Tuesday, 30 December 2025

30 دسمبر آل انڈیا مسلم لیگ کا یوم تاسیس: مسلم لیگ ایک پرُ اسرار سیاسی جماعت

30دسمبر 1906 کو ہندوستان کے مسلم عمائدین کی ایک بیٹھک میں مسلمانوں کی نمائیندگی کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا۔ جماعت مقاصد میں برطانوی حکومت اپنی وفاداری کا یقین دلانا سب سے اہم تھا کیونکہ یہ ہی وہ مقصد ہے جس میں آخر دم تک تسلسل تھا۔

مولانا محمد علی جوہر نے دسمبر 1923 میں کاکیناڈا کے مقام پر اپنے طویل صدارتی خطبے میں شملہ وفد اور مسلم لیگ کے قیام کے پسِ پردہ محرکات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے اس ملاقات کو انگریزوں کی سیاسی ضرورت قرار دیتے ہوئے جو الفاظ استعمال کیے وہ تاریخ میں محفوظ ہو گئے۔ ان کے خطبے کا وہ خاص حصہ درج ذیل ہے:

"ایک طویل عرصے سے یہ بات عام ہے کہ شملہ وفد ایک 'کمانڈ پرفارمنس' (Command Performance) تھا۔ یہ وفد مسلمانوں کے اپنے جوش و خروش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے وائسرائے کے عملے اور علی گڑھ کے انگریز پرنسپل (آرچ بولڈ) کی وہ کوششیں تھیں جو مسلمانوں کو سیاسی تحریکوں سے دور رکھنے اور انہیں ایک الگ بلاک بنانے کے لیے کی جا رہی تھیں۔"

اس حوالے سےسب سے حیران کن شہادت خود وائسرائے لارڈ منٹو کی اہلیہ  لیڈی میری کیرولن گرے(Mary Caroline Grey)  کی ڈائری جو انڈیا، منٹو اینڈ مارلے 1906-10 کے نام سے شائع ہوئی سے ملتی ہے۔ انہوں نے یکم اکتوبر 1906 کی اپنی ڈائری میں لکھا:

"آج ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا، جو کہ تاریخِ ہند میں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ یہ 6 کروڑ 20 لاکھ لوگوں (مسلمانوں) کو باغی بننے سے روکنے کی ایک بڑی کوشش تھی۔" اسی شام ایک برطانوی افسر نے لیڈی منٹو کو خط لکھا جس میں اس نے اس وفد کو "A very big thing" اور برطانوی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

اس کے علاوہ اس وقت کے برطانوی لیبر لیڈر اور مستقبل کے وزیر اعظم رامسے میکڈونلڈ نے اپنی کتاب "The Awakening of India" میں لکھا کہ: "برطانوی افسران نے خود مسلمان رہنماؤں کو اکسایا کہ وہ اپنے لیے جداگانہ حقوق کا مطالبہ کریں تاکہ ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی قوم پرستی کے سامنے ایک وزن (Counterpoise) پیدا کیا جا سکے۔"

مشہور پاکستانی مورخ کے کے عزیز نے اپنی کتابوں میں اس پہلو پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اگرچہ وہ اسے مکمل طور پر "کٹھ پتلی" تماشہ نہیں کہتے، لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ علی گڑھ کالج کے پرنسپل آرچ بولڈ نے پس پردہ رہ کر وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری ڈنلوپ اسمتھ کے ساتھ مل کر سارا تانا بانا بنا تھا۔

 ٹوکرولی ہولمز (T.R. Holmes) سمیت کچھ مغربی مورخین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ لارڈ منٹو کو ایک ایسی سیاسی طاقت کی ضرورت تھی جو کانگریس کے شور کو کم کر سکے، اور شملہ وفد نے وہ ضرورت پوری کر دی۔

اس ضمن میں آرچ بولڈ  کا وہ خط بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے جو انہوں نے نواب محسن الملک کو لکھا انہوں نے لکھا :

