شہادت سے مضبوط ہوتی تحریکیں"
اسلامی
تاریخ اور قرآ نی فکر کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ حق کی جدوجہد افراد کے ساتھ
وابستہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ابدی مقصد کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر
انداز کر کے دنیا کی بڑی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، مزاحمتی تحریکوں کی
قیادت کے خاتمے کو ان تحریکوں کی شکست سمجھنے کی غلطی کر رہی ہیں۔ حالانکہ قرآن
مجید اس تصور کی جڑ ہی کاٹ دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اہلِ ایمان کی قوت کسی
ایک شخصیت میں نہیں بلکہ ایک عقیدہ، ایک مشن اور ایک ربّ سے وابستہ ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ۚ قَدْ
خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ
أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ" (آل عمران: 144)
یہ
آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگر خود نبی کریم ﷺ کی وفات یا شہادت کی صورت میں
بھی دین کا راستہ نہیں رکنا چاہیے، تو پھر کسی عام قائد کی شہادت کو تحریک کے
خاتمے کا سبب کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ آیت دراصل ایک دائمی اصول بیان کرتی ہے کہ
مشن شخصیات سے بڑا ہوتا ہے۔
اسلام
میں قیادت کا تصور شخصی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سپہ سالار کی
شہادت پورے لشکر کو مفلوج نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔
قرآن مجید اہلِ ایمان کی اسی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
"مِّنَ
الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن
قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا" (الاحزاب: 23) یعنی کچھ لوگ
اپنا عہد پورا کر کے شہادت پا چکے اور کچھ اپنی باری کے منتظر ہیں، لیکن ان کے عزم
میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یہی وہ
قرآنی فلسفہ ہے جس کی عملی تصویر ہمیں جنگِ موتہ میں نظر آتی ہے۔ زید بن حارثہؓ،
جعفر بن ابی طالبؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ یکے بعد دیگرے شہید ہوتے ہیں مگر لشکر
منتشر نہیں ہوتا بلکہ حضرت خالد بن ولیدؓ قیادت سنبھال لیتے ہیں۔ یہ واقعہ اس اصول
کا عملی ثبوت ہے کہ اسلامی لشکر کسی ایک فرد پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ایک تسلسل
کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں شہادت کے تصور کو
یوں بلند کیا گیا ہے:
"وَلَا
تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ
عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آل عمران: 169)یہ آیت شہادت کو
نقصان نہیں بلکہ ایک اعلیٰ کامیابی قرار دیتی ہے۔ جب ایک مسلمان اس یقین کے ساتھ
میدان میں اترتا ہے کہ شہادت زندگی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، تو پھر اسے کسی فرد کی
موت سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ
تعداد یا ظاہری قوت فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی: "كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ
اللَّهِ" (البقرہ: 249)یہ اصول بندہ مومن کی رہنمائی کرتا ہے کہ اصل قوت ایمان
اور استقامت ہے، نہ کہ قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی۔
اسلامی تاریخ میں جنگِ قادسیہ بھی اسی
حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جہاں سعد بن ابی وقاصؓ بیماری کے باعث براہِ راست میدان
میں موجود نہ تھے، مگر لشکر نے اپنے حوصلے کو پست نہیں ہونے دیا۔ اس کے برعکس غیر
اسلامی افواج کا انحصار اکثر شخصیات پر ہوتا ہے اور جیسے ہی کوئی بڑا لیڈر ختم
ہوتا ہے پوری صفیں بکھر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر میں مرحب کے قتل کے بعد
یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔
قرآن مجید اہلِ ایمان کو یہ ذہنیت دیتا ہے
کہ وہ کسی وقتی کامیابی یا ناکامی سے مرعوب نہ ہوں:
"إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ" (آل عمران: 140) یعنی حالات بدلتے
رہتے ہیں، مگر حق کا راستہ جاری رہتا ہے۔
آج ایران میں یا دیگر مقامات جیسا کہ لبنان اور غزہ میں اگر کسی مزاحمتی تحریک کا رہنما شہید ہوتا
ہے تو اسے تحریک کے خاتمے کی علامت سمجھنا دراصل اسلامی فلسفۂ جہاد اور شہادت سے
لاعلمی ہے۔ ایک شہید اپنے خون سے وہ بیج بوتا ہے جو آنے والی نسلوں میں مزید مضبوط
درخت بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید فرماتا ہے: "وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ" (الحج: 40)اللہ ضرور ان کی
مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
اسلام
مخالف قوتیں ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ
اسلامی نقطۂ نظر میں شہادت اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو
بجھنے کے بجائے مزید شعلوں کو جنم دیتی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی
ایک قائد کی شہادت سے تحریکیں ختم ہو جائیں گی تو وہ نہ صرف تاریخِ اسلام سے
ناواقف ہے بلکہ قرآن کے اس ابدی پیغام کو بھی نہیں سمجھ سکا کہ حق کا قافلہ افراد
کے سہارے نہیں بلکہ اللہ کی نصرت کے بل بوتے پر چلتا ہے—اور یہ نصرت کبھی ختم نہیں
ہوتی۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home