Sunday, 15 March 2026

احتجاج کا شور: حق یا ہجوم کی نفسیاتی کمزوری


احتجاج کو عموماً اصول پسندی، جرات اور اجتماعی شعور کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اگر اس عمل کو انسانی نفسیات کے زاویے سے دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک نہایت سطحی اور پست ذہنی کیفیت بھی کارفرما نظر آتی ہے۔ احتجاج دراصل ہجوم کی نفسیات کو جنم دیتا ہے اور ہجوم انسان کو اس کی اصل شخصیت سے گرا دیتا ہے۔ وہ شخص جو عام حالات میں نہایت کمزور ارادے کا حامل ہوتا ہے، جو تنہا کسی سے اختلاف کرنے کی ہمت نہیں رکھتا، جو کسی طاقتور یا بااختیار شخص کے سامنے زبان کھولنے سے بھی گھبراتا ہے، وہی شخص جب ہجوم کی آڑ میں آتا ہے تو اچانک اپنے اندر ایک جھوٹی بہادری پیدا کر لیتا ہے۔ یہ بہادری درحقیقت اس کی اپنی نہیں ہوتی بلکہ ہجوم کی اوٹ میں چھپی ہوئی بزدلی کا دوسرا نام ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ فرد جو تنہائی میں کسی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات نہیں کر سکتا، احتجاج کے شور میں اپنے آپ کو کسی عظیم فاتح کی نسل سمجھنے لگتا ہے۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ احتجاج میں شامل ہونے والے افراد کی بڑی تعداد کسی اصولی مقصد کے تحت نہیں نکلتی۔ ان کے اندر نہ کسی اجتماعی مفاد کا حقیقی شعور ہوتا ہے اور نہ کسی اعلیٰ اخلاقی قدر کی پاسداری کا جذبہ۔ زیادہ تر افراد صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے اس ہجوم کا حصہ بنتے ہیں۔ کسی کو اپنی ذاتی محرومی کا بدلہ لینا ہوتا ہے، کسی کو اپنی ناکامیوں کا غصہ نکالنا ہوتا ہے، کسی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہجوم میں شامل ہو کر وہ بھی کسی بڑی قوت کا حصہ بن گیا ہے۔ یوں احتجاج کا میدان دراصل ایسے افراد کا اجتماع بن جاتا ہے جو اپنی کمزوریوں، محرومیوں اور ناکامیوں کا بوجھ کسی اجتماعی شور میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے احتجاج کرنے والے عام طور پر کسی معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیق کے خواہاں نہیں ہوتے۔ اگر حقیقت پوری طرح سامنے آ جائے تو اکثر جذباتی بیانیے خود بخود کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس لیے احتجاجی گروہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ معاملہ ٹھنڈے دماغ سے تحقیق اور شواہد کے مرحلے تک نہ پہنچے۔ وہ شور، الزام اور جذباتی نعروں کے ذریعے فضا کو اس قدر آلودہ کر دیتے ہیں کہ سنجیدہ مکالمہ ممکن ہی نہ رہے۔ ان کے لیے اصل مسئلہ حل ہونا نہیں بلکہ شور کا برقرار رہنا زیادہ اہم ہوتا ہے، کیونکہ اسی شور میں ان کی وقتی طاقت اور جھوٹی اہمیت قائم رہتی ہے۔
احتجاج کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو اکثر یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ان میں حقیقت پسندی یا عملی امکان کا عنصر بہت کم ہوتا ہے۔ مطالبات ایسے انداز میں پیش کیے جاتے ہیں جیسے دنیا کے تمام مسائل کا فوری اور کامل حل ممکن ہو۔ یہ مطالبات دراصل مسئلہ حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہجوم کو مشتعل رکھنے کے لیے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ جذباتی اور غیر حقیقی مطالبات ہجوم کو وقتی طور پر تو متحرک رکھتے ہیں مگر عملی دنیا میں ان کی کوئی پائیدار بنیاد نہیں ہوتی۔
وقت گزرنے کے ساتھ احتجاج کا ایک اور تلخ پہلو بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں جو ہجوم شور مچاتا ہوا نظر آتا ہے وہ آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے مفاد کی تکمیل کے ساتھ ہی اس ہجوم سے الگ ہونے لگتا ہے۔ جسے ذاتی فائدہ مل جائے وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، جس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے وہ گھر لوٹ جاتا ہے، اور جسے محسوس ہو کہ اب فائدہ باقی نہیں رہا وہ کسی اور تماشے کی تلاش میں نکل جاتا ہے۔ یوں وہی ہجوم جو ابتدا میں کسی بڑے اصول کا علمبردار بن کر سامنے آتا ہے، آخرکار ذاتی مفادات کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
آخر میں احتجاج اکثر ایک ایسے انجام تک پہنچتا ہے جہاں پورے ہجوم کے غصے اور شور کو ختم کرنے کے لیے کسی ایک فرد کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔ اس فرد کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دے کر ہجوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح مظاہرین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑی اخلاقی جنگ جیت لی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس سارے عمل کے دوران جو نقصان ہوا، جو بدتمیزی اور انتشار پیدا ہوا، اس کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ قربانی کا بکرا دراصل اس اجتماعی بدذوقی اور غیر ذمہ داری پر پردہ ڈالنے کا ایک آسان طریقہ بن جاتا ہے۔
اس سارے منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ احتجاج اکثر اصولی جدوجہد کے بجائے ہجوم کی کمزوریوں، انا پرستی اور وقتی جذبات کا مظہر بن جاتا ہے۔ اس میں شامل افراد خود کو بہادر اور حق کا علمبردار سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت ان کی بڑی تعداد اپنی بزدلی کو ہجوم کے شور میں چھپانے اور اپنی ذاتی محرومیوں کو اجتماعی نعرے میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے احتجاج اکثر کسی حقیقی اصلاح کے بجائے معاشرے میں مزید انتشار، بداعتمادی اور اخلاقی انحطاط کا سبب بن جاتے ہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home