رائے احمد خان کھرل : پنجاب کا ٖغیرت مند سپوت
رائے احمد خان کھرل : پنجاب کا ٖغیرت مند سپوت
کچھ روز قبل "گونگا نصاب" کے عنوان سے ایک نوٹ پبلش کیا تو دل میں ایک خلش سی پیدا ہوئی کہ گاہے بگاہے دھرتی کے ان لازوال ہیروز کا ذکر بھی کیا جائے جنہوں نے غیر ملکی حملہ آوروں کے سامنے سینہ سپر ہونے میں کبھی کوتاہی نہیں کی اور نہ ہی اپنی نسلوں کے مستقبل کی خاطر قابض سامراجی طاقتوں کی ہمنوائی کی۔ ہمارا تعلیمی نصاب تو "توبۃ النصوح" کے بعد سے اب تک بیرونی جارحیت اور قابض اقوام کی مدح سرائی میں رطب اللسان ہے۔
ایک زمانہ تھا جب اوپن تھیٹر، میلوں اور ڈیروں پر فوک گلوکار اور شعرا، بالخصوص "ڈھولا" (پنجابی شاعری کی وہ صنف جس میں رزمیہ واقعات بیان کیے جاتے ہیں) پڑھنے والے ان سورماؤں کے کارناموں سے نئی نسل کو روشناس کرواتے رہتے تھے، لیکن وقت کی بے رحم رفتار نے اس کلچر کو کچل کر رکھ دیا۔ چنانچہ اس پلیٹ فارم پر ان ہیروز کے تذکرے کو زندہ رکھنا اب وقت کی اشد ضرورت ہے۔
آج ہم نے غزنوی، غوری، بابر، خلجی اور تغلق سمیت انگریزوں کو بھی اپنے محسنوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، حالانکہ یہ سب اقتدار کی ہوس میں یہاں آئے، لوٹ مار کی، قتل و غارت گری کی اور رخصت ہو گئے۔ ہم نے نہ صرف ان حملہ آوروں کو اپنے دلوں میں جگہ دی بلکہ ان کی راہوں میں پلکیں بھی بچھا دیں، مگر ان کے برعکس اسی دھرتی کے کچھ ایسے سپوت بھی تھے جنہوں نے ان کے خلاف مزاحمت کی اور اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ ان میں سے ایک نمایاں نام رائے احمد یار خان کھرل کا ہے۔ آپ 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کے خلاف برسرِ پیکار رہے اور 81 برس کی عمر میں 10 محرم الحرام کو نمازِ ظہر کی ادائیگی کے دوران انگریزوں کی گولی کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش کیا۔
رائے احمد یار خان کھرل کا مقابلہ اس انگریزی فوج سے تھا جو جدید ترین جنگی ساز و سامان سے لیس تھی، جبکہ دوسری طرف وہ "سر پھرے" کسان تھے جو اپنے وقار اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کے پاس عددی قلت بھی تھی اور وسائل کی کمی بھی، اگر کچھ تھا تو وہ صرف آزادی کا وہ جذبہ تھا جسے سرکار نے "غدر" کا نام دے کر پڑھایا۔ یہ رائے احمد خان کھرل کی اپنی شروع کی ہوئی ایک آزادانہ جنگ تھی۔ وہ اس جنگ میں کام تو آگئے مگر تاریخ کے سینے میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ نئی پنجابی نسل کو تو ان کی قبر کا پتہ تک نہیں بتایا گیا کہ کہیں تاریخ کا کوئی نیا باب ہی نہ کھل جائے۔ شاید اس لیے کہ پنجاب کی مڈل کلاس ایسی روایات پر فخر کرنے کے بجائے ان سے لاپروائی برتنے میں عافیت سمجھتی ہے۔ (واضح رہے کہ ان کا مزار فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ سے 5 کلومیٹر دور گاؤں 'جھامرہ' کے قبرستان میں واقع ہے، جہاں دو برس قبل مجھے بھی حاضری کا شرف حاصل ہوا)۔
