ایثار قربانی کی روح ہے۔ مواخات مدینہ ایثار کی بہترین شکل ہے
ایثار قربانی کی روح ہے۔ مواخات مدینہ ایثار کی اعلی مثال
ایک دو روز سے سوشل میڈیا پہ ایک میسج پھیل رہاہے کہ جن احباب نے قربانی کرنی ہے وہ ذی الحج کا چاند نظر آنے سے قبل اپنے بال اور ناخن ترشوا لیں ۔ یہ غالبا قربانی کی ایس۔ او ۔پیز میں شامل ہے۔ قربانی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ یہ صاحب حیثیت طبقے کے لیے ہے۔ یہ واحد سنت ِ رسول ﷺ جو نہایت جوش و خروش اور مذہبی جذبے کے ساتھ منائی جاتی ہے۔
صاحب ثروت طبقے کے لیے ایک اور بھی سنت رسول ﷺ ہے جو قربانی کی اصل روح ہے۔ نبی کریم ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین اپنا گھر بار مکہ چھوڑ آئے تھے ۔یہ افراد اپنی مرضی سے مکہ سے مدینہ نہیں پہنچے تھے۔ ان میں بیشتر وہ تھے جن کا مال اسباب لوٹ لیا گیا تھا یا اونے پونے داموں ہڑپ لیا گیا تھا۔ قریب تھا کہ ان کے قتل عام کا حکم بھی جاری کر دیا جاتا۔ عام ہجرت کا حکم اسی تناظرمیں آیا تھا۔ ہجرت کرنے والے افراد کا جرم صرف شرک سے منہ موڑنا ہی نہ تھا بلکہ عمومی غربت بھی تھا۔ ہجرت کرنے والوں میں چند مالدار احباب بھی تھے مگر نقل مکانی نے انہیں بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ مہاجرین کی مدینہ آمد سے مدینہ اضافی آبادی کے بوجھ تلے دب گیا۔
ایسے میں نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے انصار کو یہ تجویز دی کہ جو صاحب ثروت ہیں وہ ایک ایک مہاجر کی رہائش، خوراک اور دیگر ضروریات کا بوجھ اٹھا لیں۔ اس طرح مدینہ کی بستی میں آئے 56 مہاجرین کو 56 انصار گھروں میں اکاموڈیٹ کر لیا گیا۔
یہاں پہ دو رویے ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ پہلا رویہ انصارکا ہے ۔ انصار نے نبی کریم ﷺ کی اس تجویز کو حکم کے درجےمیں لیا۔ انصار نے اپنے مہاجر بھائی کو اپنے ساتھ لیا اور اپنے گھر میں موجود ہر چیز نصف کر کے اپنے مہاجر بھائی کے حوالے کی۔ یہ اخوت اس حد تک تھی کہ حدیث حضرت عبدالرحمان بن عوف کے حوالے سے بیان کرتی ہے کہ جب مہاجر لوگ مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں انصار میں سب سے زیادہ دولت مند ہوں اس لیے آپ میرا آدھا مال لے لیں اور میری دو بیویاں ہیں آپ انہیں دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو اس کے متعلق مجھے بتائیں میں اسے طلاق دے دوں گا۔ عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں''
ایثار کا ایک اور واقعہ بھی سنیں”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔
دوسرا رویہ مہاجرین کا سامنے آتا ہے۔ جنہوں نے انصار کے ایثار کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے انصار پہ مسلسل بوجھ بننے کی بجائے محنت کے میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ مدینہ میں اوس اور جزرج کے مسلمان زراعت سے وابستہ تھے ۔ مدینہ میں بڑی تعداد میں مقیم یہود تجارت پہ قابض تھے۔ مکہ سے آئے مسلمان زراعت سے نابلد تھے لیکن تجارت کے رموز سے بخوبی واقف تھے۔ اس طرح مدینہ کا تجارتی محاذ بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں آنے لگا۔ تجارت میں یہود کی مونوپلی ختم ہونے سے انصار کو بھی راحت محسوس ہونا شروع ہو گئی ۔
اب آئیے اس سنت رسول ﷺ کی دور حاضر میں ضرورت پہ۔ ہم قربانی کرتے ہیں۔ اپنا صاحب ثروت ہونا ظاہر بھی کرتے ہیں ۔ یقینا ثواب کی نیت اور سنت رسول کی ادائیگی میں ہی کرتے ہوں گے لیکن اتنا کر لینے سے ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ صاحب ثروت طبقے کو انصار مدینہ کے نقشہ قدم پہ چلنا ہو گا۔ زیر دست طبقے کو اوپر اٹھانے میں انکی مالی معاونت کریں۔ اور ٹکینکل سہولیات فراہم کریں۔ تاکہ معاشرے میں معاشی ناہمواری ختم ہو سکے۔
اگر آپ کسی زیر دست مسلمان کا بوجھ اٹھاتے ہیں تو آپ کو مندرجہ ذیل شرائط کو اپنی نظر میں رکھنا ہو گا۔
اخوت صرف رضا الہی کے لئے ہو۔تاکہ کسی پہ کوئی احسان نہ سمجھا جائے۔ اخوت ایمان و تقویٰ کی بنیاد پر ہو تاکہ اسے بوجھ نہیں ذمہ داری محسوس کیا جائے۔ اخوت اسلامی اصولوں اور احکام کی روشنی میں ہو تاکہ کسی دوسرے حقدار کا حق نہ مارا جائے۔ یعنی وفات کی شکل میں وراثت کے قوانین قرآن کے طے شدہ طریقے پر ہی ہوں گے۔ اخوت خیر خواہی اور بھلائی کے لئے ہو۔اخوت کا اظہار مشکلات و تکالیف اور خوشی و آرام ہو۔
