Sunday, 15 March 2026

ہم امام حسن ؑ سے محبت تو کرتے ہیں ۔۔۔۔؟ مگر اسو شبر پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟

امام حسنؑ نبی کریم ﷺ کے بڑے نواسے اور خلفاء راشدین میں پانچویں خلیفہ ہیں۔ آپ ؑ کی شان میں نبی کریم ﷺ کی کئی احادیث کتب کی زینت ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا، اس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی فضیلت بیان کی جا سکتی ہو۔ لیکن آج کے کالم کا موضوع آپ ؑ کی شان میں احادیث مبارکہ نقل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلانا ہے جو حقیقی معنوں میں اتنا بڑا ہے کہ انسانی تاریخ اس کی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

حضرت علیؓ بن ابی طالب کی وفات کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقبوضہ علاقے کے علاوہ باقی سارے ملک کی نظریں حضرت حسنؓ کی طرف تھیں۔ چنانچہ والد بزرگوار کی مسجد کوفہ کے باہر تدفین سے فراغت کے بعد آپ جامع مسجد تشریف لائے، مسلمانوں نے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھائے، آپ نے ان سے بیعت لی اور بیعت کے بعد حسب ذیل تقریر ارشاد فرمائی:

"لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص بچھڑا ہے کہ نہ اگلے اس سے بڑھ سکے اور نہ پچھلے اس کو پا سکیں گے۔ رسول اللہ ﷺ اس کو اپنا علم مرحمت فرما کر لڑائیوں میں بھیجتے تھے، وہ کبھی کسی جنگ سے ناکام نہیں لوٹا۔ میکائیلؑ اور جبرائیلؑ چپ و راست اس کے جلو میں ہوتے تھے۔ اس نے سات سو درہم کے سوا جو اس کی مقررہ تنخواہ سے بچ رہے تھے، سونے چاندی کا کوئی ذرہ نہیں چھوڑا؛ یہ درہم بھی ایک خادم خریدنے کے لیے جمع کیے تھے۔" اس بیعت اور تقریر کے بعد آپ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔

جب آپ نے خلافت سنبھالی تو اس سے قبل امت مسلمہ میں اقتدار کوفہ اور شام کے مابین تقسیم ہو چکا تھا۔ کوفہ میں حضرت علیؓ اور شام میں حضرت امیر معاویہ ؓ حکمران تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک تیسری قوت بھی نمودار ہو چکی تھی جسے فتنہ خوارج کے نام سے تاریخ میں یاد کیا گیا ہے۔ یہ فتنہ اس قدر موثر تھا کہ امیر المومنین حضرت علی ؓ اسی فتنے کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس فتنے نے کوفہ اور شام کے درمیان کشیدہ تعلقات سے فائدہ اٹھایا اور اپنی عسکری قوت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ یہ عقائد کے اعتبار سے بہت متشدد تھے، نبی کریم ﷺ اس کی پہلے سے پیش گوئی فرما چکے تھے۔

حضرت امام حسن ؓ نے عرصہ دراز سے حالات پہ گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔ آپ ؓ اس خانہ جنگی کو جلد از جلد ختم کر کے ملک میں سیاسی استحکام اور اقتدار میں وحدت کے قائل تھے۔ اس سے قبل جب حضرت عثمانؓ بن عفان کی شہادت کے بعد مسندِ خلافت خالی ہو گئی اور مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر پڑی اور انھوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہی، تو حضرت حسنؓ نے غایتِ عاقبت اندیشی سے والد بزرگوار کو یہ مشورہ دیا کہ جب تک تمام ممالکِ اسلامیہ کے لوگ آپ سے خلافت کی درخواست نہ کریں اس وقت تک آپ اسے قبول نہ فرمائیے، لیکن حضرت علیؓ بن ابی طالب نے فرمایا کہ خلیفہ کا انتخاب صرف مہاجرین و انصار کا حق ہے، جب وہ کسی کو خلیفہ تسلیم کر لیں، تو پھر تمام ممالکِ اسلامیہ پر اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے، بیعت کے لیے تمام دنیا کے مسلمانوں کے مشورے کی شرط نہیں ہے؛ اور خلافت قبول کر لی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بعد جب حضرت عائشہؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ رضوان اللہ علیہم حضرت عثمانؓ بن عفان کے قصاص میں ان کے قاتلوں سے بدلہ لینے کے لیے نکلے، تو پھر حضرت حسنؓ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مدینہ لوٹ چلئے اور کچھ دنوں کے لیے خانہ نشین ہوجائیے؛ لیکن حضرت علیؓ کی رائے میں ان حالات میں مدینہ لوٹنا اور خانہ نشین ہوجانا امت کے ساتھ فریب تھا اور اس سے امتِ اسلامیہ میں مزید افتراق و انشقاق کا اندیشہ تھا، اس لیے واپس نہ ہوئے۔