اس زمانے میں یہ پورا علاقہ "گوگیرہ" کہلاتا تھا، لیکن انگریزوں نے ان بغاوتوں کے پیشِ نظر جب لائل پور (فیصل آباد) اور منٹگمری (ساہیوال) آباد کیے تو گوگیرہ کو ڈی سینٹرلائز کر دیا اور اس کی شناخت ایک ضلع کے بجائے محض ایک قصبے تک محدود کر دی۔ اسی لیے ان کارروائیوں کو "جنگِ گوگیرہ" کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ گوریلا جنگ کے لیے بہت موزوں تھا۔ سامراج دشمن ایسی جنگیں یا تو کیوبا کے پہاڑوں میں لڑی جا سکتی تھیں، یا ویت نام کے دلدلوں میں، یا پھر ملایا کے جنگلوں میں۔ احمد خان کی جنگ کا میدان بھی جنگل ہی تھا، اسے "جنگل وار" کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ عالمی تاریخ میں دیگر جنگوں کو تو جگہ مل گئی کیونکہ ان اقوام نے اپنے ہیروز کو سینے سے لگایا، لیکن ہماری یہ جنگ "غدر" قرار پائی، کیونکہ جس سامراج کے خلاف یہ لڑی گئی وہ نسل در نسل قابض رہا اور اسے ڈر تھا کہ ان ہیروز کو اپنانے سے ان کے سامراجی ہتھکنڈے بے نقاب ہو جائیں گے۔
رائے احمد یار خان نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گمنامی میں گزارا تھا اور سیاسی حالات سے دور رہے۔ پھر جس عمر میں بقول شیخ سعدی "شیر بھی توبہ کر لیتا ہے" اور انسان سمجھوتوں کی طرف مائل ہوتا ہے، اس عمر میں یہ مردِ آہن میدانِ عمل میں نکلا اور جنگی گھوڑی کی زین پر کمال مضبوطی سے براجمان ہو گیا۔ انہوں نے اس انگریز کو للکارا جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور کینیڈا سے آسٹریلیا تک یونین جیک لہراتا تھا۔ انہوں نے نہ صرف للکارا بلکہ اس وقت کی سپر پاور کے پسینے چھڑا دیے اور تاریخ میں غیرت و حمیت کا استعارہ بن گئے۔
ایم اے اشرف کی "تاریخِ ساہیوال" کے مطابق، انگریزوں نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے گرفتاریاں شروع کر دیں۔ جس گاؤں سے بغاوت کی بو آتی، اسے نظرِ آتش کر دیا جاتا، فصلیں برباد کر دی جاتیں اور مویشی قبضے میں لے لیے جاتے۔ مقصد صرف ایک تھا: "عوام کو خوفزدہ کرنا"۔ مگر گوگیرہ، چیچہ وطنی اور ہڑپہ سے اٹھنے والی اس لہر نے انگریزوں کے ہوش اڑا دیے۔ سردار، کاشتکار اور چرواہے، جس کے ہاتھ میں جو آیا (لٹھ یا بھالا) وہی اٹھا کر حملہ آور ہو گئے۔ سرکاری گزٹ اور خط و کتابت میں ایسی درجنوں کارروائیوں کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ حقائق کبھی عوامی سطح پر نہ آسکے۔ افسوس تو اس نظام پر ہے جس نے مہارت کے ساتھ نصاب سے انگریز دشمنی کا باب نکال کر ہمیں یہ باور کرایا کہ ہمارا اصل دشمن ہندو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنی تاریخ اور ثقافت سے بیگانہ ہیں۔ ہیرو بنانے کی باری آئی تو احمد خان کھرل کے بجائے غزنوی اور غوری چنے گئے۔ بے توقیری اور احسان فراموشی کی اس سے بڑی مثال شاید ہی کہیں ملے۔
