Sunday, 29 June 2025

فریڈم فائٹرز فار آل ٹائمز: امام حسینؑ کی سول نافرمانی کا وہ ماڈل جو آج بھی جابرانہ نظاموں کو للکارتا ہے۔


10 محرم، 61 ہجری (680 عیسوی)۔ صحرا کی تپتی ہوئی زمین پر، ایک چھوٹی سی جماعت، پیاس سے نڈھال، اپنے سے کئی گنا بڑی اور مسلح فوج کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کا رہنما، امام حسینؑ، نواسۂ رسولؐ، پوری انسانیت کے سامنے ایک سوال رکھ رہا ہے: کیا آپ اپنے ضمیر، اپنے ایمان، اور اپنی بنیادی انسانی شرافت کو ایک جابر، بدکردار اور نااہل حکمران کے سامنے بیچ دیں گے؟ صرف چند گھنٹوں بعد، امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھی شہید ہو جائیں گے، لیکن ان کی آواز اور ان کا قیام تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دے گا۔ یہ محض ایک مذہبی واقعہ نہیں تھا؛ یہ انسانی ضمیر اور سول نافرمانی کی ایک ایسی عالمگیر داستان تھی جو آج، چودہ سو سال بعد، ہانگ کانگ کی گلیوں سے لے کر قاہرہ کے تحریر اسکوائر تک، ظلم کے خلاف پرامن مزاحمت کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔

"میں بغاوت نہیں کر رہا... میں اصلاح چاہتا ہوں": سول نافرمانی کا بنیادی فلسفہ یہی ہے ۔امام حسینؑ کا قیام ایک کلاسیکی بغاوت نہیں تھی۔ انہوں نے زمینی فوجیں نہیں اکٹھی کیں، قلعے نہیں فتح کیے، یا اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی جدوجہد کا محور ایک بنیادی اصول تھا: "حیاتِ انسانی کی بنیاد سچائی، انصاف اور وقار پر قائم ہے۔ جب یہ اصول پامال ہوں، تو خاموشی اور اطاعت خود ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔"

جب یزید بن معاویہ، ایک ایسا شخص جس کی اخلاقی پستی، ظلم اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف عیاں تھا، نے امام حسینؑ سے اپنی حکومت کے لیے بیعت کا مطالبہ کیا، تو امامؑ نے صاف انکار کر دیا۔ ان کا موقف واضح تھا: "یزید جیسے فاسق کے ہاتھ پر بیعت کرنا، خدا کے سامنے کفر کے برابر ہے اور رسولؐ کی رسالت کی توہین ہے۔یہ انکار اقتدار کی خاطر نہیں، بلکہ اصولوں، حقیقت (حق) اور انسانی وقار کی خاطر تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امام حسینؑ نے عملی طور پر سول نافرمانی (Civil Disobedience) کا وہ پرچم بلند کیا جو ہنری ڈیوڈ تھورو اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے صدیوں پہلے کا تھا۔ ان کا عمل گاندھی کے ساتیہ گرہ (سچ کی طاقت) اور کنگ کے غیر متشدد مزاحمت کے تصورات کا پیش خیمہ تھا۔

مکہ سے کربلا تک سفر اصل میں  پرامن مزاحمت کا جامع بلیو پرنٹ ہے۔ امام حسینؑ کی ساری حکمت عملی پرامن مزاحمت کے اصولوں پر استوار تھی۔

سب سے پہلے انہوں نے ظلم سے انکار اور علیحدگی اختیار کی۔ انہوں نے یزید کی حکومت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی۔ مدینہ چھوڑ دیا، مکہ میں پناہ لی۔

دوسرے نمبر پہ انہوں نے مکالمے کی کھلی دعوت دی۔  انہوں نے کوفہ کے لوگوں سے خط و کتابت کی، انہیں اپنے فرض کی یاد دلائی اور انصاف کے لیے کھڑے ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے یزیدی فوج کے سامنے بھی متعدد تقریریں کیں، ان کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی، جنگ سے گریز کیا۔

