معاہدہ تاشقند : صدر ایوب خان کے زوال میں لگنے والی آخری کیل
پاکستان
کی سیاسی اور سفارتی تاریخ میں "معاہدہ تاشقند" ایک ایسا باب ہے جس نے
نہ صرف 1965 کی پاک بھارت جنگ کا خاتمہ کیا، بلکہ پاکستان کی داخلی سیاست میں ایک
زبردست تلاطم برپا کر دیا۔ یہ معاہدہ، جو 10 جنوری 1966 کو سوویت یونین (موجودہ
روس) کے شہر تاشقند میں صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال
بہادر شاستری کے درمیان طے پایا، بظاہر امن کا پیغام تھا مگر اس کے بطن سے اٹھنے
والے سیاسی طوفان نے بالآخر ایوب خان کے دس سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ اس
معاہدے کے پس منظر، محرکات اور اس کے دور رس اثرات کو سمجھنے کے لیے معتبر سیاسی
کتب اور اس دور کے عینی شاہدین کے بیانات کا تجزیہ ضروری ہے۔
1965
کی جنگ کے بعد جب اقوامِ متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی عمل میں آئی، تو دونوں ممالک
کے درمیان تنازعات جوں کے توں برقرار تھے۔ اس صورتحال میں سوویت یونین نے ثالث کا
کردار ادا کرنے کی پیشکش کی، جسے دونوں فریقین نے قبول کر لیا۔ ڈاکٹر صفدر محمود
اپنی کتاب "Pakistan: Political
Roots and Development" میں لکھتے ہیں کہ
تاشقند کانفرنس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور
مقبوضہ علاقوں سے افواج کی واپسی کو یقینی بنانا تھا۔ کانفرنس کے دوران کئی روز تک
تعطل برقرار رہا کیونکہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر ٹھوس پیش رفت چاہتا تھا جبکہ
بھارت کا اصرار "عدم جارحیت" کے معاہدے پر تھا۔ بالآخر سوویت وزیراعظم
الیکسی کوسیگن کی انتھک کوششوں سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جسے "اعلامیہ
تاشقند" کہا جاتا ہے۔
اس
معاہدے کی اہم شقوں میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک اپنی افواج کو ان پوزیشنوں پر
واپس لے جائیں گے جو 5 اگست 1965 سے پہلے ان کے پاس تھیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے
کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے، ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ روکنے اور
سفارتی تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے پر راضی ہو گئے۔ تاہم، اس معاہدے میں مسئلہ
کشمیر کے حل کے لیے کوئی واضح روڈ میپ موجود نہیں تھا، بلکہ صرف اتنا کہا گیا کہ
دونوں فریقین اس مسئلے پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے پاکستان
کے اندر شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی۔
تاشقند
معاہدے کے سیاسی اثرات پر بحث کرتے ہوئے حامد خان اپنی تصنیف "Constitutional and
Political History of Pakistan" میں لکھتے ہیں کہ
پاکستانی عوام، جنہیں جنگ کے دوران یہ تاثر دیا گیا تھا کہ پاکستان فتح کے قریب
ہے، اس معاہدے کو ایک "سفارتی شکست" سمجھنے لگے۔ عوام کا خیال تھا کہ جو
جنگ میدانِ جنگ میں جیتی گئی تھی، وہ میز پر ہار دی گئی۔ اس عوامی غصے کو اس وقت
کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بڑی مہارت سے استعمال کیا۔ بھٹو، جو معاہدے کے
دوران ایوب خان کے ساتھ تھے، تاشقند سے واپسی پر خاموش رہے لیکن ان کی اس خاموشی
نے ایوب خان کے خلاف ایک عوامی بیانیے کو جنم دیا کہ "تاشقند میں کوئی خفیہ
سودا ہوا ہے"۔
الطاف
گوہر، جو اس وقت ایوب خان کے قریب ترین مشیر تھے، اپنی کتاب "Ayub Khan: Pakistan's
First Military Ruler" میں اس معاہدے کے
دفاع میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ جنگ
کی طوالت پاکستان کی معیشت اور دفاعی صلاحیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن
سیاسی طور پر یہ معاہدہ ایوب خان کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ بھٹو نے اسی
معاہدے کو بنیاد بنا کر ایوب خان سے راہیں جدا کیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی
بنیاد رکھی۔ انہوں نے "تاشقند کے راز" افشا کرنے کا نعرہ لگا کر ایوب
خان کے خلاف ایک ایسی تحریک کھڑی کر دی جس نے ملک کے طول و عرض کو اپنی لپیٹ میں
لے لیا۔
مشرقی
پاکستان کے حوالے سے اس معاہدے کے اثرات اور بھی زیادہ سنگین تھے۔ وہاں کے عوام نے
محسوس کیا کہ 1965 کی جنگ کے دوران وہ دفاعی طور پر بالکل تنہا چھوڑ دیے گئے تھے
اور تاشقند معاہدے نے ان کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے انہیں مزید غیر محفوظ بنا
دیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے اسی تناظر میں اپنے "چھ نکات" پیش کیے، جس نے
پاکستان کی وحدت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے۔ مہرالنسا علی اپنی کتاب "Politics of Federalism
in Pakistan" میں رقم طراز ہیں کہ تاشقند معاہدے نے
مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی بعد کو اس حد تک بڑھا دیا کہ پھر اسے کم
کرنا ناممکن ہو گیا۔
تاشقند
معاہدے کی ایک اور اہم جہت سوویت یونین کا جنوبی ایشیا کی سیاست میں بڑھتا ہوا اثر
و رسوخ تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ امریکہ کے بجائے سوویت یونین نے خطے کے دو بڑے
ممالک کے درمیان ثالثی کی تھی۔ اس معاہدے کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم لال بہادر
شاستری کا تاشقند میں ہی انتقال ہو گیا، جس نے اس تاریخی موقع کو مزید افسردہ اور
یادگار بنا دیا۔ اسٹینلے وولپرٹ نے اپنی مختلف تحریروں میں اس واقعے کو جنوبی
ایشیا کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دیا ہے جس نے خطے کی جیو پولیٹکس کو تبدیل کر
دیا۔
نتیجہ
کے طور پر، تاشقند معاہدہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسی دستاویز کے طور پر یاد
رکھا جاتا ہے جس نے بظاہر جنگ تو روک دی لیکن ملک کے اندر ایک ایسی سیاسی جنگ کا
آغاز کر دیا جس کا اختتام ایوب خان کی رخصتی اور بالآخر سقوطِ ڈھاکہ پر ہوا۔ یہ
معاہدہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سفارتی فیصلے اگر عوامی امنگوں اور زمینی حقائق سے
ہم آہنگ نہ ہوں، تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ایوب خان کی سیاسی
بصیرت یہاں مات کھا گئی کیونکہ وہ عوام کو اس معاہدے کی ضرورت اور اہمیت پر قائل
کرنے میں ناکام رہے، اور یہی ناکامی ان کے سیاسی اقتدار کے خاتمے کا سبب بنی۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home