1857ء کی جنگ میں پنجاب کا مجموعی کردار مختلف رہا، تاہم لدھیانہ، خان گڑھ، گوگیرہ اور حصار جیسے علاقوں میں بھرپور مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ برطانیہ کو مقامی بااثر افراد کی جو حمایت حاصل تھی، وہ عام عوام کو دبانے کے لیے کافی تھی۔ میرٹھ کی بغاوت کے بعد مقامی سپاہیوں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔ "تاریخِ ساہیوال" کے مطابق، حالات جولائی 1857ء میں اس وقت سنگین ہوئے جب پاکپتن کے گاؤں 'لکھوکا' کے جویا قبیلے نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے لوگوں کو گرفتار کر کے ان پر مظالم ڈھائے تو رائے احمد یار خان کھرل ان کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے ملے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان بے گناہ قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔
روایات کے مطابق، اسسٹنٹ کمشنر برکلے نے احمد یار کھرل، سارنگ اور مراد فتیانہ سمیت دیگر عمائدین کو بلا کر جنگ کے لیے گھوڑے اور آدمی مانگے اور بدلے میں مراعات کی پیشکش کی۔ احمد یار خان نے تاریخی جواب دیا: "کوئی غیرت مند اپنی زندگی میں اپنی عورت، زمین اور گھوڑی کسی دوسرے کے ساتھ شیئر نہیں کرتا۔" اس صاف انکار کے بعد وہ اپنے گاؤں چلے گئے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، انہوں نے برکلے کو یہ بھی کہا کہ وہ خود کو برطانوی رعایا نہیں بلکہ دہلی کے بادشاہ کا ماتحت سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نیلی بار، صندل بار، گنجی بار اور راوی بار کے لوگوں کو منظم کرنا شروع کیا۔ 26 جولائی 1857ء کو انہوں نے گوگیرہ جیل پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ جے کیو براؤن کے مطابق، اس وقت تک جنگلوں میں آزادی کا طبل بج چکا تھا اور ہزاروں لوگ کسانوں کی شکل میں اکٹھے ہو چکے تھے۔
انگریزوں میں شکست کا خوف اس حد تک بڑھ گیا کہ انہوں نے مقامی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی (شاہ محمود قریشی کے لکڑ دادا) نے انگریزوں کی خوشنودی کے لیے اپنے مریدوں کے ساتھ مل کر ان مقامی سپاہیوں پر حملہ کیا جو بغاوت کر کے عوامی لشکر سے ملنے آئے تھے۔ اس قریشی سجادہ نشین نے تقریباً 300 نہتے باغی سپاہی قتل کر دیے۔ صلے میں انہیں نقد رقم، جاگیر اور باغات سے نوازا گیا۔ اسی طرح دربارِ شیر شاہ، دربارِ سلطان احمد بخاری اور دیگر کئی سجادہ نشینوں نے انگریز کا ساتھ دیتے ہوئے وطن پرستوں کا قتلِ عام کیا۔
ایک طرف 81 سالہ بہادر قیادت میں عوام لڑ رہے تھے اور دوسری طرف خطے کے بااثر پیر، جاگیردار اور ملا اپنی دستاریں انگریز کے قدموں میں بچھا رہے تھے۔ دربارِ گردیزی، دربارِ زکریا، دربارِ گنج شکر اور خاکوانی و ڈاہا خاندانوں نے انگریز کا ساتھ دے کر جاگیریں سمیٹیں۔
10 محرم الحرام کو رائے احمد یار خان کھرل سجدہ خالق میں تھے جب انگریز کی گولی نے انہیں شہید کیا۔ انگریز ان کا سر کاٹ کر لے گئے، مگر اسوہ حسینی پر چلتے ہوئے انہوں نے سر دے دیا لیکن بیعت نہ کی۔ آج المیہ یہ ہے کہ غداروں کی نسلیں صاحبِ اقتدار ہیں اور وہ ہیروز جنہوں نے خون سے آزادی کی آبیاری کی، انہیں نصاب میں "ڈاکو" بنا کر پیش کیا گیا۔ احمد خان کی گھوڑی کا نام "ساوی" تھا، جو ان کی ہر جنگ میں ان کی وفادار ساتھی رہی۔ ساہیوال کے احمد خان کھرل جیسے کردار ہی دراصل ہماری دھرتی کا اصل فخر ہیں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home