1971 کی جنگ کے بعد مغربی پاکستان کی زمین کی واپسی اور جنگی قیدیوں کی واپسی بھٹو کی ذہانت کا ثبوت ہے۔
1971 کے
بحران کی جڑیں مارچ کے واقعات، سیاسی تعطل اور طاقت کے غلط استعمال میں پیوست
تھیں۔ 1970 کے انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی میں تاخیر، مشرقی پاکستان میں
فوجی آپریشن، اور سیاسی قیادت کی ناکامیوں نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا جہاں
بھارت کو مداخلت کا موقع ملا۔ بھارتی قیادت، خصوصاً اندرا گاندھی، نے نہ صرف
بنگالی مہاجرین کے مسئلے کو عالمی فورمز پر اجاگر کیا بلکہ سوویت یونین کے ساتھ
1971 کا دوستی معاہدہ کر کے اپنی پشت مضبوط کر لی۔ دسمبر کے آغاز میں جب پاکستان
نے مغربی محاذ پر پیش قدمی کی کوشش کی تو بھارت پہلے سے تیار تھا۔ 16 دسمبر کو
ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کے ساتھ جنگ ختم تو ہو گئی مگر اس کے اثرات ابھی شروع ہوئے
تھے۔
عام تاثر کے برعکس، جنگ صرف مشرقی محاذ تک محدود نہیں
رہی۔ مغربی پاکستان کے مختلف سیکٹرز میں بھارتی افواج نے پیش قدمی کی اور قابلِ
ذکر رقبہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ سرکاری اور غیر سرکاری دفاعی مطالعات کے مطابق،
سندھ کے سرحدی علاقوں، خصوصاً تھرپارکر اور نگرپارکر کے آس پاس بھارتی فوج نے کئی
دیہات اور زرعی زمین پر کنٹرول حاصل کیا۔ پنجاب میں شکرگڑھ سیکٹر اور سلیمانکی کے
علاقے بھی بھارتی پیش قدمی کی زد میں آئے۔ کشمیر کے محاذ پر لائن آف کنٹرول کے
ساتھ ساتھ متعدد اسٹریٹیجک پوزیشنز پر بھارت نے قبضہ مضبوط کیا۔ مجموعی طور پر یہ
رقبہ پانچ ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار مربع میل کے درمیان بتایا جاتا ہے جس کی تصدیق
مختلف پاکستانی عسکری تجزیہ نگاروں، شملہ مذاکرات میں شامل سفارتی یادداشتوں اور
بعد ازاں ڈی کلاسیفائیڈ امریکی دستاویزات سے ہوتی ہے۔ یہ زمین محض علامتی نہیں
تھی؛ اس میں زرعی پیداوار، سرحدی دفاع کی گہرائی، اور مستقبل کے مذاکرات میں دباؤ
ڈالنے کی صلاحیت شامل تھی۔
اسی دوران بھارتی قید میں جانے والے پاکستانی فوجیوں
اور سویلین اہلکاروں کی تعداد نے اس بحران کو بے مثال بنا دیا۔ تقریباً ترانوے
ہزار افراد کی گرفتاری دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی ایک واقعے میں قید ہونے والی سب
سے بڑی فوجی تعداد تھی۔ یہ افراد بھارت کے مختلف کیمپوں میں رکھے گئے جہاں
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کو رسائی تو دی گئی مگر قید کی نفسیاتی اور سیاسی
نوعیت اپنی جگہ موجود رہی۔ بھارتی قیادت نے ان قیدیوں کو محض جنگی اصولوں کے تحت
نہیں بلکہ ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر دیکھا۔ بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی
تقاریر، اندرا گاندھی کے بیانات اور بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ سے واضح ہوتا ہے کہ
قیدیوں کے ذریعے پاکستان پر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے، جنگی جرائم کے مقدمات قبول
کرنے اور علاقائی معاملات میں رعایت دینے کا دباؤ ڈالنا مقصود تھا۔
دسمبر 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو
ان کے سامنے ملبے کا ایک ڈھیر تھا۔ فوج شکست خوردہ، معیشت کمزور، عوام مایوس اور
عالمی سطح پر پاکستان ایک مشکل مقدمہ بن چکا تھا۔ بھٹو کی سیاست اور شخصیت پر
اختلافات اپنی جگہ مگر اس مرحلے پر ان کے فیصلوں کو صرف نعروں یا بعد ازاں بننے
والے بیانیوں سے پرکھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کے قریبی رفقا جیسے معراج
محمد خان اور عزیز احمد کی یادداشتوں نیز خود بھٹو کی تقاریر اور انٹرویوز سے یہ
بات سامنے آتی ہے کہ ان کی بنیادی ترجیح ریاست کی بقا، زمین کی واپسی اور قیدیوں
کی رہائی تھی۔ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ کسی نئی جنگ کی سکت نہ پاکستان میں ہے
نہ عالمی طاقتیں اس کی اجازت دیں گی۔
اسی تناظر میں 1972 کے وسط میں شملہ میں ہونے والی
ملاقات فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ شملہ معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ جنگ کے بعد
طاقت کے توازن کا عملی اظہار تھا۔ اندرا گاندھی ایک فاتح کے اعتماد کے ساتھ
مذاکرات کی میز پر آئیں مگر ان کے سامنے بھی بین الاقوامی دباؤ، خاص طور پر سوویت
یونین اور امریکہ کے مفادات موجود تھے۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی بعد ازاں
