Sunday, 28 December 2025

ایوب خان کے خلاف چلنے والی فقید المثال تحریک

  

تاشقند معاہدے کے بعد پاکستان کی سیاست نے جو رخ اختیار کیا اس نے نہ صرف ایک طاقتور صدارتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں بلکہ ملک کو ایک نئے سیاسی دور میں داخل کر دیا جس کے روحِ رواں ذوالفقار علی بھٹو بنے۔ تاشقند معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی عوامی بے چینی، ایوب خان کے خلاف ملک گیر تحریک اور بھٹو کے سیاسی عروج کا مطالعہ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ اس دور کے حقائق کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان سیاسی و سماجی محرکات کا جائزہ لینا ہوگا جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا تھا۔

تاشقند معاہدے سے واپسی پر ایوب خان کو جس عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اس کی مثال پاکستان کی مختصر تاریخ میں پہلے نہیں ملتی تھی۔ عوام جو جنگ کے دوران حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے تاشقند اعلامیے کو ایک قومی توہین سمجھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب "Pakistan: Political Roots and Development" میں لکھتے ہیں کہ عوام کا غصہ اس لیے بھی زیادہ تھا کیونکہ سرکاری پروپیگنڈے نے انہیں یہ یقین دلا دیا تھا کہ پاکستان جنگ جیت چکا ہے لہٰذا تاشقند میں ہونے والی واپسی انہیں ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ اسی دوران ایوب خان اور ان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان اختلافات کی خلیج واضح ہونے لگی۔ بھٹو جو ایک زیرک سیاست دان تھے بھانپ گئے تھے کہ ایوب خان کا سورج غروب ہو رہا ہے اور عوامی لہر کس سمت میں جا رہی ہے۔

جون 1966 میں ذوالفقار علی بھٹو نے وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دے دیا (یا انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا)۔ ان کی روانگی نے انہیں ایک "مظلوم ہیرو" بنا دیا جس نے مبینہ طور پر تاشقند میں ملک کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بھٹو نے اپنی سیاسی مہم کا آغاز کیا اور نومبر 1967 میں لاہور میں "پاکستان پیپلز پارٹی" کی بنیاد رکھی۔ بھٹو نے "روٹی، کپڑا اور مکان" کا نعرہ لگایا جس نے پاکستان کے غریب طبقے، کسانوں اور مزدوروں کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ کوئی ان کے حقوق کی بات کر رہا ہے۔ حامد خان اپنی کتاب "Constitutional and Political History of Pakistan" میں تجزیہ کرتے ہیں کہ بھٹو نے بڑی مہارت سے سوشلزم کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر "اسلامی سوشلزم" کا تصور پیش کیا جس نے نوجوانوں اور دانشوروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کا باقاعدہ آغاز نومبر 1968 میں ہوا جب راولپنڈی میں طلبہ کے ایک احتجاج پر پولیس کی فائرنگ سے ایک طالب علم جاں بحق ہو گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں بارود کے ڈھیر کو چنگاری دکھا دی۔ طلبہ، مزدور اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ اس تحریک کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایوب خان، جنہوں نے چند ماہ قبل اپنی حکومت کی "ترقی کی دہائی" (Decade of Development) کا جشن منایا تھا اب اپنے ہی عوام سے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔ الطاف گوہر اپنی تصنیف "Ayub Khan: Pakistan's First Military Ruler" میں اعتراف کرتے ہیں کہ ایوب خان اس تحریک کی وسعت اور شدت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔

مغربی پاکستان میں جہاں بھٹو نے تحریک کو جلا بخشی، وہیں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کے "چھ نکات" نے ایوب حکومت کے لیے ناممکن حالات پیدا کر دیے۔ اگرچہ ایوب خان نے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے لیے "راؤنڈ ٹیبل کانفرنس" (RTC) بلائی لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بھٹو اور مجیب الرحمن کے مطالبات اتنے سخت تھے کہ ایوب خان کے پاس ان کی منظوری کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اسٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب "Zulfi Bhutto of Pakistan" میں لکھتے ہیں کہ بھٹو نے اس وقت کسی بھی ایسے سمجھوتے سے انکار کر دیا تھا جو ایوب خان کو اقتدار میں رہنے کا موقع فراہم کرے۔

ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں سب سے بنیادی اور مرکزی مطالبہ خود فیلڈ مارشل ایوب خان کا اقتدار سے فوری استعفیٰ تھا۔ مخالف سیاسی جماعتوں کا موقف تھا کہ 1958 میں نافذ کیا گیا مارشل لا نہ صرف غیر آئینی تھا بلکہ اس نے ریاست کے جمہوری ارتقا کو برسوں پیچھے دھکیل دیا۔ ان کے نزدیک ایوب خان کا اقتدار عوامی رضامندی کے بغیر قائم تھا اس لیے اس کا اخلاقی اور آئینی جواز ختم ہو چکا تھا اور ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ ان کی رخصتی تھی۔

تحریک کے دوسرے اہم مطالبے کا تعلق فوجی مداخلت کے مکمل خاتمے سے تھا۔ سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ فوج کا سیاست میں کردار پاکستان کی ریاستی ساخت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ مستقبل میں کسی بھی صورت میں فوج کو اقتدار پر قبضے یا سیاسی فیصلوں میں مداخلت کا حق نہ دیا جائے اور سویلین بالادستی کو غیر مبہم طور پر بحال کیا جائے۔

مخالف قوتوں نے 1962 کے آئین کو بھی یکسر مسترد کیا۔ ان کے مطابق یہ آئین دراصل آمریت کو آئینی جواز فراہم کرنے کی ایک کوشش تھا جس میں صدر کو بے پناہ اختیارات دیے گئے اور پارلیمان کو محض نمائشی ادارہ بنا دیا گیا۔ بنیادی حقوق کو محدود کر کے شہری آزادیوں کو سلب کیا گیا اسی لیے مطالبہ کیا گیا کہ اس آئین کو منسوخ کر کے ایک نیا عوامی اور جمہوری آئین تشکیل دیا جائے۔

سیاسی جماعتوں کا ایک متفقہ مطالبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات کا انعقاد تھا۔ بنیادی جمہوریتوں کے نظام کو وسیع پیمانے پر عوامی رائے کے ساتھ دھوکہ تصور کیا گیا کیونکہ اس کے ذریعے اقتدار چند ہزار افراد تک محدود ہو جاتا تھا۔ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر براہ راست قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہی حقیقی نمائندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں پارلیمانی جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا۔ مخالف جماعتوں کے نزدیک صدارتی نظام نے اقتدار کو ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز کر دیا تھا جس سے آمریت کو تقویت ملی۔ وہ ایک ایسے پارلیمانی نظام کے خواہاں تھے جس میں وزیراعظم عوامی نمائندوں کے سامنے جواب دہ ہو اور صدر کا کردار محض علامتی نوعیت کا ہو۔

مغربی پاکستان میں ون یونٹ کے خلاف شدید ردعمل تحریک کا اہم حصہ تھا۔ چھوٹے صوبوں کی سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ون یونٹ کے ذریعے پنجاب کی عددی اور انتظامی بالادستی کو مسلط کیا گیا جس سے صوبائی شناختیں اور خودمختاری مجروح ہوئیں۔ اس لیے ون یونٹ کے خاتمے اور صوبوں کی اصل حیثیت کی بحالی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

مشرقی پاکستان کی جماعتوں بالخصوص عوامی لیگ کے مطالبات میں صوبائی خودمختاری مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ مرکز نے مالی، انتظامی اور معاشی اختیارات اپنے ہاتھ میں سمیٹ کر مشرقی پاکستان کو عملاً ایک نوآبادی بنا دیا ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، زرِ مبادلہ پر مغربی پاکستان کی اجارہ داری اور فوج و بیوروکریسی میں بنگالیوں کی کم نمائندگی کو شدید ناانصافی قرار دیا گیا جس کے تدارک کا مطالبہ زور پکڑتا چلا گیا۔

معاشی میدان میں بھی ایوب خان کے خلاف شدید ناراضی پائی جاتی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے ترقی کے سرکاری بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاشی نمو کا فائدہ صرف چند مخصوص خاندانوں تک محدود رہا ہے۔ دولت کے ارتکاز، مزدوروں کے استحصال اور زرعی اصلاحات کی عدم موجودگی کے خلاف آواز بلند کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ معیشت کو عوامی فلاح کے اصولوں پر استوار کیا جائے۔

