ایوب خان کا نظامِ بنیادی جمہوریت:پاکستان کی پہلی 'ہائبرڈ جمہوریت'
پاکستان
کی سیاسی تاریخ میں 1958 کا سال ایک ایسے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جس نے ملک کے
مستقبل کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 7 اکتوبر 1958 کو جب اسکندر
مرزا نے ملک میں پہلا مارشل لا نافذ کیا اور بعد ازاں 27 اکتوبر کو جنرل محمد ایوب
خان نے اقتدار کی مکمل باگ ڈور سنبھالی تو پاکستان ایک ایسے بحران سے گزر رہا تھا
جہاں پارلیمانی جمہوریت کو ناکام تصور کیا جا رہا تھا۔ ایوب خان کا یہ پختہ نظریہ
تھا کہ مغربی طرز کی جمہوریت جو برطانیہ اور بھارت جیسے ممالک میں رائج ہے،
پاکستانی معاشرے کی مخصوص نفسیات اور دیہی ساخت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ ان کا خیال
تھا کہ پاکستان کے عوام جو زیادہ تر ان پڑھ اور سیاسی پیچیدگیوں سے ناواقف ہیں وہ
براہِ راست قومی سطح کے نمائندوں کا انتخاب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسی سوچ نے
ایک ایسے نظام کو جنم دیا جسے "بنیادی جمہوریت" (Basic
Democracies) کا نام دیا گیا۔ اس نظام کا فلسفہ یہ
تھا کہ جمہوریت کو اوپر سے تھوپنے کے بجائے نیچے سے اوپر (Bottom-up
approach) کی طرف پروان چڑھایا جائے تاکہ اقتدار
کی منتقلی نچلی سطح کے عوام تک ممکن ہو سکے۔
12
جون 1959 کو ایوب خان نے اس نظام کا
باقاعدہ اعلان کیا اور 27 اکتوبر 1959 کو "بنیادی جمہوریت آرڈر" نافذ کر
دیا گیا۔ اس نظام کے تحت ملک کو مختلف انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ
عوام اپنے مقامی مسائل خود حل کر سکیں۔ اس ڈھانچے کی بنیاد چار درجاتی نظام پر
رکھی گئی تھی جس میں سب سے نچلی اور اہم اکائی "یونین کونسل" تھی۔ دیہی
علاقوں میں اسے یونین کونسل جبکہ شہری علاقوں میں اسے ٹاؤن یا یونین کمیٹی کہا
جاتا تھا۔ ہر یونین کونسل تقریباً دس سے پندرہ ہزار کی آبادی پر مشتمل ہوتی تھی
جہاں سے دس سے پندرہ ارکان بالغ حقِ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب کیے جاتے تھے۔ ان
منتخب ارکان کو "بیسیک ڈیموکریٹس" یا مختصر طور پر "بی ڈی
ممبرز" کہا جاتا تھا۔ اس نظام کا دوسرا درجہ "تحصیل کونسل" (مغربی
پاکستان میں) اور "تھانہ کونسل" (مشرقی پاکستان میں) تھا۔ تحصیل کونسل
کی صدارت عام طور پر تحصیلدار یا سب ڈویژنل آفیسر (SDO) کرتا تھا اور اس میں تمام یونین
کونسلوں کے چیئرمین شامل ہوتے تھے۔ اس طرح ایک کڑی نچلی سطح سے اوپر کی سطح تک
جڑتی چلی جاتی تھی۔
نظام
کا تیسرا اور سب سے طاقتور درجہ "ضلع کونسل" تھا۔ ضلع کونسل کی اہمیت اس
لیے زیادہ تھی کیونکہ مقامی ترقیاتی فنڈز، سڑکوں کی تعمیر، صحت اور تعلیم جیسے
بنیادی معاملات اسی سطح پر طے پاتے تھے۔ تاہم، یہاں سے نظام کی جمہوری روح پر
سوالات اٹھنا شروع ہوئے کیونکہ ضلع کونسل کا سربراہ ڈپٹی کمشنر (DC) ہوتا تھا جو کہ ایک بیوروکریٹ تھا۔ اس
میں منتخب ارکان کے ساتھ ساتھ نامزد سرکاری افسران کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی تھی
جس کی وجہ سے عوامی نمائندوں کی آواز اکثر افسر شاہی کے دباؤ میں دب جاتی تھی۔
چوتھا اور آخری درجہ "ڈویژنل کونسل" تھا جس کی سربراہی کمشنر کرتا تھا۔