تیسرے نمبر پہ تشدد کے آغاز کے بغیر حتمی قربانی پر آمادگی  ظاہر کی۔ مذاکرات ناکام ہوئے اور فرات کا پانی بند کر دیا گیا، جب راستہ روک لیا گیا، اور جب یزیدی فوج نے پہل کی اور جنگ مسلط کی، تب ہی امام حسینؑ نے دفاعی جنگ لڑی۔ انہوں نے کبھی پہل نہیں کی۔ ان کا مقصد قتل و غارت نہیں، بلکہ اپنے خون سے ظلم کی حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا تھا۔ یہ مظلومیت کا ہتھیار (Weaponization of Suffering) تھا، جس کا مقصد عوام کی بیداری تھا۔

چوتھے نمبر پہ انہوں نے پیغام کی بقاکو اپنی ذات پہ ترجیح دی۔ امام حسینؑ نے اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنا پیغام بر بنایا۔ کوفہ اور شام میں ان کے تاریخی خطبوں نے یزیدی پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر دیا اور قیام کے حقیقی مقاصد کو امر کر دیا۔ یہ حقیقت کی بازیافت (Truth Recovery) کا کلاسیکی نمونہ تھا۔

عرب اسپرنگ سے لے کر ہانگ کانگ تک جدید دنیا میں امام حسین ؑ کے قیام کے اصولوں کی  گونج آج تک ہے۔ امام حسینؑ کے قیام کے اصول آج کی سیاسی تحریکوں میں واضح طور پر نظر آتے ہیں:

عرب اسپرنگ (2010-2012) :تیونس کے محمد البوعزیزی کی خودسوزی، ایک فرد کی مظلومیت کی انتہائی قربانی  نے پورے خطے میں دیکھتے ہی دیکھتے آمر حکمرانوں کے خلاف پرامن احتجاجی لہر کو جنم دیا۔ التحریر اسکوائر، کئیر الاحرار (سیریا)، اور پورے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں افراد نے نعرے لگائے: "عاش، شہید، علیک رضا" (زندہ، شہید، ہم تیری رضا چاہتے ہیں)۔ یہ امام حسینؑ کے نعرہ "ہل من ناصر ینصرنی" (کوئی ہے جو میری مدد کرے؟) کی صدیوں بعد گونج تھی۔ ان تحریکوں کا مرکزی ہتھیار بھی پرامن مظاہرے، سول نافرمانی (ہڑتالیں، بیٹ انز)، اور سوشل میڈیا کے ذریعے حقیقت کی تشہیر تھی۔ مصر میں حسنی مبارک کا عوامی دباؤ کے سامنے جھکنا، امام حسینؑ کی جدوجہد کی طاقت کی گواہی دیتا ہے، اگرچہ بعد ازاں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

 2014 سے 2019 تک  ہانگ کانگ  میں جاری امبریلا موومنٹ کے تحت ہونے والا  احتجاج  جس میں امپائرل" کے خلاف "لمبریلز" کا پرامن جدوجہد، خاص طور پر 2019 کے وسیع پیمانے پر احتجاجات، سول نافرمانی کا جدید ترین نمونہ تھے۔ ہڑتالیں، تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ، ہوائی اڈے اور شاپنگ مالز کی بندش، انسانی زنجیریں بنانا، اور انتہائی منظم طریقے سے عوامی مقامات کا قبضہ – یہ سب امام حسینؑ کی اس حکمت عملی سے ملتے جلتے اقدامات تھے جن کا مقصد ریاستی ظلم کو بے نقاب کرنا اور عالمی توجہ حاصل کرنا تھا۔ ان مظاہرین نے بھی، امام حسینؑ کی طرح، ایک طاقتور اور بے رحم ریاستی مشینری کے سامنے اپنے وجود کو خطرے میں ڈال دیا۔ ان کا نعرہ " Be Water”  درحقیقت پرامن مزاحمت کی لچک اور پھیلاؤ کی علامت تھا۔

دیگر مثالوں میں میانمار میں روہنگیا اور دیگر اقلیتوں کے خلاف پرامن مزاحمت، بیلاروس میں الیگزینڈر لُوکاشینکو کے خلاف 2020 کے وسیع احتجاجات، ایران میں "زنا، زندانی، اذیت" کے نعرے، اور یوکرین میں یورومیدان تحریک – ان سب میں ایک مشترکہ دھاگہ وہی ہے جو کربلا سے جڑا ہےبنیادی انسانی حقوق، آزادی اور انصاف کے لیے، تشدد کا سہارا لیے بغیر، ایک ناہموار جنگ لڑنے کا عزم۔

