حضرت علی ؓ کی وصیت ؛ امت محمدیہ کے خلاف چارج شیٹ
حضرت علی ؓ اسلام میں سب پہ سبقت لے جانیوالے شخص ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد آپ ہی نے اسلام قبول کیا تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش رہے۔ اعلان نبوت سے قبل اور بعد میں کبھی نبی کریم ﷺ سے جدا نہ ہوئے۔ ہجرت نبوی کے وقت نہایت اہم فریضہ امانتوں کی ان کے مالکوں تک واپسی کا آپ کے سپرد ہوا۔ جس میں یہ اندیشہ غالب امکان کی حد تک موجود تھا کہ نبی کریم ﷺ کو غیر حاضر پا کر کفار آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہجرت کے بعد مواخات مدینہ کا معاملہ پیش آیا تو نبی کریم ﷺ نے آپ ؓہی کو اپنا بھائی بنایا۔ ہر جنگ جب بھی کفار کی جانب سے جب بھی نبی کریمﷺ سے مبازرت طلب کی گئی نبی کریم ﷺ کی نگاہ انتخاب سب سے پہلے حضرت علیؓ پر ہی پڑتی تھی۔ نبی کریم ﷺ کی دامادی کا شرف بھی آپ کو حاصل تھا۔ غرض فضائل بے شمار بیان کیے جا سکتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں اسلام مخالف جنگوں میں جتنی خدمت آپ کی قوت بازو نے کی ہے ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ بدر، احد، خندق ، خیبر ، حنین غرض کوئی بھی جنگ اٹھا لیں آپ کی تلوار بے نیام ہی رہی۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اسلام کی جتنی خدمت آپ کی ذہانت نے کی اس کی بھی دوسری مثال ملنا مشکل ہے۔ جس کی مثال خلیفہ دوئم سیدنا عمر فاروق ؓ کا یہ فرمان ہے کہ اے علیؓ! میں ایسی قوم میں زندہ رہنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جن کے اندر آپ موجود نہ ہو۔ الفاظ اس طرح بھی سیرت کی کتب میں درج ہوئے ہیں میں اس دشوار مسئلہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے حل کے لیے علیؓ نہ ہوں۔ اس کے علاوہ جملہ یہ بھی لکھا ہوا ملتا ہے کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ یہ سبھی اقول حضرت علی ؓ کے بارے میں درست ہیں ۔ وہ واقعتا ایسی ہی شخصیت تھی۔
کسی عام انسان کا بھی وفات سے قبل دیا گیا بیان اس لیے درست تسلیم کیا جاتا ہے کہ تب انسان اس دنیا سے اگلی دنیا میں رخصت ہو رہا ہوتا ہے اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ اس دنیا سے بے رغبت ہو گیا ہے اور سچ بول رہا ہے۔ دوسرا وصیت انسان ہمیشہ اسی بات کی کرتا ہے جس کی اسے سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کو کبھی کوئی وصیت کسی ایسے امر کی نہیں کرتا جس سے وہ ہلاکت میں پڑ جائیں اور نہ کسی ایسے امر کو پوشیدہ رکھتا ہے جس سے اس کی اولاد کو کوئی فائدہ ملنے کی امید ہو۔ حضرت علی ؓ کے بارے میں وفات سے قبل دیے گئے بیان پہ اس لیے کوئی سوالیہ نشان نہیں لگایا جا سکتا کہ آپ ؓ کی زبان مطلق حق اورسچ اور عدل کے سوا کچھ بھی نہیں بولتی تھی۔ اس لیے حضرت علی ؓ نے اپنی اولاد کے لیے کیا مفید جانا اس پہ غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت علی ؓ اپنے بیٹے حسن ؑ کو جو نصیحت اور وصیت فرما رہے ہیں وہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ وہ ہم سب کے لیے ہے۔
آپ ؓ نے اپنی وصیت کا آغاز جس چیز سے کیا وہ توحید خدا تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی سنت تھی آپ نے فرمایا:
میں گواہی اور شہادت دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ نیز گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ جنہیں ہدایت ، رہنمائی اور حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تما ادیان پہ غالب کر دے۔ خواہ مشرکین اس کو ناپسند کیوں نہ کر یں۔ اللہ کا درود و سلام اور برکات ہوں ان پر ۔ " میری نماز اور میری زب عبادتیں میری زندگی اور میری موت خاص اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی پر میں مامور ہوں ۔اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔( سورۃ انعام : 163)
ائے حسن ؑ ! میں تمہیں اور اپنے تمام فرزندوں کو اور خاندان کو اور ہر اس شخص کو جس تک میری یہ وصیت پہنچے گی تقویٰ اور خوف اللہ ، جو تمہارا پروردگار ہے ، کی سفارش کرتا ہوں ۔ولا تموتن الا وانتم مسلمون" تم مسلمان مسلمان رہتے ہوئے ہی مرنا "۔ (ﺳﻮﺭﮦ ﺑﻘﺮﮦﺁﯾﺖ 132( اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامو اور تتر بتر نہ ہو۔ کیوں کہ بے شک میں رسول اللہ ﷺ سے سنا جو فرما رہے تھے: لوگوں کے درمیان صلح کرانا تمام نمازوں اور روزوں سے افضل ہے جو چیز دین کو تباہ کر کے نیست و نابود کرتی ہے وہ ہے لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا۔ ولا حول و قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
اپنے اعزاء و اقارب اور رشتہ داروں کی طرف توجہ رکھو اور ان کے ساتھ رشتہ بحال رکھو تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حساب کو تم پر آسان کر دے۔
یتیموں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔اپنی سنگدلی کی وجہ سے ان کے منہ کے لیے باری کا تعین نہ کرو۔ ( یعنی کبھی ان کو کھلاو اور کبھی بھوکا رکھو)
پڑوسیوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کیونکہ ان کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ اس حد تک مسلسل سفارش کرتے رہے کہ ہم نے گمان کیا کہ پڑوسی کا وراثت مین حصہ ہے۔ پڑوس کی حرمت اتنی ہے کہ گویا اللہ نے پڑوسی کے مال میں اس کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیا ہے۔
قرآن کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی اور قرآن پر عمل کرنے میں تم سے سبقت لے جائے۔
نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔
اپنے پروردگار کے گھر (خانہ کعبہ ) کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک تم زندہ ہو وہ گھر تم سے خالی رہے۔اگر اس کا حج ترک کیا گیا تو تمہیں مہلت نہ دی جائے گی اور عذاب سے دوچار ہو جاو گے۔
اپنے اموال کی زکوۃ کے معاملے میں اللہ سے درو کہ زکوۃ اللہ کے غصب کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔
ماہ رمضان کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے لیے دوزخ کی آگ سے تمہارے لیے ڈھال ہے۔
بیواؤں اور مسکینوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ انہیں اپنی زندگی میں شامل کرو۔ اپنی خوراک اور لباس میں سے انہیں بھی دیا کرو۔
اللہ کی راہ میں مال و جان اور زبان سے جہاد کرنے کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔
اپنے نبی ﷺ کی امت کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے درمیان ظلم و ستم واقع ہو جائے ۔
اپنے پیغمبر کے اصحاب کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ اصحاب کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے سفارش کی ہے۔
