Monday, 29 December 2025

ترقی کا جھوٹا بیانیہ: ایوب خان کے معاشی ماڈل میں طبقاتی استحصال

پاکستان کی معاشی تاریخ میں جنرل ایوب خان کا دورِ اقتدار ایک ایسے تضاد کی علامت بن چکا ہے جسے محض ترقیاتی اعداد و شمار کی روشنی میں نہ تو مکمل طور پر سراہا جا سکتا ہے اور نہ ہی سادہ الفاظ میں رد کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ عہد تھا جب ریاستی سطح پر اقتصادی نمو کے گراف آسمان کو چھو رہے تھے صنعتی پیداوار میں حیران کن اضافہ ہو رہا تھا اور عالمی ادارے پاکستان کو ترقی پذیر دنیا کے لیے ایک مثالی ریاست کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ مگر اسی کے ساتھ ساتھ اسی ریاست کی سماجی بنیادوں میں ایسی دراڑیں پڑ رہی تھیں جو بعد ازاں قومی وحدت، طبقاتی ہم آہنگی اور معاشرتی انصاف کے تصور کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔ ؎

معروف ماہرِ معاشیات محبوب الحق اپنی شہرۂ آفاق تصنیف The Strategy of Economic Planning میں اس دور کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان کو ایشیا کا ابھرتا ہوا ''ٹائیگر'' قرار دیا جا رہا تھا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ اس زمانے میں مجموعی قومی پیداوار کی سالانہ شرحِ نمو چھ فیصد سے تجاوز کر چکی تھی جبکہ صنعتی شعبے میں یہ شرح بعض برسوں میں گیارہ فیصد سے بھی زیادہ رہی۔ بظاہر یہ تمام اعداد و شمار ایک کامیاب ریاستی منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتے تھے مگر ان کے پس منظر میں کارفرما معاشی فلسفہ دراصل ایک ایسے تصور پر مبنی تھا جسے ٖFunctional Inequality کہا جاتا  ہے۔ اس تصور کے مطابق یہ مفروضہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ غریب طبقات چونکہ بچت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لیے قومی دولت کو دانستہ طور پر چند امیر اور بااثر طبقات میں مرتکز ہونے دیا جائے تاکہ وہ اسے صنعتی سرمایہ کاری میں لگا کر مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔ یہ فلسفہ بظاہر ترقی کا راستہ دکھاتا تھا مگر عملی طور پر اس نے ایک ایسی اشرافی معیشت کی بنیاد رکھی جس نے سماجی مساوات، معاشرتی انصاف اور عوامی شمولیت کے تمام امکانات کو کچل کر رکھ دیا اور پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر دیا۔

ایوب خان کے دور میں معاشی منصوبہ بندی کو پہلی مرتبہ ایک مضبوط ادارہ جاتی شکل دی گئی جس کا بنیادی مقصد نوآبادیاتی ورثے سے چھٹکارا حاصل کر کے پاکستان کو ایک جدید صنعتی ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔ اگرچہ 1955 سے 1960 تک کا پہلا پانچ سالہ منصوبہ سیاسی عدم استحکام، حکومتی عدم تسلسل اور انتظامی کمزوریوں کے باعث اپنے اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا مگر ایوب خان نے اقتدار سنبھالتے ہی منصوبہ بندی کے پورے ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دیا۔ پلاننگ کمیشن کو براہِ راست صدر کے دفتر کے ماتحت کر دیا گیا جس کے نتیجے میں اسے غیر معمولی اختیارات اور فیصلہ سازی کی طاقت حاصل ہو گئی۔ 1960 سے 1965 تک جاری رہنے والا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب منصوبہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے نہ صرف اپنے طے شدہ اہداف حاصل کیے بلکہ کئی شعبوں میں ان سے کہیں آگے نکل گیا۔ اس مرحلے پر ریاست نے معیشت میں براہِ راست کردار ادا کرنے کے بجائے خود کو ایک ’’سہولت کار‘‘ کے طور پر پیش کیا اور صنعتی ترقی کی قیادت نجی شعبے کے سپرد کر دی گئی۔ تاہم اس منصوبہ بندی کی بنیادی خامی یہ تھی کہ ترقی کا واحد پیمانہ مجموعی قومی پیداوار کو بنا لیا گیا جبکہ انسانی ترقی، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے بنیادی شعبے ثانوی بلکہ غیر اہم قرار پائے۔ اس یک رخی ترقی نے ایک ایسی معیشت کو جنم دیا جو بظاہر مضبوط تھی مگر اندر سے کھوکھلی اور غیر متوازن تھی۔

