“پاکستان کا نظریاتی موڑ: قراردادِ پاکستان سے قراردادِ مقاصد تک ایک فکری و آئینی کشمکش”
قراردادِ مقاصد کی منظوری پاکستان کی آئینی تاریخ کا وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے ریاست کے نظریاتی خدوخال متعین کیے۔ یہ قرارداد 7 مارچ 1949 کو وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کی اور 12 مارچ 1949 کو منظور ہوئی۔ اس وقت پاکستان کے پاس مستقل آئین موجود نہیں تھا اور ریاست شدید انتظامی، سیاسی اور نظریاتی بحران سے گزر رہی تھی۔ حامد خان اپنی معروف کتاب Constitutional and Political History of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ قائداعظم کی وفات کے بعد مسلم لیگ کی قیادت کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ پاکستان کو محض ایک انتظامی ریاست کے طور پر چلایا جائے یا اسے ایک نظریاتی شناخت دی جائے اور قراردادِ مقاصد اسی کشمکش کا نتیجہ تھی۔
اسمبلی
میں قرارداد پیش کیے جانے کے بعد اس پر مسلسل کئی دن بحث ہوئی۔ یہ بحث محض الفاظ
یا مذہبی اصطلاحات تک محدود نہ تھی بلکہ دراصل ریاست میں حاکمیت کے منبع پر تھی۔
قرارداد کا سب سے بنیادی جملہ یہ تھا کہ “اللہ تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلا شرکتِ
غیرے حاکمِ اعلیٰ ہے اور پاکستان کے عوام کو اختیار ایک مقدس امانت کے طور پر دیا
گیا ہے۔” Constituent Assembly of Pakistan Debates, Volume V (1949) کے مطابق، یہی وہ نکتہ تھا جس پر سب
سے زیادہ اختلاف ہوا کیونکہ یہ جملہ مغربی جمہوری نظریے میں رائج “عوامی حاکمیت”
کے تصور سے مختلف تھا۔
لیاقت
علی خان نے اسمبلی میں قرارداد کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حاکمیتِ
الٰہی کا مطلب تھیوکریسی نہیں بلکہ اخلاقی حدود کے اندر جمہوریت ہے۔ ان کا استدلال
تھا کہ اسلام میں اقتدار عوام کے نمائندوں کے ذریعے ہی استعمال ہوتا ہے مگر وہ
اقتدار مطلق نہیں بلکہ اخلاقی اصولوں کا پابند ہوتا ہے۔ حامد خان لکھتے
ہیں کہ لیاقت علی خان نے دانستہ طور پر قرارداد میں “جمہوریت، آزادی، مساوات اور
سماجی انصاف” جیسے جدید سیاسی تصورات شامل کیے تاکہ یہ تاثر زائل ہو کہ پاکستان
کسی مذہبی پیشوائیت کی طرف جا رہا ہے۔
اس
کے باوجود غیر مسلم اراکین نے قرارداد کی شدید مخالفت کی۔ سریش
چندر چیٹرجی ،بھوپندرا کمار دتا اور دیگر اراکین نے اسمبلی کے ریکارڈ
میں یہ اعتراض درج کروایا کہ ریاست کی بنیاد مذہب پر رکھنے سے شہری مساوات ختم ہو
جائے گی۔آئین ساز اسمبلی کے ڈیٹا بیس کے مطابق سریش چندر چیٹر جی نے کہا کہ جدید
ریاست میں مذہب کا ریاستی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے اور “حاکمیتِ
الٰہی” کا تصور بالآخر اکثریتی مذہب کی بالادستی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ حامد خان اس موقع پر لکھتے ہیں کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا آئینی
موقع تھا جب تمام غیر مسلم اراکین نے اجتماعی طور پر مخالفت میں ووٹ دیا جو اس بات
کی علامت تھا کہ قرارداد قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکام رہی۔
قراردادِ
مقاصد میں اگرچہ اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور مساوی شہریت کی ضمانت دی گئی
مگر ناقدین کے نزدیک یہ ضمانتیں ایک ایسے فریم ورک کے اندر دی گئیں جو بنیادی طور
پر اسلامی تشریح کا محتاج تھا۔ عائشہ جلال اپنی
کتاب The State of Martial Rule میں اس نکتے کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ قراردادِ مقاصد نے ریاست
اور مذہب کے تعلق کو واضح کیے بغیر آئینی نظام کا حصہ بنا دیا جس کے نتیجے میں بعد
کے ادوار میں ہر طاقت ور ادارے نے “اسلامی تشریح” کو اپنے مفاد کے مطابق استعمال
کیا۔
قراردادِ
مقاصد کو اکثر قائداعظم کے تصورِ پاکستان کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، مگر یہاں ایک فکری
تضاد نمایاں ہوتا ہے۔ قائداعظم کی 11 اگست 1947 کی تقریر، جو Speeches and Statements of