اپنے ماتحتوں ، غلاموں اور کنیزوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی آخری سفارش یہ تھی کہ "میں تمہیں دو بے بس گروہوں کے بارے میں سفارش کرتا ہوں جو تمہارے ماتحت ہیں "
اور پھر حضرت علیؓ نے فرمایا : نماز !نماز! اللہ کے سلسلے میں لوگوں کی ملامت سے نہ ڈرو کیونکہ جو بھی تم پر ظلم روا رکھے یا تمہاری نسبت بد اندیش ہو اللہ ان کا شر دفع کرنے میں تمہاری مدد کرے گا لوگوں کے ساتھ حسن گفتار سے کام لینا جیسا اللہ نے حکم دیا ہے ۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرو حالات تم سے بے قابو ہو جائیں اور پھر تم دعا کرو اور اللہ سے دفع شر کی التجا کرو۔
تم پر فرض ہے کہ معاشرت میں ایک دوسرے کی نسبت منکسر المزاجی ، بخشش اور نیکی روا رکھو۔
خبر دار کہیں جدائی، تفرقہ ،انتشار اور ایک دوسرے سے رو گردانی کا شکار نہ ہو جاؤ۔ نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ۔ اللہ کے غصب سے بچو۔ یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ (سورۃ المائدہ 3)
اللہ تعالیٰ تم خاندان اہل بیت کا حافظ و نگہبان ہو اور تمہارے حق میں اپنے پیغمبر کے حقوق کا تحفظ کرے ۔ اب میں تم سے وداع کرتا ہوں اور تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ اور اس کا درود و سلام تم پر بھیجتا ہوں ۔
آپ ؓ نے اپنی وصیت کے ساتھ ایک شاندار انسانی منشور بڑی مختصر شکل میں بیان فرما جو مخلوق کے خالق کے ساتھ رشتہ کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے اور مخلوق کے آپس میں رشتہ کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے۔
امت نے مشکل کشائی اور حاجت روائی کا جو تصور اخذ کیا آپ ؓ نے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اس سے بری ذمہ ہو گئے ۔ کیونکہ اگر اللہ کے سوا مشکل کشائی کی کوئی دوسری فرینچائز ہوتی تو آپ ؓ لازمی اپنی اولاد کو اس سے رجوع کرنے کی وصیت فرماتے ۔ کیونکہ ایک شفیق، مہربان اور صاحب بصیرت باپ اپنی اولاد کو ایسی نعمت سے بھلا کیونکر محروم رکھ سکتا تھا۔
آپ ؓ نے اپنی پہلی بات کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا اور اپنی شناخت قائم رکھنے کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ انسان کو اس کا تقویٰ فائدہ دے گا اور جو شناخت اللہ کے ہاں قابل قبول ہو گی وہ صرف اور صرف مسلمان ہو گی آپ نے کسی سابقے یا لاحقے کی طرف اشارہ نہیں کیا بلکہ قرآنی اصول کے مطابق موت تک خود کو صرف مسلمان ہی کہنا ۔ آج امت نے حضرت علی ؓ کی اس بات کا پاس نہیں رکھا جو انہوں نے قرآن سے بیان کی کہ خود کو مسلمان رکھنا ۔ ہم نے فخر محسوس کیا شعیہ مسلمان، سنی مسلمان، سلفی مسلمان وغیرہ وغیرہ میں ۔
سبحان اللہ ! کیا نبوت کی گود میں پرورش پانے کا فیضان ہے کہ جیسے رسالت ماب ﷺ اپنے آخری وقت تک اس بات پہ متفکر رہے کہ میری امت کہیں فرقے میں نہ بٹ جائے آپ ؓ نے اسی فکر کا اظہار اپنی اولاد کے سامنے کیا ۔ اپنی اولاد کو صلح جوئی کا درس دیا، فساد سے اجتناب کی وصیت کی ۔ وہ امت جو حضرت علی ؓ کی محبت کادم بھرتی ہے کیا اس نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر تفرقے سے نکلنے کی کوشش کی؟ کیا امت نے فساد سے منہ موڑ کو صلح کی طرف رخ کیا؟
آپ ؓ نے حقوق العباد کی فکر جس تفصیل کے ساتھ دلائی ہے وہ بھی لاجواب ہے۔ اب اس وصیت کی رو سے امت کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہم آپ کی آخری وصیت کو اپنی زندگی میں شامل کر پائے؟
