Saturday, 7 March 2026

جلا وطن بادشاہوں کی واپسی: حقیقت یا سراب

سابق افغان بادشاہ محمد ظاہر شاہ کے عہد میں افغانستان خطے کے ان معدودے چند ممالک میں شمار ہوتا تھا جہاں نسبتاً سیاسی استحکام اور معاشی توازن کی فضا موجود تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں افغانستان نے بڑی مہارت کے ساتھ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ ایک طرف امریکہ ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہا تھا تو دوسری جانب سوویت یونین بھی اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اس بین الاقوامی کشمکش کے درمیان افغانستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آتا تھا جو بظاہر استحکام کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ اسی ماحول نے ظاہر شاہ کو یہ یقین بھی عطا کر دیا تھا کہ وہ ایک مقبول اور مضبوط حکمران ہیں اور ان کی حکمرانی افغانستان کے سیاسی ڈھانچے کا ایک فطری اور دیرپا حصہ ہے۔ مگر تاریخ کا مزاج اکثر حکمرانوں کے اندازوں سے مختلف ہوتا ہے اور طاقت کے ایوانوں میں بسا اوقات ایک لمحہ ہی پورا منظر بدل دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

1973 میں جب ظاہر شاہ علاج کی غرض سے اٹلی گئے ہوئے تھے تو حالات نے اچانک ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ ان کے قریبی رشتہ دار اور سابق وزیر اعظم محمد داؤد خان نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور افغانستان کو جمہوریہ قرار دے دیا۔ یوں وہ بادشاہ جو خود کو ایک مستحکم نظام کا محور سمجھتا تھا، اچانک اقتدار سے محروم ہو کر جلاوطنی کی زندگی پر مجبور ہو گیا۔ اگلے کئی عشروں تک وہ اٹلی میں مقیم رہے اور اپنے وطن میں رونما ہونے والے انقلابات، خانہ جنگیوں اور بیرونی مداخلتوں کو دور سے دیکھتے رہے۔ افغانستان، جو کبھی ایک نسبتاً پُرسکون ملک سمجھا جاتا تھا، آہستہ آہستہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنتا چلا گیا۔

پھر تاریخ نے ایک اور موڑ لیا۔ 2001 میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد جب امریکہ نے افغانستان میں مداخلت کی اور طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تو ظاہر شاہ نے جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ ان کے ذہن میں شاید یہ خیال موجود تھا کہ افغانستان کے لوگ ماضی کے اس نسبتاً پرامن دور کو یاد کرتے ہوئے انہیں دوبارہ اقتدار کے منصب پر دیکھنا چاہیں گے۔ بعض مغربی حلقوں میں بھی ابتدائی طور پر یہ خیال زیرِ بحث آیا کہ شاید افغانستان میں آئینی بادشاہت کی صورت میں ظاہر شاہ کو دوبارہ ایک علامتی حکمران کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔ مگر عملی سیاست اکثر نظریاتی امکانات سے مختلف راستہ اختیار کرتی ہے۔ امریکہ نے اقتدار کے لیے ایک بالکل نئی قیادت کو آگے بڑھایا اور بالآخر حامد کرزئی افغانستان کے صدر بن گئے۔ ظاہر شاہ کو اگرچہ احترام کے ساتھ وطن واپس آنے دیا گیا اور انہیں “بابائے ملت” کا لقب بھی دیا گیا، لیکن اقتدار کے اصل مراکز سے وہ بدستور دور ہی رہے۔

یہ واقعہ عالمی سیاست کے ایک اہم اصول کو واضح کرتا ہے۔ بڑی طاقتیں عموماً ماضی کے حکمرانوں کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے بجائے نئے اور زیادہ قابلِ استعمال سیاسی چہروں کو ترجیح دیتی ہیں۔ جلاوطنی میں رہنے والے رہنما اکثر یہ تصور کرتے ہیں کہ اگر بیرونی طاقتیں ان کے ملک میں مداخلت کریں گی تو وہ قدرتی طور پر اقتدار کے سب سے بڑے امیدوار بن جائیں گے۔ مگر زمینی سیاست کا حساب کتاب اس قدر سادہ نہیں ہوتا۔ ریاستوں کے اندرونی توازن، مقامی طاقتوں کے مفادات اور بین الاقوامی سیاست کے تقاضے مل کر ایسے فیصلے کرتے ہیں جن میں ماضی کی یادیں کم ہی وزن رکھتی ہیں۔

