Thursday, 25 December 2025

ریاست کے استحکام کے لیے حضرت ابو بکر صدیق کا اسوہ بہترین نمونہ ہے۔

 

یہ آرٹیکل 15 جنوری 2023 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

22 جمادی الثانی خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کا یوم وصال ہے۔ بطور خلیفہ جس مضبوط اعصابی قوت کا مظاہرہ آپ نے کیا تاریخ میں کسی دوسرے حکمران نے نہیں کیا۔ نوزائیدہ ریاستوں اور وہ ریاستیں جو نوزائیدہ ریاستوں جیسے حالات سے گزر رہی ہوں ان کے لیے آپ کا اسوہ بہترین مثال ہے۔ اڑھائی سالہ دورِ حکومت انتہائی غیر مقبول، بہت سخت لیکن تاریخی اعتبار سے نہایت درست فیصلوں سے لبریز رہا۔ ریاست کو باغیوں کے خلاف کس طرح اپنی رٹ قائم کرنی چاہیے یہ ہمارا سب سے دیرینہ اور موجودہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اس تناظر میں آپ کی شخصیت کا مطالعہ نہایت موثر ہے۔

 نبی کریم (ص) کی تحریک آخری مراحل میں فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک کی بے مثال کامیابی کے بعد اس قدر مقبول ہوئی کہ پورے کا پورا خطہ عرب اسلام کی جھولی میں آن گرا۔ خطہ عرب کے لوگ فطرتاً آزاد طبع تھے جو اپنی حریت اور آزادی پر کسی طور کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ قبائلی زندگی گزار رہے تھے۔ روم اور ایران کی زبردست حکومتوں کے ہمسایگی میں ہونے کے باوجود یہ کبھی کسی ریاستی نظم میں نہیں آئے تھے۔

نبی کریم (ص) نے میثاقِ مدینہ سے ہی جس ریاستی نظام کی بنیاد رکھی اس میں ایک وفاقی طرز کی حکومت قائم ہوئی جس میں قبائل داخلی طور پر ہر طرح سے خود مختار تھے چند امور میں وہ مرکزی حکومت کے تابع تھے۔ خطہ عرب کو حکومتی نظم میں لانے کی یہ بہترین تدبیر تھی۔ اس سے آزاد منش عربوں کی زندگیوں کی زیادہ پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور خطہ عرب ایک مرکزی وحدت کے زیر اثر آ گیا۔ آپﷺ نے اپنے آخری وصیت میں کہا کہ اسامہ کے لشکر کو ملک شام کی طرف روانہ کردیا جائے حضرت صدیقؓ نے اس لشکر کی روانگی کا حکم دیا تمام صحابہ اس رائے میں حضرت ابوبکرؓ کے مخالف تھے کہتے تھے کہ ایسے پر آشوب وقت میں جب کہ اندرون ملک میں متعدد قبائل بغاوت کے شعلے بلند کررہے ہیں فی الحال لشکر کو روانہ کرنا مناسب نہیں ہے حتی کہ صحابہ کرام میں قتال کے سب سے زیادہ حامی حضرت عمر و علیؓ ہوسکتے تھے مگر یہ دونوں بھی حالات کی نزاکت سے متاثر ہوئے اور لڑائی کو مصلحت نہیں سمجھا حضرت عمر نے کہا: یا خلیفہ رسول اللہﷺ یہ وقت سختی کا نہیں ہے اس وقت تالیف سے کام لیجیے تو حضرت ابوبکرؓ عمرؓ کی اس بات پر غصہ ہوئے اور کہا: اجبار فی الجاھلیة و خوار فی الاسلام (اے عمر تم تو زمانہ جاہلیت میں بڑے تند خو تھے اور اسلام میں آکر نرم ہوگئے) سنو: تم الدین وانقطع الوحی اینقص وانا حی (دین کامل ہوچکا ہے وحی بند ہوگئی کیا یہ ہوسکتا ہے کہ میرے جیتے جی دین میں کمی آجائے) حضرت ابوبکرؓ کو دین اسلام کی کس قدر غیرت و حمیت تھی ۔

حضرت علی سے بھی اسی قسم کی گفتگو حضرت ابوبکر سے ہوئی مگر حضرت ابوبکر نے کسی کی کچھ نہیں سنی اور کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور حکم دیا کہ میری اونٹنی لاؤ میں خود مرتد لوگوں سے لڑنے کے لیے جاؤں گا اور فرمایا کہ اسامہ کا لشکر بھی روانہ ہو خدا کی قسم اگر چیل کوے بھی میرے گوشت کو نوچ ڈالیں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کی روانگی کا حکم رسول خداﷺ نے دیا تھا چنانچہ لشکر فی الفور روانہ ہوا اور آپ اونٹنی پر بیٹھ گئے اور سب سے پہلے حضرت علی نے آگے بڑھ کر آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑی اور فرمایا: یا خلیفہ رسول اللہ ﷺ ہمارا مقصود آپ کے حکم کی مخالفت نہیں ہے جو کچھ ہم نے عرض کیا وہ ہماری رائے ہے ورنہ جو حکم آپ دیں گے ہم اس کی اطاعت کریں گے۔