کیا حضرت علیؓ کی آخری وصیت جو آپ کی دلی خواہشات بھی تھیں ان کا احترام ہم نے کیا؟
اگر ہم ان کی خواہشات اور وصیت پہ عمل پیرا نہیں ہیں جو کہ واقعتا نہیں ہیں تو کیا ہم ان کے پیروکار ہیں؟
کیا محبت کا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ جس سے محبت کی جائے اس کی بات تو درکنار اس کی آخری خواہش کو ہی پس پشت ڈال دیا جائے؟
نبی کریم ﷺ نے حضر ت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ ائے علی ! تم مثل عیسیٰ ؑ ہو۔ ایک گروہ نے عیسی ٰ ؑ کی عظمت اور شرف کا انکار کیا آپ کی والدہ پہ تہمت لگائی ۔ دوسرے گروہ نے سیدنا عیسیٰ ؑ سے محبت غلو کیا اور اللہ کی شان الوہیت میں شریک کر ڈالا ۔ یہ دونوں گروہ ہی بارگاہ الہی میں قابل قبول نہ ہوئے۔اسی طرح حضرت علی ؓ کے بارے بھی امت افراط اور تفریط کا شکار ہے ۔ حالانکہ آپؓ کی ذات امت میں نقطہ ماسکہ ہے جس پہ ایمان کا توازن ٹک سکتا ہے لیکن آپ ؓ کے بارے میں ہی ہمارا توازن قائم نہیں رہا۔ جیسا سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے بارے اللہ نے قرآن مجید میں قیامت کے روز ہونے والے ایک مکالمے کا ذکر کیا جس میں عیسیٰ ؑ کے بارے گھڑے جانیوالے مشرکانہ عقیدے کا بارے پوچھا جائے گا تو آپ کے جواب جیسا جواب بھی حضرت علیؓ کا ہو گا جب حضرت علی ؓ ان لوگوں پہ طلب کیا جائے گا جنہوں نے آپ کے بارے وہ عقیدہ قائم کیا جو آپ نے خود اپنے بارے بیان نہیں کیا۔
"میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔" (سورہ المائدہ 117-118)
حضرت علی ؓ کے بارے امت کا رویہ ویسا ہی ہے جیسا قرآن کے ساتھ ہے، جیسا اسلام کے ساتھ ہے، جیسا پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ ہے۔ یعنی ہم ان سب کو مانتے ہیں مگر ان کی کبھی ایک بھی نہیں مانتے۔
سب سے قابل مذمت ہمارا یہ رویہ ہے کہ ہم دوسروں سے یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح ان عظیم ہستیوں سے محبت کی جائے۔ ہماری طرح شعار اسلام کو اپنایا جائے۔ ہماری طرح اسلام پہ عمل پیرا ہوا جائے۔ یہ صرف اور صرف پیغمبر کی ذات کی شان کے لائق ہے کہ وہ کہہ سکے کہ میری طرح تم یہ کام کرو کیوں وہ تابع وحی ہوتا ہے۔ باقی سب اپنے اپنے فہم کے مطابق عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے۔ اپنے فہم کو دوسروں پہ لاگو کرنے کا حق کسی کو اللہ نے نہیں دیا۔
اگر ہم حضرت علیؓ سے محبت کرتے ہیں تو جو وصیت آپ نے اپنے بیٹوں اور پیروکاروں کو کی اس پہ عمل پیرا ہوں۔ اللہ کی توحید کے علمبردار بنیں۔ نبی کریم ﷺ کی اطاعت میں اپنے سر کا جھکا دیں ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے اتنی فکر مندی اختیار کریں جتنی حضرت علیؓ کو تھی۔ امت میں تفرقہ ختم کرنے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنے میں تاخیر نہ کریں۔ اللہ کے مقابلے میں خواہش نفس کو معبود نہ بنائیں۔
بلاشبہ حضرت علیؓ جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آپ ؓ نے اپنی زندگی اسلام کے لیے اسوقت وقف کی جب آپ ؓ محض دس سال کے تھے اور آخری دم تک اسلام کی خدمت میں گزار دی۔ آپؓ کی ذات کو اسلام کے خادم کے طور پہ جانیں ناکہ امت میں تفرقہ ڈالنے والے یا اس تفرقے کا باعث بننے والے کے طور پہ۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home