ریاست کے استحکام کے لیے حضرت ابو بکر صدیق کا اسوہ بہترین نمونہ ہے۔
یہ آرٹیکل 15 جنوری 2023 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا
تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔
22 جمادی
الثانی خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کا یوم وصال ہے۔ بطور خلیفہ جس مضبوط اعصابی قوت کا مظاہرہ آپ نے کیا
تاریخ میں کسی دوسرے حکمران نے نہیں کیا۔ نوزائیدہ ریاستوں اور وہ ریاستیں جو نوزائیدہ ریاستوں جیسے حالات سے
گزر رہی ہوں ان کے لیے آپ کا اسوہ
بہترین مثال ہے۔ اڑھائی سالہ دورِ حکومت انتہائی غیر مقبول، بہت سخت لیکن تاریخی اعتبار سے نہایت درست
فیصلوں سے لبریز رہا۔ ریاست کو باغیوں کے خلاف کس طرح اپنی رٹ قائم کرنی چاہیے یہ
ہمارا سب سے دیرینہ اور موجودہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اس تناظر میں آپ کی شخصیت کا
مطالعہ نہایت موثر ہے۔
نبی کریم (ص)
کی تحریک آخری مراحل میں فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک کی بے مثال کامیابی کے بعد اس قدر
مقبول ہوئی کہ پورے کا پورا خطہ عرب اسلام کی جھولی میں آن گرا۔ خطہ عرب کے لوگ
فطرتاً آزاد طبع تھے جو اپنی حریت اور آزادی پر کسی طور کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔
اسی وجہ سے یہ قبائلی زندگی
گزار رہے تھے۔ روم اور ایران کی زبردست حکومتوں کے ہمسایگی میں ہونے کے باوجود یہ کبھی کسی ریاستی نظم
میں نہیں آئے تھے۔
نبی کریم (ص) نے
میثاقِ مدینہ سے ہی جس ریاستی نظام کی بنیاد رکھی اس میں ایک وفاقی طرز کی حکومت
قائم ہوئی جس میں قبائل داخلی طور پر ہر طرح سے خود مختار تھے
چند امور میں وہ مرکزی حکومت کے تابع تھے۔ خطہ عرب کو حکومتی نظم میں لانے کی یہ
بہترین تدبیر تھی۔ اس سے آزاد منش عربوں کی زندگیوں کی زیادہ پابندیوں کا سامنا
نہیں کرنا پڑا اور خطہ عرب ایک مرکزی وحدت کے زیر اثر آ گیا۔
حضرت علی سے بھی اسی قسم کی گفتگو حضرت ابوبکر سے ہوئی
مگر حضرت ابوبکر نے کسی کی کچھ نہیں سنی اور کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور
حکم دیا کہ میری اونٹنی لاؤ میں خود مرتد لوگوں سے لڑنے کے لیے جاؤں گا اور فرمایا
کہ اسامہ کا لشکر بھی روانہ ہو خدا کی قسم اگر چیل کوے بھی میرے گوشت کو نوچ ڈالیں
تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کی روانگی کا حکم رسول خداﷺ نے دیا تھا
چنانچہ لشکر فی الفور روانہ ہوا اور آپ اونٹنی پر بیٹھ گئے اور سب سے پہلے حضرت
علی نے آگے بڑھ کر آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑی اور
فرمایا: یا خلیفہ رسول اللہ ﷺ ہمارا مقصود آپ کے حکم کی مخالفت نہیں ہے جو کچھ ہم
نے عرض کیا وہ ہماری رائے ہے ورنہ جو حکم آپ دیں گے ہم اس کی اطاعت کریں گے۔
نبی کریم (ص) کے وصال کے ساتھ عرب قبائل نے مدینہ کی مرکزی
حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا صرف یمن کا کچھ حصہ ، مکہ اور ط
لیکن ایسے میں
حضرت ابوبکر صدیق کی دور اندیش نگاہوں نے خطرہ بھانپ لیا اور اسے محض زکوٰۃ کی
ادائیگی ہی نہیں سمجھا بلکہ حلیف قبائل کا وفاق سے ہونے والے معاہدے کی روگردانی
سمجھا۔ آپ ایک لمحے کے لیے بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوئے کہ مجھے گڈ قبائل اور بیڈ
قبائل کی درجہ بندی کرنی چاہیے۔ نہ
ہی آپ نے اس نازک مرحلے پر مذاکرات
کے نام پر وقت ضائع کرکے باغی
عناصر کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم
کیا۔ نہ ہی آپ نے بعض قبائل
کی پشت پناہی کر کے انہیں ریاست کی خفیہ طاقت بنایا اور انہیں دیگر قبائل سے
لڑوانے کا بندوبست کیا۔
آپ نے سادہ سے
خطوط لکھ کر قبائل کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور اطاعت نہ کرنے پر آپ نے مختلف لشکر تشکیل دیے
اور باغی قبائل کی طاقت کو کچل کر رکھ دیا۔ اگر آپ اس نازک دور میں یہ مختلف اور
مشکل فیصلہ نہ کرتے تو ریاست ہمیشہ کے لیے کبھی ایک قبیلے سے تو کبھی دوسرے قبیلے
سے بلیک میل ہوتی رہتی۔
نبی کریم (ص) کو ملنے
والی شاندار کامیابیوں نے لالچی افراد کے لیے نبوت کے منصب کو بھی پرکشش بنا دیا
تھا اور قریب چار افراد نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے اپنے قبائل کو مدینہ کی
مرکزی ریاست سے علیحدہ کر لیا۔ خلیفہ اول نے جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف بھی بلا
تعطل کارروائی کی اور ان کا خاتمہ کردیا۔
قرآن واحد
ہمارے ہاں دور حکمرانی کے لیے حضرت عمر فاروق کو بہت سراہا جاتا



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home