 نبی کریم (ص) کے وصال کے ساتھ عرب قبائل نے مدینہ کی مرکزی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا صرف یمن کا کچھ حصہ ،  مکہ اور طائف واحد جگہیں تھیں جو مدینہ کے خلاف کھڑی نہیں ہوئیں باقی سبھی قبائل اپنی پہلے جیسی حالت میں لوٹ جانے کو ترجیح دینے لگے۔ مرکزی ریاست کے ساتھ الحاق کی علامت کے طور پر بھیجا جانے والا زکوٰۃ (ٹیکس) بند کر دیا اور دیکھتے دیکھتے وفاق بکھرنے لگا۔ نہایت مشکل صورتحال تھی۔ لوگ کلمہ پڑھتے تھے نماز بھی پڑھ رہے تھے نبی کریم کو نبی بھی مان رہے تھے دیکھنے کو محض ایک زکوٰۃ کی ادائیگی ہی بند کی تھی۔ مدینہ کی ایڈمنسٹریشن اس پر کوئی واضح حکمت عملی اپنانے میں مشکل کا شکار تھی کیونکہ ایسی صورتحال پہلے کبھی پیش نہیں آئی تھی۔

 لیکن ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق کی دور اندیش نگاہوں نے خطرہ بھانپ لیا اور اسے محض زکوٰۃ کی ادائیگی ہی نہیں سمجھا بلکہ حلیف قبائل کا وفاق سے ہونے والے معاہدے کی روگردانی سمجھا۔ آپ ایک لمحے کے لیے بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوئے کہ مجھے گڈ قبائل اور بیڈ قبائل کی درجہ بندی کرنی چاہیے۔ نہ ہی آپ نے اس نازک مرحلے پر مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کرکے باغی عناصر کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا۔ نہ ہی آپ نے بعض قبائل کی پشت پناہی کر کے انہیں ریاست کی خفیہ طاقت بنایا اور انہیں دیگر قبائل سے لڑوانے کا بندوبست کیا۔

 آپ نے سادہ سے خطوط لکھ کر قبائل کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور اطاعت نہ کرنے پر آپ نے مختلف لشکر تشکیل دیے اور باغی قبائل کی طاقت کو کچل کر رکھ دیا۔ اگر آپ اس نازک دور میں یہ مختلف اور مشکل فیصلہ نہ کرتے تو ریاست ہمیشہ کے لیے کبھی ایک قبیلے سے تو کبھی دوسرے قبیلے سے بلیک میل ہوتی رہتی۔

نبی کریم (ص) کو ملنے والی شاندار کامیابیوں نے لالچی افراد کے لیے نبوت کے منصب کو بھی پرکشش بنا دیا تھا اور قریب چار افراد نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے اپنے قبائل کو مدینہ کی مرکزی ریاست سے علیحدہ کر لیا۔ خلیفہ اول نے جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف بھی بلا تعطل کارروائی کی اور ان کا خاتمہ کردیا۔

قرآن واحد دستاویز تھی جس پر امت کو متحد کیا گیا تھا لیکن نبی کریم (ص) کے دور میں یا تو یہ اصحاب کی یادداشتوں میں محفوظ تھا یا مختلف اشیا پر۔ اسے کتابی شکل میں نہیں لکھا گیا تھا۔ خانہ جنگی کے دوران اصحاب رسول کی کثرت سے شہادتوں کے بعد یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں کتاب الٰہی محفوظ ہونے سے رہ نہ جائے آپ نے اسے ایک کتابی شکل دی جو آج تک امت میں اسی حالت میں موجود ہے۔

 ہمارے ہاں دور حکمرانی کے لیے حضرت عمر فاروق کو بہت سراہا جاتا ہے لیکن حضرت عمر کو ویسے مسائل کسی دور میں درپیش نہیں رہے جو حضرت ابوبکر کو رہے تھے۔ حضرت ابوبکر نے فتوحات کا وہ مومینٹم بنا دیا تھا کہ حضرت عمر کو سرحدی صورتحال سنبھالنے میں دشواری نہیں ہوئی۔ حضرت عمر کا اصل کارنامہ نظام حکومت ترتیب دینا تھا جبکہ ریاست کے قیام میں جو خدمات حضرت ابوبکر صدیق نے سرانجام دیں وہ تاریخ عالم میں کسی نے نہیں دیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home