یہ کونسل بنیادی طور پر نگرانی اور ہم آہنگی کا کام کرتی تھی اور اس کا مقصد تمام
اضلاع کی کارکردگی پر نظر رکھنا تھا۔ اس پورے ڈھانچے کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم
ہوتا ہے کہ ایوب خان نے بظاہر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا جال تو بچھایا
تھا مگر اس کی ڈوریں مکمل طور پر بیوروکریسی کے ہاتھ میں دے دی تھیں۔
اس
نظام کی سب سے اہم اور متنازع کڑی "الیکٹورل کالج"
(Electoral College) کا تصور
تھا۔ پورے ملک سے منتخب ہونے والے ان 80,000 بی ڈی ممبرز (40 ہزار مشرقی پاکستان
اور 40 ہزار مغربی پاکستان) کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ صدرِ مملکت اور قومی و
صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا انتخاب کریں۔ ایوب خان کا استدلال یہ تھا کہ یہ 80
ہزار افراد پڑھے لکھے اور اپنے علاقوں کے معززین ہیں اس لیے یہ عام عوام کے مقابلے
میں بہتر سیاسی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اسی نظام کے تحت 14 فروری 1960 کو ایک ریفرنڈم
کروایا گیا جس میں ان ارکان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں صدر ایوب خان پر اعتماد ہے؟
تقریباً 95 فیصد ارکان نے ایوب خان کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد وہ باقاعدہ طور پر
صدر منتخب ہو گئے۔ بعد ازاں 1962 کا آئین نافذ کیا گیا جس نے صدر کو وسیع تر
اختیارات دے دیے اور پارلیمان کی حیثیت کو محض ایک مشاورتی ادارے تک محدود کر دیا۔
1965
کے صدارتی انتخابات اس نظام کا سب سے
بڑا امتحان ثابت ہوئے۔ ایک طرف صدر ایوب خان تھے اور دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی
امیدوار مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔ اگرچہ محترمہ فاطمہ جناح کو عوامی سطح
پر بے پناہ مقبولیت حاصل تھی اور بڑے شہروں میں ان کے جلسوں میں لاکھوں کا مجمع
ہوتا تھا لیکن انتخاب کا فیصلہ عوام نے نہیں بلکہ ان 80 ہزار بی ڈی ممبرز نے کرنا
تھا۔ حکومت نے ان ارکان پر شدید انتظامی دباؤ ڈالا، سرکاری مشینری کا بے دریغ
استعمال کیا گیا اور بیوروکریسی کے ذریعے انہیں دھمکایا گیا۔ نتیجہ وہی نکلا جس کی
توقع تھی؛ ایوب خان بھاری اکثریت سے کامیاب قرار پائے۔ اس واقعے نے عوام کے اندر
اس احساس کو جنم دیا کہ بنیادی جمہوریت کا نظام دراصل ان کے ووٹ کے حق پر ڈاکہ
ڈالنے اور ایک مخصوص آمریت کو طول دینے کا ذریعہ ہے۔
اقتصادی
اور ترقیاتی لحاظ سے اس نظام کے چند مثبت پہلوؤں سے انکار ممکن نہیں۔ ایوب خان نے
"رورل ورکس پروگرام" (Rural Works Programme) کے تحت ان کونسلوں کو خطیر رقم فراہم
کی جس سے دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ تبدیل ہوا۔ ہزاروں میل لمبی سڑکیں بنیں،
نالیاں پکی کی گئیں، اسکولوں کی عمارتیں تعمیر ہوئیں اور زراعت میں جدید مشینری کا
استعمال شروع ہوا۔ یہی وہ دور تھا جسے "ترقی کی دہائی" (Decade
of Development) کہا جاتا
ہے۔ مقامی سطح پر لوگوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ ان کے اپنے منتخب نمائندے چھوٹے