طلبہ تحریک نے اس احتجاجی لہر کو مزید وسعت دی۔ طلبہ تنظیموں نے تعلیمی فیسوں میں اضافے، تعلیمی اداروں میں ریاستی جبر اور طلبہ یونینز پر پابندیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تعلیم کو کنٹرول اور اطاعت کا ذریعہ بنانے کے بجائے تنقیدی شعور اور جمہوری اقدار کے فروغ کا وسیلہ بنایا جائے۔

اظہارِ رائے اور صحافت کی آزادی بھی تحریک کا اہم مطالبہ تھا۔ سیاسی جماعتوں اور صحافتی حلقوں نے پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کو جبر کی علامت قرار دیا اور اخبارات پر عائد سنسرشپ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ان کے نزدیک آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سیاسی مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ بھی مسلسل دہرایا جاتا رہا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے اور ریاستی طاقت کو سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کے اصولوں کے منافی ہے۔

عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ عدالتوں پر صدارتی دباؤ، ججوں کی برطرفیاں اور آئینی ضمانتوں کی کمزوری کو قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ سمجھا گیا۔ اس لیے عدلیہ کو آزاد اور خودمختار بنانے کا مطالبہ تحریک کے ایجنڈے میں شامل رہا۔

خارجہ پالیسی کے میدان میں ایوب حکومت کی امریکہ نواز سمت پر بھی تنقید کی گئی۔ مخالف جماعتوں کا خیال تھا کہ SEATO اور CENTO جیسے فوجی اتحادوں نے پاکستان کو عالمی طاقتوں کے مفادات کا مہرہ بنا دیا ہے اس لیے ایک خودمختار اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔

1965 کی جنگ کے بعد طے پانے والے تاشقند معاہدے پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ جنگی فیصلوں اور معاہدے کے پس پردہ حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے کیونکہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر قومی فیصلے کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

مجموعی طور پر یہ مطالبات اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ ایوب خان کے خلاف تحریک محض اقتدار کی تبدیلی کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان میں جمہوری، وفاقی اور عوام دوست ریاست کے قیام کی ایک ہمہ گیر کوشش تھی، جس نے بالآخر فوجی آمریت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

اس تحریک کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے پہلی بار پاکستان میں بیوروکریسی اور فوجی آمریت کے گٹھ جوڑ کو چیلنج کیا۔ عوام نے محسوس کیا کہ "بنیادی جمہوریت" کا نظام دراصل ان کے سیاسی حقوق کو دبانے کا ایک حربہ تھا۔ ایوب خان کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں دولت چند خاندانوں (بائیس خاندانوں) میں سمٹ گئی تھی، جس نے معاشی ناہمواری کو جنم دیا۔ بھٹو نے اس معاشی محرومی کو اپنی تقریروں کا موضوع بنایا اور عوام کو یہ باور کرایا کہ ان کی غربت کی اصل وجہ ایوب خان کا سرمایہ دارانہ نظام ہے۔

بالآخر 25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے عوامی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور استعفیٰ دے دیا۔ تاہم انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے 1962 کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر کے بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جس کے نتیجے میں ملک میں دوسرا مارشل لا نافذ ہو گیا۔ ایوب خان کی رخصتی اگرچہ ایک آمر کا خاتمہ تھا لیکن اس تحریک نے ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما کے طور پر ابھارا۔

نتیجہ کے طور پر تاشقند کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک محض ایک احتجاج نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تھی۔ بھٹو کا سیاسی عروج اس بات کی علامت تھا کہ اب پاکستان کی سیاست ڈرائنگ رومز اور بیوروکریسی کے دفاتر سے نکل کر گلیوں اور چوراہوں تک پہنچ چکی ہے۔ ایوب خان کی دس سالہ مستحکم حکومت کا اس طرح گرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ معاشی ترقی چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اگر وہ سیاسی آزادی اور سماجی انصاف سے عاری ہو تو وہ عوامی غیظ و غضب کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home