غصے کا علاج معافی سے کریں
انسانی زندگی میں سب سے کٹھن لمحہ وہ ہوتا ہے جب کسی
دوسرے انسان کے ہاتھوں دکھ، تحقیر یا ناانصافی کا سامنا ہو۔ ایسے میں سب سے پہلا
سوال یہی ہوتا ہے کہ اس زخم کے ساتھ جیا کیسے جائے؟ بدلہ لیا جائے، خاموشی اختیار
کی جائے یا معاف کر دیا جائے؟ بظاہر غصہ انسان کو وقتی تسکین دیتا ہے لیکن درحقیقت
یہ تسکین ایک دھوکا ہے کیونکہ غصہ عقل کو معطل اور بصیرت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ اسی
لیے دانش مند لوگ وقت کی قیمت پہچانتے ہیں اور اسے نفرت، کدورت اور انتقام میں
ضائع نہیں ہونے دیتے۔
غصہ ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو اپنے ہی خلاف کھڑا
کر دیتی ہے۔ لمحاتی طور پر وہ خود کو طاقتور محسوس کرتا ہے مگر درحقیقت وہ اپنی سب
سے قیمتی شے—سکونِ قلب—سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ تاریخ، ادب اور مذہب سب اس بات پر
متفق ہیں کہ غصہ اندھا ہوتا ہے اور اکثر ایسے فیصلوں کی طرف لے جاتا ہے جن کا
پچھتاوا زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک لمحے کے ضبط کو زندگی بھر کی
ندامت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
معافی اس کے برعکس ایک شعوری عمل ہے۔ یہ کمزوری نہیں
بلکہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ جو شخص معاف کر دیتا ہے وہ دراصل اپنے آپ کو اس
جذباتی قید سے آزاد کر لیتا ہے جو اسے دکھ دینے والے انسان سے باندھے رکھتی ہے۔
معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ غلطی کو درست مان لیا جائے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے
کہ انسان اس زخم کو اپنی شناخت نہ بننے دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معافی انسان کو
حقیقی طاقت عطا کرتی ہے—اپنے جذبات پر اختیار کی طاقت۔
مذہبی تعلیمات میں معافی کو غیر معمولی اخلاقی قدر دی
گئی ہے۔ دعا کے الفاظ ہوں یا حکمت کے اقوال، ہر جگہ یہی پیغام ملتا ہے کہ جو پہلے
معاف کرتا ہے وہی سرخرو ہوتا ہے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دینا آسان ہے لیکن خاموشی،
برداشت اور درگزر وہ اوصاف ہیں جو بڑے انسانوں کو چھوٹے دلوں سے ممتاز کرتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ خاموشی غصے پر سب سے بڑی فتح ہے کیونکہ غصہ انسان کو اس کے اصل
مقام سے گرا دیتا ہے۔
ادب نے بھی غصے کو خود کو کھا جانے والی آگ قرار دیا
ہے۔ غصہ دوسروں کی غلطیوں کو اپنے وجود کا حصہ بنا لینا ہے جبکہ معافی ان غلطیوں
کو وہیں دفن کر دینا ہے جہاں ان کا تعلق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نفرت جسم اور روح
دونوں کو بیمار کرتی ہے جب کہ معافی شفا کا ذریعہ بنتی ہے۔ جدید طبی تحقیق بھی اس
حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ مستقل غصہ بلند فشارِ خون، دل کی بیماریوں اور ذہنی تناؤ
کا سبب بنتا ہے۔ ماضی کی تلخ یادوں کو بار بار دہرانا دراصل اپنے ہی دل پر بوجھ
ڈالنے کے مترادف ہے۔
تاہم یہ مان لینا ضروری ہے کہ معاف کرنا آسان نہیں۔ خاص
طور پر وہ زخم جو اپنوں نے دیے ہوں یا وہ صدمے جو بچپن میں لگے ہوں ان پر درگزر کا
مرحلہ طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ معافی ایک تدریجی سفر ہے جس میں غصہ، اداسی،
الجھن اور سوالات سب شامل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اس سفر کو مکمل نہیں کر پاتے مگر جزوی
معافی بھی انسان کو نفسیاتی بوجھ سے کافی حد تک آزاد کر سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ معافی کے عمل میں دوسرا فریق شامل
ہو۔ بہت سے لوگ یہ جانے بغیر ہی معاف کر دیے جاتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو تکلیف دی
تھی۔ اصل مقصد کسی کو بری الذمہ قرار دینا نہیں بلکہ اپنے دل سے بوجھ اتارنا ہے۔
تلخ تجربات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ آئندہ خود کو محفوظ کیسے رکھنا ہے اور دوسروں کو
وہ اذیت نہ دینا ہے جو ہمیں ملی۔
اگر معاف کرنے کا راستہ دھندلا محسوس ہو تو آغاز چھوٹے
قدموں سے کیا جا سکتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اجنبیوں کی معمولی لغزشوں کو نظرانداز
کرنا بڑے زخموں کے لیے ذہنی تیاری پیدا کرتا ہے۔ اپنے جذبات کا اظہار کسی قابلِ
اعتماد شخص کے سامنے کرنا بھی شفا بخش ثابت ہوتا ہے کیونکہ سنا جانا خود ایک
طاقتور تجربہ ہے۔ ڈائری لکھنا، خود سے بات کرنا اور جذبات کو محفوظ انداز میں خارج
کرنا غصے کو نقصان دہ شکل اختیار کرنے سے روکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے احساسات کا اعتراف الزام
تراشی کے بغیر کیا جائے۔ "میں" کے صیغے میں بات کرنا انسان کو دفاعی
ہونے کے بجائے مسئلہ حل کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ معافی کا انجام داخلی سکون
ہے—ایسا سکون جو انسان کو دوبارہ ہنسنے، محسوس کرنے اور دوسروں سے جڑنے کے قابل
بناتا ہے۔ یہی سکون اصل میں شفا کی پہلی اور آخری منزل ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home