ ہموار کیا جہاں سینیارٹی کے تمام اصول دھندلا گئے۔

 لارنس زرنگ اپنی کتاب "پاکستان ان دی ٹوینٹیئتھ سنچری" میں اس سیاسی نفسیات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ اسکندر مرزا ایک ایسی شخصیت کی تلاش میں تھے جو ان کے کنٹرول میں رہ سکے۔ میجر جنرل اکبر خان چونکہ راولپنڈی سازش کیس کے پس منظر میں ایک باغی ذہن کے مالک سمجھے جاتے تھے اس لیے مرزا نے انہیں ناموزوں قرار دیا۔ ایوب خان کو ایک "سیاسی طور پر بے ضرر" شخصیت تصور کیا گیا، اور یہی ان کی اصل طاقت بن گئی۔ حسن عسکری رضوی کے مطابق، ایوب خان کی تقرری اس وقت عمل میں آئی جب وزیراعظم لیاقت علی خان نے وزارت دفاع کی سفارشات کو قبول کر لیا۔ 17 جنوری 1951 کو ایوب خان کو کمانڈر ان چیف مقرر کر دیا گیا جس نے فوج کے اندر میرٹ اور سینیارٹی کی روایت کو یکسر بدل دیا۔

ڈاکٹر رفعت حسین اپنی تحقیق "سول ملٹری ریلیشن ان پاکستان" میں بیان کرتے ہیں کہ ایوب خان کی کامیابی نے پاکستان میں ایک نئی مثال قائم کی وہ یہ کہ  اب اعلیٰ فوجی عہدوں پر پہنچنے کے لیے محض پیشہ ورانہ صلاحیت کافی نہ رہی بلکہ سیاسی ذہانت اور حکومتی اہلکاروں سے قربت بھی ضروری ہو گئی۔ ڈاکٹر اے کے بروہی کے مطابق اس فیصلے نے سویلین قیادت کی کمزوری کو بے نقاب کیا جو ایک تابعدار افسر کی تلاش میں میرٹ کو بھول گئے، اور یہی فیصلہ بعد کے برسوں میں ان کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ پروفیسر سجاد نصیر لکھتے ہیں کہ یہ ایک نفسیاتی تبدیلی تھی جس نے ثابت کیا کہ ادارے نہیں بلکہ افراد فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ اپنی کتاب "ملٹری انکارپوریٹڈ" میں رقم کرتی ہیں کہ ایوب خان کی ابتدائی لابنگ نے واضح کر دیا کہ فوج اب محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک طاقتور سیاسی پلیئر بن چکی ہے۔ ایوب خان نے بعد میں اپنی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز" میں سیاست دانوں کو نالائق قرار دیا، مگر وہ یہ بھول گئے کہ انہیں اس مقام تک پہنچانے والے یہی سیاست دان تھے۔ ڈاکٹر مظفر اقبال کے بقول، ایوب خان کا آرمی چیف بننا دراصل پاکستان میں سول-فوجی توازن کے بگڑنے کی پہلی اینٹ تھی، جس نے مستقبل کے مارشل لاؤں کی راہ ہموار کی۔

ایوب خان کی آرمی چیف کے طور پر تقرری کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ محض ایک فرد کی ترقی کا قصہ نہیں تھا بلکہ ایک قومی ادارے کی ساخت اور روح میں تبدیلی کا نقطہ آغاز تھا۔ جب 17 جنوری 1951 کو سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر موجود ایک جونیئر میجر جنرل کو پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے سیاسی وفاداری اور "محلاتی روابط" کی بنیاد پر کمانڈر ان چیف بنایا گیا تو اسی دن پاکستان میں میرٹ کے نظام کی تدفین ہو گئی تھی۔ اس فیصلے نے نہ صرف میجر جنرل اکبر خان اور میجر جنرل این اے ایم رضا جیسے سینیئر افسران کی حق تلفی کی بلکہ فوجی نظم و ضبط کے اندر اس مہلک تصور کو جنم دیا کہ اقتدار کی راہداریاں سرحدوں کے محاذ سے زیادہ اہم ہیں۔

تاریخی تناظر میں یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ایوب خان کی یہ تقرری وہ پہلی ٹیڑھی اینٹ تھی جس پر پاکستان کے سیاسی عدم استحکام کی پوری عمارت کھڑی ہوئی۔ سویلین قیادت بالخصوص اسکندر مرزا اور لیاقت علی خان، نے اپنی سیاسی بقا کے لیے ایک "مطیع" جرنیل کا انتخاب کر کے جس مصلحت پسندی کا مظاہرہ کیا وہی مصلحت بعد میں ان کی اپنی سیاسی موت کا سبب بنی۔ ایوب خان نے جس دروازے سے سیاست میں قدم رکھا اسی دروازے سے بعد میں آنے والے جرنیلوں نے بھی اقتدار کے ایوانوں کا رخ کیا جس کے نتیجے میں ملک دہائیوں تک مارشل لا، آمریت اور آئینی بحرانوں کی گرفت میں رہا۔ جب ریاستیں اداروں کے بجائے افراد پر تکیہ کرتی ہیں اور ضابطوں کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھاتی ہیں تو اس کا انجام ایک دائمی عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو چکانی پڑتی ہے۔

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home