"کرنل ڈنلوپ اسمتھ (وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری) سے میری بات ہوئی ہے، وائسرائے اس بات پر تیار ہیں کہ مسلمانوں کے ایک وفد سے ملاقات کریں تاکہ ان کے مطالبات سنے جا سکیں۔ اب آپ کو جلد از جلد ایک درخواست (Petition) تیار کرنی چاہیے جس پر معززین کے دستخط ہوں۔ اس میں وائسرائے کو وفاداری کا یقین دلایا جائے اور یہ مطالبہ کیا جائے کہ جہاں بھی انتخابی طریقہ کار رائج ہو (چاہے وہ بلدیاتی ہو یا کونسل کے لیے)، وہاں مسلمانوں کو ان کی عددی حیثیت کے مطابق نہیں بلکہ ان کی سیاسی اہمیت کے پیشِ نظر جداگانہ نمائندگی دی جائے۔ میں یہاں موجود ہوں اور میمورنڈم کی تیاری میں آپ کی ہر ممکن مدد کر سکتا ہوں۔"

آل انڈیا مسلم لیگ کی  اگلی  داستان  بھی نہایت دلچسپ ہے جس کے ساتھ نہایت ہی افسانوی حقائق جوڑے گئے ہیں۔ جیسا کہ علامہ اقبال کا سیاسی کردار، قرارداد پاکستان 1940کی تیاری، پنجاب میں مسلم لیگ کو جگہ بنا کر دینے کے لیے جناح اسکندر معاہدہ اور 1945 کے انتخابات کے لیے ووٹر کی اہلیت سمیت کئی ایسے پہلو ہیں جن پہ ہمارے ہاں بات نہیں کی جاتی۔ یہ سبھی پہلو علیحدہ علیحدہ تفصیل سے لکھے جانے لائق ہیں۔

دوسری طرف دو درجن کے قریب سیاسی جماعتوں میں آل انڈیا مسلم لیگ، آل انڈیا کیمونسٹ پارٹی اور جماعت احمدیہ ہی وہ تنظیمیں تھیں جو تقسیم ہندوستان کی قائل تھیں اس کے لیے ڈیڑھ درجن سے زائد مسلمانوں کی مذہبی اور سیکولر جماعتیں ایسی تھیں جو تقسیم ہندوستان اور قیام پاکستان کی مخالف تھیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت بشمول محمد علی جناح سبھی سیکولر نظریات کے حامل تھے جن کا بنیادی مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کے آئینی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانت کا حصول تھا لیکن آل انڈیا نیشنل کانگریس کی ہٹ دھرمی، عددی کثرت کا گھمنڈ اور سیاسی مخالفین کو کم سمجھنے کی غلطی نے مسلم لیگ کو تقسیم ہندوستان کی آپشن پہ کنوینس کر دیا

محض چند ہزار لوگوں کے ساتھ لاکھوں ہندوستانیوں پہ حکومت کرنے کے لیے انگریزوں نے ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی اختیار کی اس میں مسلم لیگ کئی بار استعمال بھی ہوئی۔ آخر پہ ہندوستان کو ایک خونی تقسیم سے گزار کر انگریز یہاں سے چلتا بنا تو یہ مسلم لیگ ہی تھی جس نے اپنے مستقبل کے دشمن کے لیے ماضی کے غاصب انگریز کی بجائے آزادی کی تحریک میں شریک سفر ہندوستان کا انتخاب کیا۔

قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو ایک متوازن خارجہ پالیسی دینے کی بجائے امریکی گود میں بیٹھنے کا انتخاب بھی آل انڈیا مسلم لیگ کی پاکستانی قیادت ہی نے کیا تھا جس میں لیاقت علی خان نے ترلے منتیں کر کے شاہ ایران کی وساطت سے براستہ برطانیہ امریکی دعوت نامی منگوایا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کو قیام پاکستان کے ساتھ ہی تحلیل کر دیا گیا تھا اس لیے بعد میں بننے والی کوئی بھی مسلم لیگ آل انڈیا مسلم لیگ کی لیگسی کو کلیم کر سکے۔ اب تو شائد حروف تہجی میں کوئی ہی حرف بچا ہو جس کے کے ساتھ مسلم لیگ نہ بنی ہو۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home