Quaid-i-Azam میں محفوظ ہے، اس بات کی صریح دلیل فراہم کرتی ہے کہ وہ مذہب
کو شہری معاملات سے الگ رکھنا چاہتے تھے۔ حامد خان واضح
طور پر لکھتے ہیں کہ قراردادِ مقاصد قائداعظم کی زندگی میں پیش نہیں کی گئی اور نہ
ہی اس کا کوئی واضح خاکہ ان کے خطابات یا تحریروں میں ملتا ہے اس لیے یہ کہنا
تاریخی طور پر درست نہیں کہ قراردادِ مقاصد قائداعظم کے براہِ راست وژن کا تسلسل
تھی ۔
مشرقی
پاکستان کے مسلم اراکین نے بھی قرارداد پر خاموش مگر معنی خیز تحفظات کا اظہار
کیا۔ ان کا خدشہ تھا کہ مذہب کے نام پر ایک مضبوط مرکز قائم کیا جائے گا جس میں
عددی اکثریت رکھنے والا مشرقی پاکستان سیاسی طور پر کمزور ہو جائے گا۔ رونک جہاں اپنی کتاب Pakistan:
Failure in National Integration
میں لکھتی ہیں کہ قراردادِ مقاصد نے
صوبائی خودمختاری کے مسئلے کو پسِ منظر میں دھکیل دیا اور بعد میں یہی مسئلہ مشرقی
پاکستان کی علیحدگی کی فکری بنیاد بنا دیا۔
آئینی
سطح پر قراردادِ مقاصد ابتدا میں صرف ایک رہنما اصول تھی مگر اس کا اثر وقت کے
ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ 1956 اور 1962 کے آئینوں میں اسے بطور تمہید شامل کیا گیا
لیکن 1985 میں جنرل ضیاء الحق نے آرٹیکل 2-A کے ذریعے اسے آئین کا باقاعدہ قابلِ
نفاذ حصہ بنا دیا۔ حامد خان لکھتے
ہیں کہ یہی وہ موڑ تھا جہاں قراردادِ مقاصد ایک نظریاتی دستاویز سے عملی آئینی
طاقت میں تبدیل ہو گئی اور عدلیہ کو یہ اختیار ملا کہ وہ کسی بھی قانون کو
قراردادِ مقاصد کے معیار پر پرکھ سکے ۔
یوں
قراردادِ مقاصد ایک طرف پاکستان کو ایک اخلاقی اور نظریاتی شناخت فراہم کرتی ہے
مگر دوسری طرف یہ قیامِ پاکستان کے وقت کیے گئے اس وعدے سے جزوی انحراف بھی دکھائی
دیتی ہے جس میں ریاست کو شہری مساوات اور مذہبی غیر جانب داری پر قائم کرنے کی بات
کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مورخین اور آئینی ماہرین کے نزدیک پاکستان کی تاریخ
دراصل “قائداعظم کے پاکستان” اور “قراردادِ مقاصد کے پاکستان” کے درمیان مسلسل
کشمکش کی تاریخ ہے، اور یہ کشمکش آج تک ریاستی ڈھانچے، قانون سازی اور قومی شناخت
پر اثر انداز ہو رہی ہے۔کیونکہ یہ قرار داد اس قرار داد سے متصادم ہے جو مسلم لیگ
نے لاہور میں 1940 میں پاس کی تھی ۔ جسے قرار داد پاکستان کہتے ہیں ۔
قرار
داد پاکستان بنیادی طور پر برصغیر کے
مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا مطالبہ تھی نہ کہ کسی ریاستی آئین یا نظریاتی خاکے کا
مسودہ۔ اس قرارداد میں کہیں بھی “اسلامی ریاست”، “شریعت”، “حاکمیتِ الٰہی” یا
مذہبی قانون سازی کا ذکر موجود نہیں۔عائشہ جلال اپنی کتاب The Sole Spokesman میں واضح طور پر لکھتی ہیں کہ قراردادِ پاکستان کا مرکزی نکتہ
مذہب نہیں بلکہ “مسلم اکثریتی علاقوں کی سیاسی خودمختاری اور آئینی تحفظ” تھا،
تاکہ ہندو اکثریت کے زیرِ اثر مرکزی حکومت سے نجات حاصل کی جا سکے ۔
قراردادِ
پاکستان کی زبان مکمل طور پر آئینی اور جغرافیائی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ہندوستان
کے وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، انہیں “خود مختار اور آزاد ریاستوں” (independent
states) کی شکل دی جائے، اور ان ریاستوں کے
اندر اقلیتوں کے حقوق کے لیے “مناسب، مؤثر اور لازمی تحفظات” فراہم کیے جائیں۔ کے۔ کے عزیز اپنی کتاب The Making of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ یہ قرارداد دراصل ایک
“constitutional bargaining document” تھی
جس کا مقصد مسلمانوں کو ایک محفوظ سیاسی مستقبل دلوانا تھا نہ کہ کسی مذہبی ریاست
کا اعلان کرنا ۔
اس
کے برعکس قراردادِ مقاصد جو 1949 میں پیش کی گئی، ایک وجود میں آ چکی ریاست کے لیے
نظریاتی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش تھی۔ حامد خان کے
مطابق قراردادِ مقاصد کا اصل سوال یہ تھا کہ “اب جبکہ پاکستان بن چکا ہے یہ ریاست کس نظریے پر چلے گی؟” یہی وہ مقام ہے
