دوسو کیس: پاکستان میں نظریۂ ضرورت اور آئینی ارتقا
ریاست
بنام دوسو (PLD 1958 SC 533) پاکستان
کی آئینی تاریخ میں محض ایک فوجداری اپیل نہیں بلکہ ایک ایسا عدالتی موڑ ہے جس نے
ریاست کے پورے آئینی ڈھانچے کی سمت متعین کر دی۔ یہ مقدمہ اس بنیادی سوال کا
عدالتی جواب بن گیا کہ آیا آئین طاقت کے سامنے مغلوب ہو سکتا ہے یا نہیں۔ سپریم
کورٹ کے اس فیصلے کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک غیر آئینی اقدام—یعنی آئین کی منسوخی
اور مارشل لا—کو قانونی جواز فراہم کیا گیا جس کے اثرات دہائیوں تک ملکی سیاست،
آئینی تسلسل اور عدلیہ کے وقار پر مرتب ہوتے رہے۔ اس فیصلے نے بعد کی فوجی
مداخلتوں کے لیے ایک فکری و قانونی نظیر فراہم کی، جسے خود عدلیہ نے بعد ازاں غلط
تسلیم کیا، مگر عملاً اس کے مضمرات ختم نہ ہو سکے۔
1956
کا آئین پاکستان کا پہلا متفقہ آئین
تھا جو طویل سیاسی جدوجہد کے بعد نافذ ہوا مگر یہ آئین دو برس بھی برقرار نہ رہ
سکا۔ 7 اکتوبر 1958 کو صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کرتے ہوئے قومی و
صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ جنرل محمد ایوب
خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیاکیتھ کالارڈ (Keith Callard) نے اپنی کتاب Pakistan:
A Political Study میں لکھا کہ یہ اقدام دراصل سول بالادستی کے
تصور کا خاتمہ اور ریاستی طاقت کے عسکری ارتکاز کا باضابطہ اعلان تھا، جس نے
پاکستان کو ایک آئینی ریاست کے بجائے ایک انتظامی-عسکری نظم کی طرف دھکیل دیا۔
مقدمے
کے حقائق کے مطابق دوسو کا تعلق بلوچستان کے ضلع چاغی سے تھا جہاں اس وقت فرنٹیئر
کرائمز ریگولیشن (FCR) نافذ
تھا۔ اس پر قتل کا الزام عائد ہوا اور ایف سی آر کے تحت قائم قبائلی عدالتی طریقِ
کار (جرگہ نظام) کے ذریعے اسے سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں، ہائی
کورٹ آف ویسٹ پاکستان لاہور بنچنے
یہ قرار دیا کہ 1956 کے آئین کے نفاذ کے بعد ایف سی آر کی امتیازی دفعات بنیادی
حقوق—خصوصاً مساوات اور منصفانہ سماعت—سے متصادم ہو چکی ہیں، لہٰذا اس کے تحت دی
گئی سزا برقرار نہیں رہ سکتی۔ حامد خان کی کتاب Constitutional and Political History of Pakistanکے مطابق یہ فیصلہ آئین کی بالادستی
کے اصول کا منطقی اور قانونی نتیجہ تھا۔
ریاستِ
پاکستان نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ دورانِ سماعت، آئین کی
منسوخی اور مارشل لا کے نفاذ نے مقدمے کی نوعیت بدل دی اور مرکزی سوال یہ بن گیا
کہ آیا 1956 کا آئین اب بھی نافذ العمل ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس محمد منیر کی سربراہی
میں سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے میں یہ قرار دیا کہ 7 اکتوبر 1958 کو ایک کامیاب
انقلاب برپا ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں پرانا آئینی نظام تحلیل ہو گیا ہے۔ عدالت
کے مطابق جب کوئی نیا اقتدار مؤثر کنٹرول قائم کر لیتا ہے تو وہی نیا قانونی نظام
بن جاتا ہے اور پرانا آئین اپنی قانونی حیثیت کھو دیتا ہے۔ اس بنا پر یہ نتیجہ اخذ