سامنے آنے والی یادداشتوں اور ٹیلی گرامز سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کسی
طویل عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا جبکہ چین بھی جنوبی ایشیا میں بھارت
کی مکمل بالادستی نہیں چاہتا تھا۔
معاہدے کی شقوں میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ دونوں
ممالک طاقت کے استعمال سے اجتناب کریں گے، تمام تنازعات دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے
حل ہوں گے اور جنگ کے دوران قبضہ کی گئی زمین واپس کی جائے گی۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے
اکثر عوامی بیانیے میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شملہ معاہدے کے تحت بھارت نے
مغربی پاکستان سے مکمل فوجی انخلاء پر آمادگی ظاہر کی جس کے نتیجے میں چند ہی
مہینوں میں وہ تمام علاقے پاکستان کے کنٹرول میں واپس آ گئے جو دسمبر 1971 میں
ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ اگر اس معاہدے کو نہ مانا جاتا تو یہ زمین مستقل قبضے میں
بھی جا سکتی تھی، جیسا کہ تاریخ میں متعدد مثالیں موجود ہیں۔
جنگی قیدیوں کی رہائی کا عمل شملہ معاہدے کے فوراً بعد
مکمل نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے مزید سفارتی مراحل طے کرنا پڑے۔ 1973 میں پاکستان،
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والا سہ فریقی معاہدہ اس سلسلے کی آخری کڑی
تھا۔ اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے جنگی جرائم کے مقدمات سے دستبرداری اختیار کی
جس کے بدلے قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔ اس فیصلے پر آج بھی شدید بحث ہوتی ہے مگر
اس وقت کے زمینی حقائق یہ تھے کہ قیدیوں کی سلامتی، ان کی وطن واپسی اور قومی وقار
کا تقاضا یہی تھا کہ ایک طویل قانونی اور سیاسی کشمکش سے بچا جائے۔ ریڈ کراس کی
رپورٹس اور بنگلہ دیشی قیادت کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مقدمات چلانے
کا عمل برسوں پر محیط ہو سکتا تھا۔
1973
اور
1974 کے دوران جب پاکستانی فوجی مرحلہ وار وطن واپس آئے تو یہ صرف افراد کی واپسی
نہیں تھی بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی بحالی کا عمل تھا۔ ان قیدیوں کی کہانیاں، جو
بعد ازاں کتابوں اور انٹرویوز کی صورت میں سامنے آئیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ قید
کا تجربہ کس قدر کٹھن تھا۔ فوج کی تنظیمِ نو، عسکری اصلاحات اور بعد کے دفاعی
فیصلے اسی تجربے کے زیرِ اثر کیے گئے۔ جنرل ٹکا خان اور دیگر عسکری رہنماؤں کی
تقاریر میں اس شکست اور اس کے اسباق کا حوالہ بار بار ملتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ قومی بیانیہ سادہ بنتا چلا گیا۔ شملہ
معاہدے کو محض ایک رعایت، بھٹو کو محض ایک سیاست دان اور جنگ کو محض ایک سانحہ
قرار دے دیا گیا۔ مگر جب تاریخی دستاویزات، غیر جانبدار تجزیے اور عالمی ذرائع کو
سامنے رکھا جائے تو تصویر زیادہ پیچیدہ مگر زیادہ حقیقت پسندانہ نظر آتی ہے۔ مغربی
پاکستان کی زمین کی واپسی ایک خاموش سفارتی کامیابی تھی جس کے بغیر پاکستان کی
جغرافیائی سالمیت مزید خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ اسی طرح قیدیوں کی رہائی ایک ایسا
انسانی اور قومی مسئلہ تھا جسے کسی بھی قیمت پر حل کرنا ناگزیر تھا۔
اگر فرض کیا جائے کہ شملہ معاہدہ نہ ہوتا تو ممکنہ
منظرنامے خوفناک تھے۔ قیدی برسوں تک قید میں رہ سکتے تھے۔ مغربی محاذ کی زمین
مستقل طور پر ہاتھ سے جا سکتی تھی اور پاکستان عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جاتا۔
بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں علاقائی تناؤ بڑھتا اور معاشی پابندیوں کا
خطرہ بھی موجود تھا۔ یہ سب وہ حقائق ہیں جن کا ذکر اسٹینلے وولپرٹ جیسے مؤرخین اور
جنوبی ایشیا کے ماہرین اپنی تحریروں میں کرتے ہیں۔
آخرکار یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ 1971 کی جنگ کے بعد کا
دور محض شکست کا نہیں بلکہ مشکل فیصلوں کا دور تھا۔ یہ فیصلے شاید مقبول نہ ہوں
مگر انہوں نے ریاست کو سنبھلنے کا موقع دیا۔ تاریخ کو جذبات سے نہیں بلکہ شواہد سے
پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مغربی پاکستان کی زمین کی واپسی، نوّے ہزار سے زائد قیدیوں کی
رہائی اور خطے میں ایک نئے سفارتی توازن کا قیام اسی حقیقت کا ثبوت ہیں کہ کبھی
کبھی خاموش کامیابیاں شور مچانے والی شکستوں سے زیادہ معنی رکھتی ہیں۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home