پاکستان میں نظریاتی ووٹ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کا ہے
پاکستان کی انتخابی تاریخ کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار پوری شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے کہ اگر اس ملک میں کسی ووٹ کو ’’نظریاتی ووٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے تو وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ہے۔ باقی تمام سیاسی وابستگیاں وقتی مفادات، شخصیات، برادریوں یا طاقت کے مراکز کے گرد گھومتی رہی ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت پر مبنی ووٹ ایک مسلسل، زندہ اور متحرک حقیقت کے طور پر موجود رہا ہے۔
1970 کے پہلے عام انتخابات اس حقیقت کی سب سے واضح مثال ہیں۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان نے ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف سیاسی بغاوت کو اپنی تحریک کی بنیاد بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے انہیں تاریخ ساز مینڈیٹ دے دیا۔ یہی صورتحال مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ دیکھنے میں آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ سے علیحدگی کے بعد خود کو اسٹیبلشمنٹ مخالف عوامی رہنما کے طور پر پیش کیا، اور ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ دراصل طاقت کے مراکز کے خلاف ایک عوامی احتجاج کی علامت بن گیا۔ یوں دونوں حصوں میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ہی ووٹ کی اصل بنیاد بنا۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا (1977–1988) نے اس رجحان کو مزید گہرا کیا۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی، جماعتی سیاست کا خاتمہ، اور غیر جماعتی انتخابات (1985) کے ذریعے ایک ایسی سیاسی اشرافیہ کو جنم دیا گیا جس کا عوام سے کوئی نظریاتی رشتہ نہیں تھا۔ اس جبر کے نتیجے میں جو خلا پیدا ہوا، اس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست مزید مضبوط ہو گئی۔ چنانچہ 1988 میں جنرل ضیاء کی موت کے بعد جب جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی، جو گیارہ سال تک اسٹیبلشمنٹ کے مظالم اور دباؤ کا سامنا کرتی رہی تھی، واضح طور پر عوام کی امیدوں کا مرکز بن کر ابھری اور محترمہ بینظیر بھٹو وزیرِاعظم بنیں۔
1990 کی دہائی کو بظاہر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کا دور کہا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کی کشمکش تھی۔ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے رہے، جبکہ بینظیر بھٹو نے خود کو عوامی مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں جماعتیں بار بار اقتدار میں آئیں، مگر کسی ایک کو بھی مستقل عوامی اعتماد حاصل نہ ہو سکا۔
2008 کے انتخابات ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر عوامی ہمدردی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ملا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد آصف علی زرداری نے مفاہمت (Reconciliation) کی سیاست اختیار کی۔ اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی بتدریج اپنی اینٹی اسٹیبلشمنٹ شناخت کھو بیٹھی، اور یوں اس نظریاتی ووٹ سے بھی محروم ہو گئی جس نے اسے بار بار زندہ رکھا تھا۔
2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف ایک نئی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ ابتدا میں اسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یا کم از کم سہولت کاری حاصل رہی، مگر عمران خان نے اس عرصے میں نہایت جارحانہ سیاسی مہم چلائی۔ انہوں نے شریف خاندان کی مبینہ کرپشن کو اس شدت سے عوامی بیانیے کا حصہ بنایا کہ کرپشن ایک گھر گھر پہنچنے والا سیاسی نعرہ بن گئی۔ یہ سیاست بظاہر اینٹی کرپشن تھی، مگر عملاً اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے سے ہم آہنگ رہی۔
2018 میں تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ عمران خان کو ’’سلیکٹڈ‘‘ کہا گیا، اور یوں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ان کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ اسی دوران نواز شریف لندن روانہ ہوئے اور انہوں نے غیر معمولی طور پر خود کو ایک مزاحمتی رہنما کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔ ان کی تقاریر، اور مریم نواز کی چار سالہ سیاسی جدوجہد نے مسلم لیگ (ن) کو ایک حد تک اینٹی اسٹیبلشمنٹ رنگ دے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ہونے والے کئی ضمنی انتخابات میں حکومتی امیدواروں کو شکست ہوئی، جس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
تاہم تاریخ نے ایک اور کروٹ لی۔ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، اور بالآخر عمران خان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ یوں عمران خان کو اپنی ناکام حکومتی پالیسیوں کے بوجھ سے نجات مل گئی اور وہ خود ایک مظلوم، مزاحمتی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ علامت بن کر ابھرے۔ آج وہ جیل میں ہیں، مگر عوامی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ طاقتور یقین دہانیوں کے باوجود کسی امیدوار کو اپنی جیت یقینی نظر نہیں آتی۔
اس پورے تاریخی و سیاسی منظرنامے کا نچوڑ یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی نظریاتی بنیادیں کمزور اور متغیر رہی ہیں، مگر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ ایک مستقل نظریاتی حقیقت کے طور پر موجود رہا ہے۔ یہ وہ ووٹ ہے جو وقتاً فوقتاً مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو منتقل ہوتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف جیسے سیاست دان کو بھی یہ ووٹ ملا، حالانکہ انہیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ تصور کرنا خود ان کے ماضی کے تناظر میں ناقابلِ یقین لگتا ہے۔
آج کے انتخابی منظرنامے میں بھی یہی عنصر فیصلہ کن نظر آتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں عمران خان کی ذاتی مقبولیت کے ساتھ ساتھ پارٹی ورکرز، نوجوان طبقہ، اور سب سے بڑھ کر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی کنجی نظریاتی منشور سے زیادہ اس بات میں پوشیدہ ہے کہ کون عوام کی نظر میں اسٹیبلشمنٹ کے مقابل کھڑا دکھائی دیتا ہے۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home