صنعتی ترقی کے میدان میں ایوب خان کے دور کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون درآمدی نعم البدل کی صنعت کاری کا ماڈل تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اشیا جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں انہیں ملک کے اندر ہی تیار کیا جائے تاکہ زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ مگر اس پالیسی کے نفاذ کا طریقہ کار نہایت جانبدارانہ اور طبقاتی مفادات کا اسیر تھا۔ خود محبوب الحق نے پلاننگ کمیشن کے ایک معروف مقالے Pakistan: How Twenty-Two Families Control the Economy میں اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا کہ ریاستی پالیسیاں شعوری طور پر سرمایہ کو چند مخصوص خاندانوں کے ہاتھوں میں منتقل کر رہی تھیں۔ ایکسپورٹ بونس اسکیم جیسے اقدامات نے صنعت کاروں کو زرمبادلہ پر غیر معمولی منافع کمانے کا موقع فراہم کیا، جبکہ ٹیکس ہالیڈیز، سستے سرکاری قرضے اور سبسڈیز نے صنعتی اشرافیہ کو بے مثال مراعات سے نوازا۔ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے عوامی وسائل سے صنعتیں قائم کیں اور جب وہ منافع بخش ہو گئیں تو انہیں مخصوص سرمایہ داروں کے حوالے کر دیا گیا۔ نتیجتاً 1968 تک ملکی صنعت کے تقریباً 66 فیصد اثاثے اور بینکاری و انشورنس کے 80 فیصد سے زائد شعبے صرف بائیس خاندانوں کے کنٹرول میں آ چکے تھے۔ یہ محض دولت کا ارتکاز نہیں تھا بلکہ سیاسی طاقت بھی انہی ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی جس کے باعث عام شہری کے لیے مساوی مواقع کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ گیا۔

اس صنعتی ترقی کی چکاچوند کے پیچھے محنت کش طبقے کا شدید استحصال چھپا ہوا تھا۔ معروف ماہرِ معاشیات کیتھ گرفتھن اپنی کتاب Growth and Inequality in Pakistan میں واضح اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں جہاں صنعتی منافع میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا وہیں مزدوروں کی حقیقی اجرتیں یا تو جمود کا شکار رہیں یا بعض صورتوں میں ان میں کمی واقع ہوئی۔ مارشل لا کے تحت ٹریڈ یونینز کو منظم انداز میں کچلا گیا۔ مزدوروں کو ہڑتال اور اجتماعی سودے بازی کے حق سے محروم کر دیا گیا اور ریاستی بیانیہ یہ بنا دیا گیا کہ کم اجرتیں سرمایہ کاری کو فروغ دیتی ہیں۔ مگر عملی طور پر اس پالیسی نے شہری غربت، کچی آبادیوں کے پھیلاؤ اور مزدور طبقے میں شدید احساسِ محرومی کو جنم دیا جو بعد ازاں ایوب مخالف عوامی تحریک کی ایک مضبوط بنیاد بن گیا۔