امام حسن ؑ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ گزشتہ پانچ چھ سالوں میں کتنی خون ریزی ہو چکی تھی۔ جنگ جمل میں 3,000 سے 18,000 تک مسلمانوں کے جاں بحق ہونے کی روایات ملتی ہیں۔ جنگ صفین میں دونوں اطراف میں 80 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ جنگ نہروان میں اڑھائی ہزار لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور اس عرصے میں مسلمانوں نے اپنے بارڈر پہ ایک جنگ بھی نہیں لڑی۔ ایک رتی برابر علاقہ مسلمان ریاست کا حصہ نہیں بنا۔ ریاست کے اوپر ایک لاکھ گھرانوں کی کفالت کا بوجھ آ گیا تھا۔ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا تو عنقریب تھا کہ یہ نوزائیدہ عالمی قوت اپنی موت خود مر جاتی۔ وہ امت جس نے قیامت تک دینِ اسلام کے جھنڈے کو لے کر چلنا تھا، وہ قصہ پارینہ بن جاتی۔

امام حسن ؑ نے جیسے ہی خلافت کی ذمہ داری سنبھالی، آپ نے جس جملے پہ بیعت لی وہ بہت معنی خیز تھا۔ جب صحابیِ رسول حضرت قیس بن سعد بن عبادہ نے جنگ کی شرط پہ آپ کی بیعت کرنا چاہی تو آپ ؑ نے اس شرط کو یہ کہہ کر حذف کر دیا کہ بیعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پہ ہی ہو گی کیونکہ باقی سبھی کچھ اسی میں آ جاتا ہے۔ امام حسن ؑ کے پاس چالیس ہزار کی فوج تھی۔ ایک اچھا خاصا علاقہ بھی تھا۔ جزیرہ نما عرب میں مکہ، مدینہ، طائف، یمن، عمان، بحرین؛ عراق میں کوفہ، بصرہ، موصل؛ ایران میں خراسان، اصفہان، رے، ہمدان، مرو، ہرات، نیشاپور؛ جزیرہ میں نصیبین، آرمینیا اور آذربائیجان میں تبریز اور دربند کے علاقوں پہ کنٹرول تھا اور آپ کے گورنر تعینات تھے۔ آپ چاہتے تو "اِدھر ہم اُدھر تم" کی پالیسی اختیار کر کے اپنے اور اپنی نسل کے لیے ایک سلطنت رکھ سکتے تھے۔ آپ ؑ کی سیادت سے ملتِ اسلامیہ میں کسی کو انکار نہیں تھا۔

لیکن آپ ؑ نے دیکھا کہ آپ ؑ کے لشکر میں نظم و ضبط نہیں ہے۔ آپ ؑ کے لشکر کے لوگ آپ ؑ پہ عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ آپؑ بطور خلیفہ اپنی بات منوانے کی حیثیت میں نہیں ہیں تو آپ ؑ نے ایک کٹھ پتلی خلیفہ بننے کی بجائے اس سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ ؑ کے فیصلے پہ آپؑ کے لشکر نے جو ردعمل دیا اس نے آپ ؑ کے مشاہدات کو درست ثابت کر دیا۔ آپ ؑ کے لشکر کے لوگوں نے آپ ؑ کو "مُذِلُّ الْمُؤْمِنِينَ" یعنی مومن جماعت کو ذلیل کرنے والا کہا۔ آپ ؑ کے خیمے کو آپ ؑ پہ گرایا گیا، آپ ؑ کے کپڑے پھاڑ دیے گئے یہاں تک کہ آپ ؑ پہ قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں آپ کی ران زخمی ہوئی لیکن آپ ؑ کی جان بچ گئی۔

