پاکستان میں ٹریفک حادثات: ایک خاموش قاتل
پاکستان میں ٹریفک حادثات: ایک خاموش قاتل
روزانہ پاکستان میں کسی نہ کسی جگہ "حادثاتی" طور پر آگ لگتی ہے اور سڑکیں بھی روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو موت بانٹتی ہیں۔ آگ لگنے کے واقعات اور سڑکوں پر ہونے والے حادثات کا اگر ڈیٹا نکال کر تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ہم دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم کی وجہ سے اتنے جانی و مالی نقصان کا شکار نہیں ہوئے جتنا ان دو وجوہات کی بنا پر ہمیں نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ ریاست کی ساری توانائی خرچ کر کے ہم دہشت گردی کی روک تھام ممکن بنانے میں 15 سال صرف کر بیٹھے مگر دہشت گردی کا مسئلہ اپنی جگہ بدستور قائم ہے۔ کیا ٹریفک حادثات میں مرنے والے پاکستان کے شہری نہیں؟ کیا ان مرنے والوں کے وارث نہیں ہوتے؟ ریاست کا ٹریفک حادثات سے آنکھیں بند کر لینا کیا ریاستی ذمہ داریوں سے احسن سبکدوشی ہے؟
ٹریفک حادثات کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے ایک جامع کمیشن کی تشکیل ضروری ہے۔ روزانہ سڑکوں پر سفر کرنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ زیادہ تر حادثات کی وجہ تیز رفتاری ہے۔ سڑکوں کا کشادہ نہ ہونا اور بروقت مرمت سے غفلت بھی ان حادثات میں اضافے کا باعث ہے۔ غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، پارکنگ ایریا کی ناکافی سہولیات اور غیر تربیت یافتہ پولیس کا نظام اس امر کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔ ایسی ہی کئی وجوہات ہم سب کے مشاہدے میں روزانہ آتی ہیں، لیکن آج کے کالم کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات کا پتہ لگانا نہیں بلکہ ان اقدامات کی کھوج ہے جن سے یہ حادثات کم ہو جائیں اور سڑکوں پر زندگی محفوظ تصور کی جانے لگے۔
پہلے نمبر پہ حکومت ٹریفک لائسنس کے عمل کو آسان بنائے۔ تحصیل کی سطح پر ٹریفک لائسنس کے حصول کے مراکز کھولے جائیں۔ آن لائن رجسٹریشن کی سہولت دینے سے یہ عمل مزید آسان ہو جائے گا۔ لائسنس سے قبل سخت ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جائے۔ لائسنس جاری کرنے والے آفیسر کا نام لائسنس پر درج ہو۔ لائسنس جس نوعیت کی گاڑی کے لیے حاصل کیا جائے، اس کے علاوہ کوئی دوسری گاڑی چلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ لائسنس صرف ایک سال کے لیے جاری کیا جائے اور ایک سال کے بعد اس کی توسیع دوبارہ کڑے امتحانی عمل کے بعد کی جائے۔ اس عمل سے سرکار کے ریونیو میں اضافہ ہوگا اور باصلاحیت افراد سڑکوں پر نظر آئیں گے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا ناممکن بنا دیا جائے۔
دوسرے نمبر پہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ چالان شدہ افراد چالان کی پرچی اپنے پاس رکھ کر دوبارہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ ٹریفک چالان ہو جانے کے بعد گاڑی اس وقت تک سڑک پر چلانے کی اجازت نہ دی جائے جب تک وہ چالان کی رقم ادا نہ کر دے۔ اگر کوئی شخص ایک سال میں 4 بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو اس کا لائسنس 5 سال کے لیے منسوخ کر دیا جائے۔
تیسریے نمبر پہ ٹریفک چالان کی رقم بھی اس قدر کم ہے کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ٹریفک چالان کی رقم ڈرائیور کی مالی حیثیت (اوقات) سے زیادہ ہونی چاہیے تاکہ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی متحمل نہ ہو سکے۔ اگر موٹر سائیکل والے کا چالان 5 ہزار روپے ہو جائے تو وہ ساری زندگی موٹر سائیکل کو اپنی مقررہ حدود کے اندر ہی چلائے گا۔
چوتھے نمبر پہ یہ کہ لائسنس کے اجرا کے لیے قومی شناختی کارڈ لازمی ہے۔ اس لیے اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کو کسی صورت گاڑی چلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ امر ٹریفک حادثات میں یکسر کمی کا سبب بنے گا۔ اگر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد سڑک پر گاڑی چلاتے پائے جائیں تو گاڑی ضبط کرنے سمیت ان کے والدین کو بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی جائیں، جو اپنی اولاد کے شوق کی خاطر دوسروں کے گھروں کے چراغ گل کر دیتے ہیں۔
پانچویں نمبر پہ یہ کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ڈیوٹی اوقات میں نرمی لائی جائے اور ان کی مراعات میں اضافہ کیا جائے۔ چالان سے قبل ناقابلِ تردید ثبوت پیش کرنا ضروری قرار دیا جائے۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے۔ ٹریفک حادثے کا سبب اگر کوئی بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والا شخص ہو تو اس علاقے میں ڈیوٹی پر مامور ٹریفک پولیس اہلکار کو "معاونتِ جرم" کے تحت مقدمے میں فریق بنایا جائے۔
