Monday, 6 April 2026

نصاب میں جھوٹ کس طرح داخل ہوتا ہے؟

 نصاب میں جھوٹ کس طرح داخل ہوتا ہے؟

یونیورسٹی میں طلبہ کو تاریخ پڑھانا شاید اتنا مشکل کام نہیں، جتنا تاریخ کا دفاع کرنا ہے۔ بچے یونیورسٹی آنے سے قبل درسی کتب (Textbooks) تک محدود علم کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہیں، اس لیے ریاست اپنے وسیع تر قومی مفاد کے پیشِ نظر ایسی تاریخ مرتب کرتی ہے جس سے معاشرے میں ہم آہنگی، مفاہمت، حب الوطنی اور ریاستی اکائیوں کے مابین مضبوط تعلق پیدا ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک "فلٹر شدہ" تاریخ سامنے لائی جاتی ہے جو بچوں کو اسکول اور کالج کے دوران مسلسل پڑھائی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس تاریخ کو ایک عقیدے کا درجہ دینے لگتے ہیں۔

اگر کلاس میں کبھی اس مروجہ تاریخ کے متبادل کوئی دوسرا زاویہ بچوں کے سامنے رکھا جائے تو وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ اسے سراسر جھوٹ قرار دینے لگتے ہیں۔ اس رویے کی کھوج لگانے پر ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ طلبہ کا جواب ہوتا ہے: "ہم نے تو آج تک یہ نہیں پڑھا!"۔ بچے اپنی جگہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے واقعی وہ حقائق نہیں پڑھے ہوتے، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے پڑھے ہوئے کو حتمی اور قطعی سچ سمجھ لیتے ہیں۔

نصاب میں تبدیلی کس طرح کی جاتی ہے؟ اس کا حالیہ مظاہرہ بھارتی درسی کتب میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کیسے غیر محسوس طریقے سے آنے والی نسل کا نقطہ نظر ماضی قریب کے واقعات کے بارے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کی سیاسیات (Political Theory) کی نصابی کتب میں کئی بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔

گیارہویں جماعت کی پولیٹیکل سائنس کی کتاب کے باب نمبر 8 (سیکولرازم) کے صفحہ نمبر 112 پر، پرانی کتاب میں 2002 کے گجرات فسادات کے بارے میں لکھا تھا: "2002 میں گجرات میں گودھرا واقعے کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، قتل کیے گئے تھے۔" لیکن نئی کتاب میں اس دلیل کے ساتھ کہ "فسادات میں تمام کمیونٹیز کا نقصان ہوتا ہے"، عبارت کو بدل کر یوں کر دیا گیا ہے: "2002 میں گودھرا واقعے کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔"

اسی کتاب کے صفحہ 117 پر بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بارے میں درج تھا کہ نہرو اکثریتی طبقے کی فرقہ پرستی پر تنقید میں بہت سخت تھے، کیونکہ اس سے قومی اتحاد کو خطرہ تھا۔ اب نئی کتاب سے وہ حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس میں اس سختی کی وجوہات (قومی اتحاد کو خطرہ) کا ذکر تھا۔ اب وہاں صرف یہ درج ہے کہ نہرو اکثریتی فرقہ پرستی کے سخت ناقد تھے۔

بارہویں جماعت کی نصابی کتاب "آزادی کے بعد ہندوستان میں سیاست" کے باب نمبر 1 (تعمیرِ ملت کے چیلنجز) میں تقسیمِ ہند کے فسادات پر پرانی کتاب کا نقطہ نظر قدرے معتدل تھا۔ وہاں درج تھا کہ "سرحد کے دونوں طرف سے ہزاروں خواتین کو اغوا کیا گیا، انہیں زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا اور جبراً شادیاں کی گئیں۔ کئی معاملات میں خواتین کو خود ان کے خاندان والوں نے 'خاندانی غیرت' کے نام پر قتل کر دیا۔" لیکن نئی کتاب میں "سرحد کے دونوں طرف" کے الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس سے وہی تاثر ابھرتا ہے جو عام طور پر مخصوص بیانیے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ ظلم صرف ایک ہی طرف ہوا تھا۔

اسی طرح باب نمبر 3 (منصوبہ بند ترقی کی سیاست) میں "بائیں بازو" کے نظریات کی تعریف بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔ پہلے تعریف یہ تھی کہ بائیں بازو سے مراد وہ لوگ ہیں جو غریب اور پسے ہوئے طبقات کے حق میں حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اب نئی تعریف میں اسے "معیشت پر ریاستی کنٹرول اور ضابطہ کاری کے حامی" کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو کہ ایک خالصتاً تکنیکی اور سرد تعریف ہے۔

کشمیر کے متعلق باب نمبر 7 میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے لکھا تھا کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے جبکہ پاکستان اسے "آزاد کشمیر" کہتا ہے۔ اب نئی عبارت یہ ہے: "یہ ہندوستانی علاقہ ہے جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے، جسے پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر (POJK) کہتا ہے۔" وضاحت یہ دی گئی ہے کہ یہ تبدیلی حکومتِ ہند کے تازہ ترین موقف سے ہم آہنگی کے لیے کی گئی ہے۔

باب نمبر 8 (ہندوستانی سیاست میں حالیہ پیش رفت) میں بابری مسجد کے انہدام سے متعلق سوال کو بھی بدل دیا گیا ہے۔ "ایودھیا کے انہدام کی میراث" کے بجائے اب سوال صرف "رام جنم بھومی تحریک کی میراث" تک محدود کر دیا گیا ہے، تاکہ توجہ مسجد کے انہدام اور فسادات سے ہٹا کر مندر کی تعمیر کی طرف موڑ دی جائے۔

بھارت اب نصاب سازی میں اسی ڈگر پر چل نکلا ہے جس پر ہم (پاکستان) کئی دہائیاں قبل چلے تھے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب وہاں بھی حقائق سے بے خبر ایسی نسل پیدا ہوگی جو تاریخی سچائیوں کو محض اس لیے جھٹلا دے گی کہ "ہم نے تو یہ کتاب میں نہیں پڑھا"۔ جب بھی مختلف فورمز پر نصاب کو حقائق پر مبنی بنانے کی بات کی جاتی ہے، تو عموماً یہ جواب ملتا ہے کہ "جب ساری دنیا میں نصاب قومی یکجہتی کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے، تو اگر ہم نے بھی تھوڑا جھوٹ شامل کر لیا تو کیا حرج ہے؟"

جی! بالکل حرج ہے۔ اگر نصاب سچ نہ بتائے تو ایک امریکی سفید فام بچہ سیاہ فام شہریوں کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟ وہ انہیں سست اور جرائم پیشہ سمجھ کر ان سے نفرت کرے گا۔ یہ نصاب کا فرض ہے کہ وہ سچ بتائے کہ سیاہ فاموں کی موجودہ حالت کی ذمہ داری ماضی کی سفید فام اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے انہیں غلام بنا کر رکھا اور آزادی کے بعد بھی انہیں برابری کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔

نصاب کو محض "قومی یکجہتی" کے نام پر جھوٹ کا پلندہ بنا دینے سے حاصل ہونے والی یکجہتی عارضی ہوتی ہے، کیونکہ وہ نفرت کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ نصاب میں درج تاریخ کو حقائق پر مبنی ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہوتا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home