زرعی شعبے میں متعارف کرائے گئے سبز انقلاب کو بھی ریاستی پروپیگنڈے کے ذریعے ایک عظیم کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا مگر اس کے سماجی اثرات صنعتی پالیسیوں سے مختلف نہ تھے۔ حمزہ علوی اپنے مشہور مقالے The State in Post-Colonial Societies میں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سبز انقلاب دراصل نیم جاگیردارانہ ڈھانچے کو جدید بنانے کی ایک کوشش تھی جس نے طبقاتی عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا۔ جدید بیج، کھاد، ٹریکٹر اور ٹیوب ویل صرف انہی بڑے زمینداروں کو میسر آئے جن کے پاس مالی وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ موجود تھا۔ چھوٹے کسان اور بے زمین ہاری اس دوڑ سے باہر ہو گئے، جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں زمین اور دولت کا ارتکاز بڑھا اور لاکھوں افراد روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے، جہاں انہیں صنعتی مزدوری کے نام پر مزید استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔

ایوب خان کے معاشی ماڈل کا ایک اور سنگین پہلو علاقائی عدم مساوات تھی، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ مشرقی پاکستان کو بھگتنا پڑا۔ رحمان سبحان اپنی کتاب The Crisis of External Dependence میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی پٹ سن سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ مغربی پاکستان کی صنعت کاری پر خرچ کیا جاتا رہا جبکہ ترقیاتی بجٹ، سرکاری ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم میں مشرقی پاکستان کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ اس معاشی ناانصافی نے دو معیشتوں کے تصور کو جنم دیا اور بنگالی عوام میں احساسِ محرومی کو اس حد تک بڑھا دیا کہ وہ بالآخر علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گیا۔

اس تمام نام نہاد ترقی کی بنیاد داخلی وسائل کے بجائے غیر ملکی بیساکھیوں پر رکھی گئی تھی۔سابق گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر  عشرت حسین اپنی کتاب "Pakistan: The Economy of an Elitist State" میں رقم طراز ہیں کہ ایوب خان کا معاشی معجزہ بڑی حد تک امریکی امداد اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کا مرہونِ منت تھا۔ سرد جنگ کے تناظر میں پاکستان کو ملنے والی اس امداد نے وقتی طور پر تو جی ڈی پی کو سہارا دیا لیکن اس نے معیشت کو ایک ایسے ڈھانچے میں جکڑ دیا جو بیرونی انحصار اور درآمدی ٹیکنالوجی پر قائم تھا۔ 1950 کی دہائی تک پاکستان کا بیرونی قرضہ نہ ہونے کے برابر تھا مگر ایوب دور کے خاتمے تک پاکستان ایک 'قرض کی معیشت' بن چکا تھا۔ عشرت حسین کے مطابق، اس ماڈل نے ایک ایسی اشرافیہ کو جنم دیا جو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے سرکاری سرپرستی اور غیر ملکی امداد کے ٹکڑوں پر پلنے کی عادی ہوگئی جس کی قیمت آج بھی پاکستانی معیشت ادا کر رہی ہے۔

1965 کی پاک بھارت جنگ ایوب خان کے معاشی ماڈل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ جنگ کے نتیجے میں دفاعی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا جس نے ترقیاتی بجٹ کو بری طرح متاثر کیا۔ محبوب الحق کے تجزیے کے مطابق، جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان کی امداد روک دی جس سے معیشت کا وہ غبارہ پھٹ گیا جو بیرونی امداد کے سہارے پھولا ہوا تھا۔ تیسرے پانچ سالہ منصوبے (1965-70) کے اہداف بری طرح متاثر ہوئے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوئیں اور عوام میں بے چینی پھیلی۔ جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک ایسی معیشت جو صرف بیرونی امداد پر کھڑی ہو وہ کسی بھی بڑے بحران کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