کربلا کا سبق جاننے سے پہلے  پرامن مزاحمت کی کامیابی اور اس کی قیمت جاننی چاہیے۔ امام حسینؑ فوری فوجی فتح حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن کیا ان کا قیام ناکام تھا؟ قطعی نہیں۔ ان کی شہادت نے:

1.      یزید کی حکومت کو اخلاقی طور پر تباہ کر دیااس کا ظالم اور نااہل چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔

2.      ضمیروں کو جگا دیاکربلا کے فوری بعد ہی کوفہ اور شام میں پشیمانی کی لہر دوڑ گئی۔ تحریکِ توابین جیسی مزاحمتی تحریکیں ابھریں۔

3.      ایک لازوال علامت تخلیق کی: "حق" کے لیے کھڑے ہونے، ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے، اور اصولوں پر قربانی دینے کی یہ مثال ہمیشہ کے لیے انسانی ضمیر کا حصہ بن گئی۔

4.      پرامن مزاحمت کی حتمی طاقت ثابت کییہ ثابت کیا کہ ایک فرد یا چھوٹی سی جماعت کا حق پر استقامت، طاقت کے تمام تر مظاہرے کے باوجود، تاریخ کو بدل سکتا ہے۔

گاندھی نے کہا تھا: "میں نے مسلمانوں سے سیکھا کہ انصاف کے لیے مرنا کیا ہوتا ہے، اور یہ سبق میں نے حسینؑ، اسلام کے شہزادے، سے حاصل کیا۔نیلسن منڈیلا نے اپنی جدوجہد میں کربلا کی قربانیوں سے حوصلہ پایا۔

آج کے جابرانہ نظاموں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ امام حسینؑ کا پیغام آج کے جابر حکمرانوں، آمریت پسند نظاموں، اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کے لیے بھی ایک واضح انتباہ ہے: "آپ عارضی طور پر طاقت حاصل کر سکتے ہیں، خوف پھیلا سکتے ہیں، اور مخالفوں کو خاموش کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ ان لوگوں کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے نہیں مار سکتے جو حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک حسینؑ شہید ہو گا، لیکن ہزاروں حسینؑ پیدا ہوں گے۔ آپ کا ظلم ہی آپ کے زوال کا سبب بنے گا۔"

کربلا کی داستان صرف شیعہ مسلمانوں کی نہیں؛ یہ تمام انسانیت کی مشترکہ میراث ہے جو آزادی، انصاف، اور اپنے ایمان کے لیے کھڑے ہونے کی بات کرتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ سول نافرمانی اور پرامن مزاحمت صرف نظریاتی تصورات نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کے اہم ترین اور سب سے متاثر کن واقعات کی تشکیل کرنے والے عملی ہتھیار ہیں۔ جب بھی کوئی نوجوان ہانگ کانگ میں چہرے پر ماسک لگا کر پولیس کے لاٹھی چارج کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، جب بھی کوئی خاتون ایران میں حجاب کے خلاف اپنا سر ننگا کرتی ہے، جب بھی کوئی صحافی سچ بولنے کے لیے جیل جاتا ہے، یا جب بھی کوئی عوامی مقام پر اکیلا کھڑا ہو کر نعرہ لگاتا ہے – وہ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، امام حسینؑ اور کربلا کے میدان میں شہید ہونے والے 72 افراد کی روایت کو زندہ رکھ رہا ہوتا ہے۔

امام حسینؑ کا قیام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی روح کی آزادی، ضمیر کی آواز، اور ظلم کے خلاف پرامن مزاحمت کی طاقت کبھی شکست نہیں کھا سکتی۔ یہی وہ لازوال پیغام ہے جو کربلا سے نکل کر آج بھی دنیا بھر میں گونجتا ہے، ہر اس فرد کے لیے جو یہ سوچتا ہے کہ ظالم کے سامنے کھڑا ہونا بے معنی ہے۔ حسینؑ کہتے ہیں: یہ نہ صرف معنی رکھتا ہے، بلکہ یہی وہ واحد چیز ہے جو حقیقی معنوں میں جیتتی ہے۔

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home