جہاں قراردادِ مقاصد، قراردادِ پاکستان سے ایک مختلف سطح پر کھڑی نظر آتی ہے،
کیونکہ پہلی ایک سیاسی مطالبہ تھی جبکہ دوسری ایک آئینی و نظریاتی دستاویز ۔
قراردادِ
پاکستان میں حاکمیت کا منبع واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا مگر اس کا پورا متن
جدید آئینی سیاست کے فریم ورک میں لکھا گیا ہے جہاں عوامی نمائندگی، وفاقی ڈھانچہ
اور اقلیتوں کے حقوق مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس قراردادِ مقاصد نے پہلی
مرتبہ یہ اعلان کیا کہ “حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے” اور ریاستی اختیار عوام
کو ایک “امانت” کے طور پر منتقل کیا گیا ہے۔حامد خان لکھتے ہیں کہ یہ فقرہ مغربی آئینی روایت سے ایک
واضح نظریاتی انحراف تھا اور یہی وہ نکتہ تھا جس پر غیر مسلم اراکین اور بعض مسلم
اراکین نے شدید اعتراض کیا ۔
یہاں
ایک اہم فکری فرق نمایاں ہوتا ہے۔ قراردادِ پاکستان میں مسلمان ایک “قوم” کے طور
پر سامنے آتے ہیں جن کے سیاسی حقوق خطرے میں ہیں، جبکہ قراردادِ مقاصد میں مسلمان
ایک “مذہبی اکثریت” کے طور پر سامنے آتے ہیں جنہیں اسلامی اصولوں کے مطابق ریاست
چلانے کا حق دیا جا رہا ہے۔ رونک اپنی کتاب Pakistan: Failure in National Integration میں لکھتی ہیں کہ یہی تبدیلی بعد میں قومی شناخت کے بحران کا
باعث بنی کیونکہ ریاست شہری قومیت کے
بجائے مذہبی قومیت کی طرف مائل ہو گئی۔
اقلیتوں
کے حوالے سے بھی دونوں قراردادوں میں واضح فرق موجود ہے۔ قراردادِ پاکستان میں
اقلیتوں کے حقوق کو ایک “آئینی ضمانت” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا مذہب سے
براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس کے مقابلے میں قراردادِ مقاصد میں اقلیتوں کے حقوق
کو اسلامی اصولوں کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔عائشہ جلال کے مطابق یہ فرق محض لفظی
نہیں بلکہ عملی ہے کیونکہ بعد کے ادوار میں ریاست نے یہ طے کرنے کا اختیار خود
اپنے پاس رکھا کہ “اسلامی اصول” کیا ہیں اور کون ان کی تشریح کرے گا۔
قراردادِ
پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں منظور ہوئی اور ان کی سیاسی حکمتِ
عملی کا عکاس تھی۔ قائداعظم کے خطابات، خصوصاً 11 اگست 1947 کی تقریر، اس بات کی
تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ریاست کو مذہبی غیر جانب داری (religious
neutrality) کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ Speeches and Statements of
Quaid-i-Azam میں محفوظ یہ تقریر قراردادِ پاکستان کے مزاج سے ہم آہنگ ہے
مگر قراردادِ مقاصد کے فکری سانچے سے مطابقت نہیں رکھتی۔حامد خان واضح طور پر
لکھتے ہیں کہ قراردادِ مقاصد قائداعظم کی وفات کے بعد پیش کی گئی اور اسے ان کے
نظریے سے جوڑنا تاریخی لحاظ سے محلِ نظر ہے ۔
یوں
یہ کہنا درست ہوگا کہ قراردادِ پاکستان ایک سیاسی آزادی کا منشور تھی جبکہ
قراردادِ مقاصد ایک نظریاتی ریاست کا اعلان۔ پہلی قرارداد نے مسلمانوں کو
ایک محفوظ جغرافیائی اور آئینی مستقبل دلانے کی کوشش کی، جبکہ دوسری قرارداد نے اس
مستقبل کو ایک خاص نظریاتی سانچے میں ڈھال دیا۔ کے کے عزیز کے
مطابق پاکستان کی بعد کی تاریخ اسی تضاد کے گرد گھومتی ہے کہ آیا ریاست کو 1940 کے
سیاسی وعدے پر چلنا تھا یا 1949 کے نظریاتی بیانیے پہ۔
نتیجتاً،
قراردادِ مقاصد کو اگر قراردادِ پاکستان کا “فطری تسلسل” کہا جائے تو یہ تاریخی
طور پر مکمل طور پر درست نہیں کیونکہ دونوں کے مقاصد، زبان اور فکری بنیادیں مختلف
تھیں۔ زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ قراردادِ مقاصد ایک بعد از قیامِ پاکستان
سیاسی و مذہبی مصالحت کا نتیجہ تھی، جس نے ریاست کے رخ کو اس سمت موڑ دیا جو 1940
میں نہ واضح طور پر بیان کی گئی تھی اور نہ ہی عوام سے بطور وعدہ کی گئی تھی۔ یہی
فکری فرق پاکستان کی آئینی اور نظریاتی کشمکش کی اصل جڑ ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home