موٹے تنازعات حل کرنے اور ترقیاتی کام کروانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ لیکن اس معاشی
ترقی کی قیمت سیاسی تنزلی کی صورت میں چکانی پڑی۔ سیاست دانوں پر EBDO جیسے کالے قوانین کے تحت پابندیاں
عائد تھیں اور سیاسی جماعتیں مفلوج ہو چکی تھیں۔
نظامِ
بنیادی جمہوریت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اس کی مرکزیت تھی۔ اگرچہ اسے "ڈی
سینٹرلائزیشن" کا نام دیا گیا تھا لیکن عملاً تمام اختیارات صدر کے پاس مرتکز
تھے۔ مقامی کونسلوں کے پاس اپنا ریونیو اکٹھا کرنے کے ذرائع محدود تھے اور وہ مکمل
طور پر سرکاری گرانٹس پر انحصار کرتی تھیں۔ جب سرکاری فنڈز ملتے تو کام ہوتا ورنہ
کونسلیں غیر فعال ہو جاتیں۔ مزید برآں بیوروکریسی کا حد سے زیادہ عمل دخل عوامی
نمائندوں کی تذلیل کا باعث بنتا تھا۔ ایک منتخب یونین کونسل چیئرمین کو ایک معمولی
سرکاری کلرک یا اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا تھا جس نے اس نظام کی
اخلاقی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔ معاشرے کا نچلا طبقہ جیسے مزدور اور کسان، اس
نظام میں کہیں نظر نہیں آتے تھے۔ اس کے بجائے دیہی اشرافیہ، جاگیردار اور وہ لوگ
جو بیوروکریسی کے منظورِ نظر تھے وہی بی ڈی ممبر منتخب ہوتے رہے۔
اس
نظام نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی خلیج کو بھی وسیع کیا۔ مشرقی
پاکستان کے عوام سیاسی طور پر زیادہ باشعور تھے اور وہ پارلیمانی جمہوریت اور
براہِ راست انتخابات کے حامی تھے۔ ان کے نزدیک ایوب خان کا یہ نظام ان کی اکثریت
کو اقلیت میں بدلنے اور ان کے سیاسی حقوق کو چھیننے کی ایک سازش تھی۔ جب 1960 کی
دہائی کے آخر میں ایوب خان کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو یہی بی ڈی ممبرز عوام کے
غیظ و غضب کا نشانہ بنے۔ عوامی احتجاج اتنا شدید تھا کہ ایوب خان کو خود یہ تسلیم
کرنا پڑا کہ ان کا بنایا ہوا نظام عوام کی امنگوں کی ترجمانی نہیں کر سکا۔ مارچ
1969 میں جب ایوب خان نے استعفیٰ دیا اور اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کیا تو اس کے
ساتھ ہی بنیادی جمہوریت کا یہ باب بھی ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
مجموعی
طور پر دیکھا جائے تو بنیادی جمہوریت ایک ایسا تجربہ تھا جس کے مقاصد تو بظاہر
بلند بانگ تھے لیکن اس کی بنیادیں ریت پر کھڑی تھیں۔ یہ نظام جمہوریت کی روح یعنی
"عوامی حاکمیت" سے خالی تھا۔ اس نے پاکستان میں ایک ایسی سیاسی روایت کی
بنیاد رکھی جہاں مقامی حکومتوں کو آمریت کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ آج
بھی پاکستان کے سیاسی نظام میں جب مقامی حکومتوں کی بات ہوتی ہے تو ایوب خان کے اس
تجربے کا ذکر ایک سبق کے طور پر کیا جاتا ہے کہ جب تک جمہوریت میں شفافیت، سیاسی
جماعتوں کی آزادی اور عوام کا براہِ راست حقِ رائے دہی شامل نہ ہو تب تک کوئی بھی
انتظامی ڈھانچہ پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔ ایوب خان کا یہ نظام تاریخ کے اوراق
میں ایک ایسی "نمائندہ آمریت" کے طور پر درج ہے جس نے معاشی ترقی تو دی
مگر سیاسی شعور کو پابندِ سلاسل کر دیا۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home