ذیل میں چند ایسی صورتیں بیان کر نے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم آج کے دور میں اخوت کے اس نظام کو بہتر اور مربوط کیسے کر سکتے ہیں ۔
پہلے نمبر پہ سوشل ویلفیئر تنظیموں کے ذریعے اسلامی اخوت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو لوگوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل میں مدد کر سکیں۔یہ کام دنیا بھر میں بھی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔اور کسی حد تک ہوبھی رہا ہے مگر اس میں شفافیت اور وسعت کی ضرورت ہے۔تاکہ تنظیموں کو چندہ اکٹھا کرنے کی مشین نہ بننے دیا جائے۔
دوسرے نمبر پہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی بڑی اور چھوٹی لاکھوں مساجد موجود ہیں۔مساجد کو اخوت اور بھائی چارگی کا مرکز بنایا جا سکتا ہے جہاں نمازیوں کے درمیان تعاون اور مدد کا نظام قائم کیا جا سکے۔اور مساجد ویسے بھی بہترین کمیونٹی سینٹر کا درجہ رکھتی ہیں۔رسول اللہ ﷺ اخوت ، ایثار اور تعاون کے کئی سلسلے مسجد نبوی سے چلایا کرتے تھے۔آج بھی مسلمان انتہائی آسانی سے کرسکتے ہیں۔ بس درد دل کی ضرورت ہے۔
تیسرے نمبر پہ مواخات کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مفت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز کا قیام ضروری ہے تاکہ ہر فرد اپنے معاشی مسائل کا حل خود نکال سکے۔دینی مدارس کسی حد تک یہ کام کرتی ہیں تاہم اس کو بھی ریاستی اور بین الاقومی سطح پر وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
چوتھے نمبر پہ معاشرتی ناہمواریوں کو دور کرنے کے لئے فوڈ بینکس اور صحت کے مراکز کا قیام بھی اسلامی اخوت کا بہترین عملی مظہر ہو سکتا ہے۔اس کی بھی کچھ مثالیں ملک عزیز میں ملتی ہیں تاہم اس کام کو بھی انتہائی منظم اور وسیع پیمانے میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی انسان بھوکا نہ رہے اور نہ ہی بے علاج۔
پانچویں نمبر پہ اخوت اسلامی کے اصول کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کمیونٹی سروسز جیسے کہ صحت کے مراکز، یتیم خانوں، بیوہوں کی مدد اور بے روزگاروں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
چھٹے نمبر پہ آج کے دور میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی مدد کرنا اسلامی اخوت اور بھائی چارگی کا عملی مظاہرہ ہو سکتا ہے۔ ان کے لئے عارضی رہائش اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ایک اہم قدم ہے۔سیلاب اور قدرتی آفات سے متاثر لوگوں کو بھی اسی اخوت کے جذبے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک میں کچھ سال پہلے سیلاب نے تباہی مچادی تھی۔ حدیقہ قیانی کی فاونڈیشن اور اخوت فاؤنڈیشن نے اخوت اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بساط سے زیادہ ان متاثرین کو گھر بنانے اور بسانے میں معاونت کی جو انتہائی مستحسن ہے۔
ساتویں نمبر پہ مواخات کا ایک اور عملی اطلاق یہ ہے کہ ہم انسانی حقوق اور انصاف کے قیام کے لئے بھرپور کوششیں کریں، اور مظلوموں کی مدد کریں تاکہ وہ معاشرے میں اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔اس کام کو بھی مختلف شکلوں میں کیا جاسکتا ہے۔
آٹھویں نمبر پہ یہ بھی اخوت کے اظہار کی ایک شکل ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے ملاقاتیں کریں، سلام کریں اوروقتا فوقتا خبرگیری کرتے رہے۔
نویں نمبر پہ اخوت اسلامی کے لئے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کریں، ان کے جنازوں میں شریک ہوجائیں اور دعوتوں کا اہتمام کریں۔
دسویں نمبر پہ اخوت کی بہترین شکل یہ بھی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے حسد ،کینہ اور ضد نہ کریں اور نہ کسی قسم کا ظلم، استہزا، تحقیر و اہانت کریں۔اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی خطاؤں کو معاف کریں، عیوب چھپائیں اور غیبت سے پرہیز کریں۔
اگر ہم معاشرہ ہمارے اوپر جو ذمہ داری عائد کرتا ہے وہ بوجھ نہیں ہے اسے احسن طریقے سے نبھائیے۔ سب کچھ آخرت کے لیے کر رہے تو پھر دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں اچھا اچھا کاشت کریے تاکہ آخرت میں کاٹ سکیں


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home