نظام الملک کی سیات نامہ اور میکاولی کی دی پرنس: دو کتابیں دو تہذیبیں
نظام الملک طوسی کی
کتاب سیاست نامہ چند دن قبل بڑے دنوں کی مشقت کے بعد ختم کی جبکہ میکاولی کی
"دی پرنس " آج سے پندراں برس قبل پڑھی تھی۔ میرا مقصد تو صرف نظام الملک
کی سیاست نامہ پہ تبصرہ لکھنے کا تھا مگر مجھے میکاولی کی دی پرنس کے موازنے پہ
سیاست نامہ ایک نہایت غیرمعمولی کتاب لگی۔ کیونکہ سیاسی فکر کی تاریخ میں چند
کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد کی نمائندہ نہیں ہوتیں بلکہ آنے والی صدیوں
کے لیے ذہنی سانچے تشکیل دیتی ہیں۔ نظامُ الملک طوسی کی سیاست نامہ اور نکولو
میکاولی کی دی پرنس اسی نوع کی دو کتابیں ہیں۔ بظاہر دونوں کا موضوع ایک ہے:
اقتدار، حکمرانی اور ریاست۔ مگر حقیقت میں یہ دونوں کتابیں دو بالکل مختلف تہذیبی،
اخلاقی اور فکری کائناتوں کی پیداوار ہیں۔ ان کا موازنہ محض دو مصنفین یا دو نصوص
کا تقابل نہیں بلکہ دو نظریاتِ انسان، دو تصوراتِ اخلاق اور دو فلسفہ ہائے سیاست
کا آمنے سامنے آ جانا ہے۔ ایک طرف سیاست کو اخلاق کی توسیع سمجھا گیا ہے اور دوسری
طرف اخلاق کو سیاست کی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔
نظامُ الملک طوسی جس
دنیا میں سیاست نامہ لکھ رہے تھے وہ ایک ایسی مسلم تہذیب تھی جو ظاہری طور پر
طاقتور مگر اندر سے انتشار کا شکار ہو چکی تھی۔ دربار موجود تھے مگر عدل ناپید
تھا، اقتدار تھا مگر امانت نہیں رہی تھی۔ طوسی نے سیاست کو محض حکومت چلانے کا ہنر
نہیں بلکہ تمدن کو بچانے کا اخلاقی فریضہ سمجھا۔ ان کے نزدیک ریاست ایک اخلاقی
وجود ہے، اور بادشاہ اس وجود کا قلب۔ اگر قلب فاسد ہو جائے تو جسم زندہ نہیں رہ
سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست نامہ میں حکمران کے ذاتی کردار، اس کے تقویٰ، اس کے عدل
اور اس کی دیانت پر بار بار زور دیا گیا ہے۔ طوسی کے نزدیک سیاست اس وقت تک معتبر
نہیں ہو سکتی جب تک وہ اخلاقی بنیادوں پر قائم نہ ہو۔
اس کے برعکس میکاولی جس
اٹلی میں دی پرنس لکھ رہا تھا وہ خانہ جنگیوں، غیر ملکی یلغاروں اور داخلی سازشوں
سے پاش پاش ہو چکا تھا۔ ریاستیں تھیں مگر غیر محفوظ تھیں، حکمران تھے مگر بے
اختیار۔ میکاولی نے اخلاقی سوالات سے پہلے ایک وجودی سوال اٹھایا: ریاست کو زندہ
کیسے رکھا جائے؟ اسی سوال نے اس کی پوری سیاسی فکر کی سمت متعین کر دی۔ اس کے
نزدیک سیاست ایک فن ہے، ایک تکنیک ہے، جس کا مقصد اقتدار کا حصول اور اس کا تحفظ
ہے چاہے اس کے لیے اخلاقی اصولوں کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہی وہ نکتہ ہے
جہاں سے جدید سیاست کا آغاز ہوتا ہے اور قدیم اخلاقی سیاست سے فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔
طوسی کے نزدیک حکمران
خدا کی طرف سے ایک امانت دار ہے۔ اقتدار اس کے لیے آزمائش ہے اعزاز نہیں۔ وہ بار
بار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ظلم وقتی طور پر اقتدار کو مضبوط دکھا
سکتا ہے مگر درحقیقت وہ ریاست کی جڑوں میں زہر گھول دیتا ہے۔ سیاست نامہ میں عدل
کو ریاست کی بنیاد کہا گیا ہے اور یہ تصور اسلامی روایت سے جڑا ہوا ہے جہاں عدل
محض قانونی اصطلاح نہیں بلکہ ایک اخلاقی قدر ہے۔ طوسی کے ہاں حکمران اگر طاقتور ہے
تو اس کی طاقت کا مقصد کمزور کی حفاظت ہے نہ کہ اس کا استحصال۔
میکاولی اس پورے تصور
کو الٹ دیتا ہے۔ اس کے نزدیک حکمران کا پہلا فرض اخلاق نہیں بلکہ بقا ہے۔ اگر
ریاست ہی باقی نہ رہے تو اخلاق کس کام کے؟ اسی لیے وہ یہ کہنے میں کوئی جھجھک
محسوس نہیں کرتا کہ حکمران کو سیکھنا چاہیے کہ کب اچھا نہ بننا ہے۔ یہ جملہ محض
ایک مشورہ نہیں بلکہ ایک پورے فلسفے کا خلاصہ ہے۔ میکاولی کے ہاں فریب، وعدہ
خلافی، سختی اور خوف سب جائز ہیں اگر ان سے اقتدار محفوظ رہتا ہے۔ یہاں سیاست ایک
اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک طاقت کا کھیل بن جاتی ہے۔
ان دونوں کتابوں میں
انسان کا تصور بھی یکسر مختلف ہے۔ طوسی انسان کو فطرتاً اصلاح پذیر سمجھتے ہیں۔ ان
کے نزدیک اگر حکمران عادل ہو، نظام منصفانہ ہو اور قانون سب پر لاگو ہو تو رعایا
وفادار، مطمئن اور پرامن ہو جاتی ہے۔ اسی لیے وہ تعلیم، علما، قضا اور احتسابی
اداروں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ طوسی کے ہاں سیاست فرد کی اخلاقی تربیت سے جدا
نہیں ہو سکتی۔ ریاست کا مقصد محض نظم و نسق نہیں بلکہ ایک بہتر انسان کی تشکیل بھی
ہے۔
میکاولی انسان کو
بنیادی طور پر خود غرض، مفاد پرست اور موقع شناس سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک عوام محبت
اس وقت تک کرتے ہیں جب تک فائدہ ہو اور خطرہ آتے ہی وفاداری بدل لیتے ہیں۔ اسی لیے
وہ حکمران کو مشورہ دیتا ہے کہ عوام کی محبت کے بجائے ان کے خوف پر انحصار کرے۔ یہ
تصور جدید ریاستی سوچ کی بنیاد بنا جہاں شہری کو اخلاقی شریک کے بجائے ایک قابلِ
انتظام ہجوم سمجھا جانے لگا۔
قانون کے باب میں بھی
دونوں کے درمیان گہری خلیج ہے۔ طوسی کے ہاں قانون ایک اخلاقی ڈھانچہ ہے جو بادشاہ
اور رعایا دونوں کو باندھتا ہے۔ حکمران قانون سے بالا نہیں بلکہ اس کا محافظ ہے۔
قانون کی خلاف ورزی دراصل اقتدار کی خودکشی ہے۔ میکاولی کے ہاں قانون ایک آلہ ہے،
جسے ضرورت کے مطابق استعمال یا نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ اگر قانون اقتدار کے
راستے میں رکاوٹ بن جائے تو اسے توڑنا عقل مندی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے بعد میں
ریاستی مصلحت کو اخلاقی اصولوں پر فوقیت دے دی۔
مذہب کے معاملے میں بھی
دونوں کا زاویہ نگاہ بالکل مختلف ہے۔ طوسی مذہب کو سیاست کی روح سمجھتے ہیں۔ مذہب
حکمران کو جواب دہ بناتا ہے اس کی طاقت کو اخلاقی دائرے میں قید کرتا ہے اور ظلم
کو گناہ قرار دیتا ہے۔ سیاست نامہ میں مذہب ایک داخلی اخلاقی قوت کے طور پر سامنے
آتا ہے۔ اس کے برعکس میکاولی مذہب کو ایک سماجی ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے
نزدیک مذہب عوام کو نظم میں رکھنے، انہیں مطیع بنانے اور ریاستی بیانیے کو مضبوط
کرنے کا ذریعہ ہے نہ کہ حکمران کے لیے اخلاقی پابندی۔
اگر ان دونوں کتابوں کے
اثرات کو دیکھا جائے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ جدید دنیا نے عملی سیاست میں
میکاولی کو اختیار کیا اور اخلاقی خطابات میں طوسی کو سراہا۔ ریاستیں طاقتور ہو
گئیں مگر معاشرے کمزور، نظام مستحکم ہوئے مگر اعتماد ٹوٹ گیا۔ اقتدار محفوظ ہوا
مگر عدل ناپید ہوتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ریاست تو موجود ہے مگر
ریاستی روح غائب ہے۔
اس تقابل کا حاصل یہ
نہیں کہ ایک کو مکمل طور پر درست اور دوسرے کو مکمل طور پر غلط قرار دے دیا جائے،
بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ سیاست کا مقصد کیا ہے۔ اگر سیاست محض اقتدار کا کھیل ہے تو
میکاولی ناگزیر ہے، اور اگر سیاست انسان اور معاشرے کی اخلاقی فلاح کا نام ہے تو
طوسی کی فکر کے بغیر کوئی ریاست دیرپا نہیں ہو سکتی۔ ایک سیاست کو تکنیک بناتا ہے
اور دوسرا سیاست کو تہذیب کا ستون قرار دیتا ہے۔
آخرکار یہ موازنہ ہمیں اپنے عہد کے آئینے میں
دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم اس وقت ایسی سیاست کے اسیر ہیں جو میکاولی کو پڑھتی
ہے مگر طوسی کو بھول چکی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے پاس اقتدار تو ہے مگر وقار نہیں،
قانون تو ہے مگر انصاف نہیں، اور ریاست تو ہے مگر اخلاقی مرکز نہیں۔ نظامُ الملک
طوسی اور میکاولی کے درمیان اصل فرق یہی ہے کہ ایک سیاست کو انسان کے لیے استعمال
کرتا ہے اور دوسرا انسان کو سیاست کے لیے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home