صرف آپ ؑ کا مشاہدہ اپنے لشکر کے بارے میں درست ثابت نہیں ہوا بلکہ آپ ؑ کا یہ تجزیہ کرنا کہ عالم اسلام کو خانہ جنگی سے نقصان ہو رہا ہے، یہ بھی درست ثابت ہوا۔ آپ ؑ نے خلافت کی باگ دوڑ حضرت امیر معاویہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی وہ پیش گوئی سچ ثابت کر دی کہ "میرا یہ بیٹا مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کروا دے گا۔" جس کے بعد گزشتہ چھ سات سال سے جاری خانہ جنگی رک گئی۔ مسلمان ریاست ایک بار پھر سے منظم ہونے لگی اور فتوحات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔

یہاں امام حسن ؑ ایک ماڈل کی طرح ہمارے سامنے آتے ہیں جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی اور بین الاقوامی سطح پہ سوچتے ہیں۔ آپ ؑ نے ایک بڑی ریاست سے دستبرداری اس لیے قبول کر لی کہ اس سے آپ کی شخصی حیثیت تو بڑھ رہی تھی مگر جنگوں کے نتیجے میں کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ یعنی آپ ؑ نے اقتدار کی خاطر جنگ نہ کرنے اور اقدار کو فروغ دینے کے نظریے کی بنیاد رکھی۔ آپ ؑ نے کٹھ پتلی خلیفہ بننے کی بجائے شخصی اقتدار کو قربان کرنے کے نظریے کی بنیاد رکھی۔ آپ ؑ نے صلح جوئی کا جو مظاہرہ کیا یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ تھی۔ اگر امام حسن ؑ جنگوں کے اسی تسلسل کو جاری رکھتے تو اسلام جزیرہ نما عرب کی ریت میں دفن ہو جاتا۔

امام حسن ؑ امت میں نبی کریم ﷺ کی طرح ٹریٹ ہوئے ہیں۔ آج امت میں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو ان ہستیوں کی عظمت کا قائل نہ ہو، ان سے محبت نہ کرتا ہو، ان کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ نہ رکھتا ہو۔ لیکن شاید ہی کوئی شخص ان احباب کی تعلیمات کو مکمل طور پر اپنی زندگی میں لاگو کیے ہوئے ہو۔ آج ہم انفرادی زندگیوں میں ایک مرلہ زمین کی خاطر کسی کی زندگی لینے سے نہیں رکتے۔ زمین کے چھوٹے سے قطعے کے لیے اپنے خونی رشتہ داروں سے مرنے تک نہ ملنے کا عہد کر لیتے ہیں۔ ہم رشتہ کاٹ لیتے ہیں لیکن کمپرومائز نہیں کرتے۔

ریاستی سطح پہ بھی امام حسن ؑ محترم ضرور ہیں لیکن ہم ان کو اپنے کردار میں جگہ نہیں دیتے۔ ہم وسیع تر مفاد میں پیچھے ہٹنے کی آپشن کو قبول نہیں کرتے۔ ہم اپنے حمایت کرنے والوں کو مخالفین سے بھڑ جانے کے لیے ہمہ وقت تیار رکھتے ہیں تاکہ ہماری سیاسی پوزیشن برقرار رہے۔ محبت کے باوجود تب ہمیں کبھی اسوہ امام حسن ؑ یاد نہیں آتا۔

بین الاقوامی سطح پہ مسلمان چھپن ریاستوں میں حکمران ہیں۔ بہت سی ریاستوں میں امام حسن ؑ کے نام پہ حکومت حاصل کی گئی ہے۔ لیکن پیچھے ہٹنے کی آپشن وہاں بھی کوئی اختیار نہیں کر رہا۔ کوئی نہیں سوچتا کہ اللہ کی رسی کو تھامنے کے لیے، تفریق کے خاتمے کے لیے کوئی ایک قدم پیچھے ہٹ جائے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ آج مسلمان بارڈر سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور ان کی حفاظت کی ضمانت آج بھی صلحِ امام حسن ؑ میں چھپی ہوئی ہے۔ درحقیقت آج مسلمانوں کو اسوہ امام حسن ؑ کی انفرادی، ریاستی اور بین الاقوامی سطح پہ جس قدر زیادہ ضرورت ہے شاید ہی اس سے قبل کبھی ہوئی ہو۔

نوٹ : یہ تحر یر 15 رمضان 2025 کو فیس بک پیچ کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے۔ 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home