چھٹے نمبر پہ یہ کہ موٹروے پولیس کی طرز پر ہائی وے پولیس کو الگ اور بااختیار ادارہ بنایا جائے تاکہ سفارش، تعارف اور دھونس دھاندلی کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔ جرم کے مرتکب افراد کو موقع پر جرمانہ ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔ اگر کسی کو جرمانے پر اعتراض ہو تو اسے عدالت جانے کا استحقاق حاصل ہو۔ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو تو عدالت پولیس اہلکار کی تنخواہ سے اس شخص کا ازالہ کرے۔ ان کے لیے الگ عدالتی نظام متعارف کروایا جائے جہاں وکیل کے بغیر حاضر ہونے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ساتویں نمبر پہ یہ کہ سنگل سڑک کو "دو رویہ" میں تبدیل کر دیا جائے۔ جب تک یہ ممکن نہ ہو، سڑک کے درمیان ایک ایسی دیوار لازمی بنائی جائے جسے پھلانگنا ممکن نہ ہو۔ مخصوص جگہوں سے ہی سڑک پار کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ سڑک پار کرنے (پیدل چلنے) والے افراد کو بھی (خلاف ورزی پر) جرمانے اور قید کی سزائیں دی جائیں۔
آٹھویں نمبر پہ یہ کہ بس سٹاپ کی واضح نشاندہی کی جائے۔ وہاں سرکار مناسب سائے اور بیٹھنے کا بندوبست کرے۔ تمام پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے لازمی ہو کہ وہ سواریاں صرف انہی مخصوص جگہوں سے اٹھائیں اور اتاریں۔ بس سٹاپ پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے بھی تعمیر کیے جا سکتے ہیں جہاں سے اشتہارات کی مد میں کثیر سرمایہ کمایا جا سکتا ہے۔
نویں نمبر پہ یہ کہ سروس روڈ سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا ریڑھی کو پابند کیا جائے کہ وہ سروس روڈ استعمال کریں۔ سڑکوں پر مخصوص لین کے علاوہ گاڑی چلانے پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔
دسویں نمبر پہ یہ کہ ٹریکٹر ٹرالی کو (شہری علاقوں میں) ممنوعہ سواری قرار دیا جائے۔ سامان کی ترسیل کے لیے بند کنٹینرز یا ٹرک استعمال کیے جائیں۔ ٹرکوں کی آرائش کے لیے ان کے ڈیزائن کو جیسا بنایا جاتا ہے وہ قابلِ غور ہے؛ حکومت کو اس باب میں ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔ یہ ڈیزائن نہ صرف سڑک پر خطرناک ہے بلکہ ہوا کی مزاحمت کے باعث ایندھن بھی بہت ضائع ہوتا ہے۔
گیارویں نمبر پہ یہ کہ شہروں میں ٹریفک کے بے ہنگم ہونے کی وجہ سڑکوں کی گنجائش سے زیادہ ٹریفک ہے۔ اس کے لیے حکومت تجارتی مراکز کو شہر سے باہر "تجارتی زون" بنا کر منتقل کر سکتی ہے جہاں پارکنگ کی وسیع اور جدید سہولیات میسر ہوں۔
بارویں نمبر پہ کہ حادثات کے جائزے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اکثر واقعات میں موٹر سائیکل کی تیز رفتاری ملوث ہے۔ چونکہ موٹر سائیکل کا توازن دو ٹائروں پر ہے، اس لیے یہ معمولی سی غفلت سے بھی حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔ موٹر سائیکل کو بائی سائیکل سے ٹرائی سائیکل (تین پہیوں والی) میں تبدیل کرنے سے اس کی رفتار میں بھی کمی آئے گی اور یہ "زگ زیگ" طریقے سے چلائی بھی نہیں جا سکے گی۔ یوں ون ویلنگ اور جرائم میں موٹر سائیکل کے استعمال پر قابو پانا آسان ہوگا۔
تیروھویں نمبر پہ یہ کہ گاڑی کے "مینٹیننس سرٹیفکیٹ" کے بغیر سڑک پر آنے کی اجازت نہ ہو۔ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے آزادانہ اور بااختیار میکانزم تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں کی خریداری کے وقت انشورنس کروانا لازمی قرار دیا جائے۔ انشورنس کمپنیاں سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کریں، چونکہ انشورنس کمپنیاں نقصان کی ذمہ دار ہوں گی، اس لیے سرٹیفکیٹ کے حصول میں سرکاری "دو نمبری" جیسی غفلت دیکھنے کو نہیں ملے گی۔
چودھویں نمبر پہ کہ چنگ چی رکشہ کو آٹو رکشہ سے تبدیل کر دیا جائے۔ وہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ متوازن بھی ہے۔
الغرض، کئی اور ایسی تجاویز دی جا سکتی ہیں جن سے ہم ریاست پر آنے والے بے سہارا افراد کے بوجھ کو کم کر سکتے ہیں اور کئی گھرانوں کے چراغ بجھنے سے بچا سکتے ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ریاست کا فرض ہے۔ بہترین حکمت عملی، مؤثر منصوبہ بندی اور غیر جانبدارانہ عملدرآمد ہماری نسلوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔ دہشت گردی بھی اس لیے ملک کا بڑا مسئلہ ہے کہ اس میں اچانک جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت جتنی سنجیدگی سے متحرک ہے، اتنی ہی توجہ کی ضرورت اس ضمن میں بھی ہے، کیونکہ دہشت گردی کبھی کبھار انسانی جانوں سے کھیلتی ہے مگر سڑکوں پر حکومتی لاپرواہی روزانہ گھروں کو اجاڑ رہی ہے۔ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے، اس لیے خدا کے لیے مرنا اتنا آسان نہ بنائیں۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home