ایوب خان کے دور میں اگرچہ صنعتی اور زرعی پیداوار بڑھی، لیکن سماجی ترقی (Social Development) کے اشاریے انتہائی مایوس کن رہے۔ ریاست کا سارا زور مادی ترقی پر تھا، جبکہ انسانی وسائل کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ لارنس زرنگ (Lawrence Ziring) کے مطابق، ایوب خان کے 'ایجوکیشن کمیشن' نے تعلیمی ڈھانچے کو صرف بیوروکریسی اور صنعت کاری کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جس سے تعلیم عام آدمی کی دسترس سے دور ہو گئی۔ صحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال تھی؛ بڑے شہروں میں ہسپتال تو بنے مگر دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات ناپید رہیں۔ اس پالیسی نے معاشرے میں ایک ایسی خلیج پیدا کر دی جہاں ایک طرف جدید تعلیم یافتہ مراعات یافتہ طبقہ تھا اور دوسری طرف جہالت اور بیماریوں میں گھرا ہوا عام آدمی۔

ایوب خان کے معاشی ڈھانچے کے انہدام کا وقت تب آیا جب معاشی تضادات سماجی بے چینی میں تبدیل ہو گئے۔ لارنس زرنگ (Lawrence Ziring) اپنی تاریخی دستاویز "Pakistan in the Twentieth Century" میں لکھتے ہیں کہ 1968 تک ایوب حکومت کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے پاکستان کو "ترقی کی دہائی" (Decade of Development) دی ہے ایک سنگین مذاق بن کر رہ گیا۔ چینی کے بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور طلبہ و مزدوروں کے احتجاج نے ثابت کر دیا کہ اعداد و شمار کی ترقی عام آدمی کے دسترخوان تک نہیں پہنچتی تھی۔ لارنس زرنگ کے مطابق، ایوب خان کا زوال کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ اس معاشی ماڈل کی منطقی ناکامی تھی جس نے عوام کو ترقی کے عمل سے باہر رکھا تھا۔ جب 1968-69 کی عوامی تحریک چلی تو اس کی قیادت وہ لوگ کر رہے تھے جو اس معاشی نظام کے ستم رسیدہ تھے یعنی مشرقی پاکستان کے محروم عوام، پنجاب کے صنعتی مزدور اور سندھ کے بے زمین ہاری۔

اس لیے ایوب خان کا دورِ حکومت معاشی نمو کے لحاظ سے جتنا شاندار نظر آتا ہے سماجی انصاف کے معیار پر وہ اتنا ہی کھوکھلا ثابت ہوا۔ اگر ترقی کے ثمرات چند خاندانوں اور ایک مخصوص جغرافیائی خطے تک محدود ہو جائیں تو وہ ترقی پائیدار نہیں رہتی۔ ایوب خان کے معاشی ماڈل نے پاکستان کو ایک ایسی 'اشرافی ریاست' (Elitist State) بنا دیا جہاں پالیسیاں عوام کے لیے نہیں بلکہ خواص کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ اس دور نے پاکستان کو جی ڈی پی کے بلند اعداد و شمار تو دیے مگر اس کے ساتھ ساتھ طبقاتی کشمکش، علاقائی عصبیت اور بیرونی قرضوں کا ایک ایسا بوجھ بھی دیا جس سے ملک آج تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا۔ حقیقی معاشی ترقی محض فیکٹریوں کی تعداد یا جی ڈی پی کے گراف میں نہیں، بلکہ عام شہری کی قوتِ خرید، مساوی تعلیمی مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں پنہاں ہوتی ہے، جس کا ایوب خان کے معاشی تصور میں مکمل فقدان تھا۔

 بالآخر یہی تضادات 1968-69 کی عوامی تحریک میں تبدیل ہوئے، جسے لارنس زرنگ پاکستان کی تاریخ میں ایوب خان کے معاشی ماڈل کی منطقی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ یہ تحریک اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ محض اعداد و شمار کی ترقی عوام کو مطمئن نہیں کر سکتی۔ ایوب خان کا دور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی ترقی وہی ہوتی ہے جو سماجی انصاف، مساوی مواقع اور عوامی شمولیت پر مبنی ہو، ورنہ معاشی نمو محض ایک فریب ثابت ہوتی ہے جو بالآخر ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home