ایران کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال پیش کرتی ہے۔ 1979 میں آنے والا انقلابِ ایران دراصل شاہی نظام کے خلاف ایک وسیع عوامی تحریک کا نتیجہ تھا جس نے محمد رضا پہلوی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس انقلاب کے بعد امام خمینی کی قیادت میں ایک بالکل نیا سیاسی نظام وجود میں آیا جس نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے خطے کی طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا۔ شاہِ ایران کا خاندان جلاوطن ہو گیا اور کئی دہائیوں سے بیرونِ ملک مقیم ہے۔

آج شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی مغربی دنیا میں رہتے ہوئے ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف سیاسی مہم چلاتے نظر آتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایرانی عوام موجودہ نظام سے تنگ آ چکی ہے اور اگر موقع ملا تو وہ شاہی خاندان کی واپسی کا خیر مقدم کرے گی۔ ساتھ ہی وہ مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، کو یہ یقین بھی دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ اپنے والد کی طرح مغرب نواز پالیسی اختیار کریں گے۔ مگر تاریخ کے تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ اس نوعیت کے دعوے اکثر زمینی حقیقت سے زیادہ سیاسی خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے میں جب ایک بڑی سیاسی تبدیلی یا انقلاب برپا ہو جاتا ہے تو چند دہائیوں کے اندر اندر نئی نسلیں، نئے سیاسی دھڑے اور نئے مفادات جنم لے لیتے ہیں۔ سماجی اور سیاسی منظرنامہ اس قدر بدل جاتا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی واپسی ایک رومانوی تصور تو ہو سکتی ہے، مگر عملی سیاست میں اس کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔

اسی حقیقت کی ایک مثال عراق میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ عراقی سیاست دان احمد چلبی طویل عرصے تک جلاوطنی میں رہتے ہوئے امریکہ میں سرگرم رہے اور انہوں نے مغربی حلقوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر صدام حسین کی حکومت ختم ہو جائے تو عراقی عوام انہیں ایک متبادل قیادت کے طور پر قبول کریں گے۔ 2003 میں جب جنگِ عراق کے نتیجے میں صدام حکومت کا خاتمہ ہوا تو ابتدا میں یہ تاثر موجود تھا کہ چلبی کو اہم سیاسی کردار مل سکتا ہے۔ لیکن جلد ہی واضح ہو گیا کہ عراق کی داخلی سیاست اور سماجی حقیقتیں اس تصور سے بہت مختلف ہیں اور وہ اس مقبولیت کو حاصل نہ کر سکے جس کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔

ان تمام تاریخی مثالوں سے ایک مشترکہ حقیقت سامنے آتی ہے۔ اقتدار کی سیاست محض ماضی کی یادوں، شخصی دعووں یا جلاوطنی میں کی جانے والی مہمات سے طے نہیں ہوتی۔ اس کا فیصلہ زمینی طاقتوں، داخلی سیاسی توازن اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے پیچیدہ امتزاج سے ہوتا ہے۔ بیرونی طاقتیں عموماً ایسے سیاسی کرداروں کو ترجیح دیتی ہیں جو نئے حالات میں زیادہ لچکدار ہوں اور جنہیں موجودہ سیاسی ڈھانچے میں آسانی سے استعمال کیا جا سکے۔

اسی لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جلاوطنی میں بیٹھے ہوئے سابق حکمران یا شاہی خاندان کے افراد اپنی مقبولیت اور امکانات کا اندازہ ماضی کے آئینے میں لگاتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کے ملک کا سیاسی منظرنامہ بہت پہلے بدل چکا ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف سیاسی نقشہ تبدیل ہو جاتا ہے بلکہ معاشرے کی نفسیات، ترجیحات اور طاقت کے مراکز بھی بدل جاتے ہیں۔

اسی پس منظر میں اگر آج بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بیرونی دباؤ یا ممکنہ مداخلت کے نتیجے میں وہ ماضی کے اقتدار کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں تو یہ خیال زیادہ تر ایک سیاسی خوش فہمی محسوس ہوتا ہے۔ شہزادہ محترم اپنے ذہن میں بات بیٹھا لیں کہ  اقتدار کے کھیل میں استعمال شدہ مہروں کو دوبارہ اسی حیثیت میں میدان میں لانا بڑی طاقتوں کی ترجیح نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ نہ صرف حالات بدلتے ہیں بلکہ کردار بھی بدل جاتے ہیں، اور یہی تبدیلی اکثر ماضی کے حکمرانوں کی واپسی کی امیدوں کو محض ایک خواب بنا دیتی ہے۔عمر کے جس حصے میں حضور آپ ہیں اس حصے میں دل میں پلنے والی خواہشات عارضہ قلب کا باعث بنتی ہیں ۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home