Sunday, 28 December 2025

گونگا نصاب: بہری نسلیں


نوٹ: یہ آرٹیکل سب سے پہلے28 دسمبر 2023 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

 یہ واقعہ محض ایک تعلیمی تجربہ نہیں بلکہ ہمارے پورے تعلیمی بیانیے پر ایک سخت سوالیہ نشان ہے۔ ساٹھ گریجویشن کے طلبہ پر مشتمل ایک کلاس سے چار سوالات پر مبنی ایک مختصر کوئز لیا گیا۔ یہ وہ طلبہ تھے جو بارہ سال تک ریاستی طور پر منظور شدہ نصاب پڑھ چکے تھے اس قبل بھی  مطالعۂ پاکستان  نہ صرف پاس کر چکے تھے بلکہ  امتحانات میں نمبر لے چکے تھے اور اب ڈگری کے آخری مرحلے پر تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان ساٹھ میں سے صرف ایک طالب علم ایسا تھا جو چار میں سے صرف ایک سوال کا درست جواب دے سکا۔ یہ تجربہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ  یہی کوئز مزید چار کلاسز سے بھی لیا گیا جن میں ہر کلاس کے طلبہ کی تعداد چالیس سے بیالیس کے درمیان تھی مگر ان میں سے کسی ایک طالب علم کے بھی چاروں سوالات درست نہ نکل سکے۔

سوالات کسی تخصصی علم، باریک تاریخی بحث یا پیچیدہ سیاسی تجزیے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ یہ وہ بنیادی معلومات تھیں جو کسی بھی باشعور پاکستانی شہری کو ازبر ہونی چاہئیں۔ سوال یہ تھا کہ

 پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم اور گورنر جنرل کون تھے؟

پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر کا نام کیا تھا؟

 پاکستان کے پہلے وزیر قانون کون تھے؟ اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کون تھے؟

ان سوالات میں نہ تو تاریخ کی کوئی گرہ تھی  نہ کسی اختلافی نکتے کی پیچیدگی۔ ان کا واحد مسئلہ یہ تھا کہ یہ بہت زیادہ آسان تھے اور شاید اسی لیے ہمارے تعلیمی نظام کے لیے شرمندگی کا باعث بن گئے۔

یہ اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ مطالعۂ پاکستان کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کی خواہش رکھنے والوں کو سب سے پہلے مطالعۂ پاکستان کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بارہ سال مسلسل یہی مضمون پڑھنے کے بعد بھی اگر بچے یہ نہ جان سکیں کہ خواجہ ناظم الدین کون تھے، اسکندر مرزا کون تھے، جوگندر ناتھ منڈل اور چوہدری ظفراللہ خان نے اس ریاست کی بنیاد میں کیا کردار ادا کیا تو پھر یہ ناکامی بچوں کی نہیں بلکہ  نصاب کی ہے۔ یہ ناکامی اس بیانیے کی ہے جو تاریخ کو منتخب ٹکڑوں میں توڑ کر، کچھ ناموں کو ابھار کر اور کچھ کو مکمل طور پر مٹا کر پیش کرتا ہے۔

مطالعۂ پاکستان کے نام پر جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ تاریخ نہیں بلکہ ایک خاص ذہن سازی ہے۔ اس میں تاریخ کو چھپایا جاتا ہے، ادھورا بیان کیا جاتا ہے اور بعض اوقات دانستہ طور پر غلط پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے باشعور شہری نہیں بلکہ الجھی ہوئی، کنفیوز اور گمراہ نسلیں پیدا کر رہے ہیں۔ ایسی نسلیں جو نعرے تو یاد رکھتی ہیں مگر حقائق سے ناواقف ہوتی ہیں؛ جو جذبات تو رکھتی ہیں مگر فہم سے محروم ہوتی ہیں۔

مطالعۂ پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ بچوں کے ذہن میں یہ تاثر راسخ کرتا ہے کہ 1857 سے پہلے اس خطے کی کوئی تاریخ موجود ہی نہیں تھی، جیسے برصغیر اچانک ایک دن خلا سے نمودار ہوا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطہ کم از کم پانچ ہزار سال پرانی مسلسل تاریخ رکھتا ہے۔ موئن جو دڑو، ہڑپہ، ویدک عہد، بدھ مت کے ادوار، موریہ، گپتا، ہندو شاہی، دہلی سلطنت، مغل، سکھ اور برطانوی دور — یہ سب ایک تسلسل کا حصہ ہیں جنہیں سمجھے بغیر نہ تو پاکستان کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی خود کو۔

اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مطالعۂ پاکستان کو نصاب سے نکال کر تاریخ کو باقاعدہ مضمون کے طور پر شاملِ نصاب کیا جائے اور وہ بھی چھٹی جماعت سے۔ ایسی تاریخ جو واقعات کو ایک لڑی میں پروئے، جو سبب اور نتیجے کا رشتہ واضح کرے، جو صرف فتوحات اور شکستوں کا ذکر نہ کرے بلکہ سماجی، معاشی اور فکری تبدیلیوں کو بھی بیان کرے۔ بچوں کو یہ بتایا جائے کہ مسلم دورِ حکومت صرف ایک سنہری داستان نہیں تھا بلکہ اس میں عروج کے اسباب بھی تھے اور زوال کی وجوہات بھی جن پر سنجیدہ تجزیہ ناگزیر ہے۔

مسلم حکمرانوں کو محض ہیرو کے طور پر پیش کرنے کے بجائے انہیں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ انہوں نے کہاں عدل کیا، کہاں ظلم ہوا، کہاں رواداری تھی اور کہاں تعصب۔ اس سے بچوں کے دل میں اندھی عقیدت کے بجائے فہم اور تنقیدی شعور پیدا ہوگا۔ تاریخ کا مقصد کردار سازی ہے بت تراشی نہیں۔

اسی طرح قیامِ پاکستان کے بعد کی تاریخ کو بھی صرف چند اسلامی دفعات تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ آئین سازی، سیاسی بحران، فوجی مداخلتیں، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، عدالتی فیصلے، آئینی ترامیم — یہ سب ہماری اجتماعی کہانی کا حصہ ہیں۔ ادھورا سچ، جیسا کہ کہا جاتا ہے، پورے جھوٹ سے بھی زیادہ مہلک ہوتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو یہ گمان دے دیتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے حالانکہ وہ اصل تصویر سے محروم ہوتا ہے۔

یہ کوئز، اس کے نتائج اور ان طلبہ کی خاموشی دراصل ہمارے تعلیمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر ہم واقعی ایک باشعور، ذمہ دار اور تاریخی شعور رکھنے والی قوم بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں نصاب، مضمون اور بیانیے تینوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ورنہ آئندہ بھی گریجویشن کی کلاسوں میں ایسے ہی بچے بیٹھے ہوں گے جو اپنی ہی تاریخ کے بنیادی سوالوں کے سامنے لاجواب ہوں گے اور یہی لاجوابی کل ہماری قومی سمت کا تعین کرے گی۔


0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home