کیا گیا کہ چونکہ 1956 کا آئین منسوخ ہو چکا ہے اس لیے اس سے وابستہ بنیادی حقوق
بھی قابلِ نفاذ نہیں رہے۔
عدالت
کے استدلال کی فکری بنیاد ہانس کیلزن کی Pure Theory of Law پر رکھی گئی۔ کیلزن کے
مطابق اگر کوئی انقلاب کامیاب ہو جائے اور نیا نظام مؤثر طور پر نافذ ہو جائے تو
وہی نئی قانونی اساس یا Grundnorm بن جاتا ہے۔ چیف جسٹس
منیر نے اسی نظریے کو اختیار کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ مارشل لا حکومت چونکہ
ملک پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہے اس لیے اس کے احکامات قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں
عدالت نے طاقت کو قانون میں تبدیل کرنے کا کردار ادا کیا۔
آئینی
ماہرین کے نزدیک یہی وہ نکتہ ہے جہاں عدلیہ نے آئینی وفاداری کے بجائے اقتدارِ وقت
کی توثیق کا راستہ اختیار کیا۔ اے جی نورانی اپنی کتاب Constitutional Questions in Pakistan میں لکھتے ہیں کہ کیلزن کے نظریے کو ایک تحریری آئین رکھنے والی ریاست
میں من و عن نافذ کرنا ایک سنگین فکری اور آئینی غلطی تھی کیونکہ آئین محض طاقت کے
توازن کا نتیجہ نہیں بلکہ عوامی حاکمیت اور اجتماعی رضا کا اظہار ہوتا ہے ۔ عدالت نے اس بنیادی اصول کو نظرانداز کیا کہ آئینی دستاویز کی
بالادستی طاقت سے نہیں بلکہ قانونی و اخلاقی جواز سے قائم رہتی ہے۔
اگرچہ
1972 کے عصمہ جیلانی کیس (PLD 1972 SC 139) میں سپریم کورٹ نے یحییٰ خان کو غاصب
قرار دیتے ہوئے واضح طور پر اعتراف کیا کہ دوسو کیس کا فیصلہ غلط تھا مگر جیسا کہ
مارٹن لاؤنے اپنی کتاب The
Constitution of Pakistan, میں نشاندہی کرتے ہیں اس فیصلے نے جس نظریۂ ضرورت کو
جنم دیا تھا وہ عملی سیاست اور عدالتی رویّوں میں مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا ۔ یہی نظریہ بعد ازاں ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں مختلف
صورتوں میں دوبارہ سامنے آیا۔
بالآخر
یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ریاست بنام دوسو پاکستان کے آئینی زوال کی اولین
اور فیصلہ کن علامت ہے۔ اس فیصلے نے یہ خطرناک اصول اخذ کیا کہ اگر عدالتیں طاقت
کو قانون پر فوقیت دیں تو آئین محض ایک رسمی دستاویز بن کر رہ جاتا ہے۔ آج بھی جب
پاکستان میں آئینی بالادستی، عدالتی خودمختاری اور جمہوری تسلسل کی بحث ہوتی ہے تو
دوسو کیس ایک مستقل وارننگ کے طور پر سامنے آتا ہےکہ آئین کی حفاظت کا فریضہ ترک
کر دیا جائے تو ریاست مسلسل آئینی بحرانوں کی زد میں رہتی ہے۔
اس آرٹیکل کو لکھنے کے لیے جن کتابوں سے معاونت لی گئی ہے
ان کی فہرست ذیل میں درج ہے۔
PLD 1958 SC 533 (State v. Dosso)
PLD 1972 SC 139 (Asma Jilani Case)
Constitutional
and Political History of Pakistan by
Hamid Khan
Pakistan: A Political Study By Keith Callard
Pure Theory of Law
By Hans Kalsan
Constitutional Questions in Pakistan By A.G Noorani
The Constitution of Pakistan By Martin
William Lao



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home