آپریشن سرچ لائٹ: منصوبہ بندی، نفرت، قتلِ عام، اعترافات اور تاریخ کی سب سے بڑی اخلاقی شکست
1970ء کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی
تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تھے مگر اس مضمون میں ان کا ذکر محض اس حد تک ضروری ہے
کہ وہ اس ذہنی فریم کو واضح کریں جس کے اندر آپریشن سرچ لائٹ نے جنم لیا۔ عوامی
لیگ کو ملنے والی واضح اکثریت کو مشرقی پاکستان کے عوام کی جمہوری خواہش کے طور پر
قبول کرنے کے بجائے مغربی پاکستان کی فوجی و بیوروکریٹک اشرافیہ نے اسے ریاستی
وحدت کے لیے خطرہ سمجھا۔ جنرل یحییٰ خان، ان کے قریبی فوجی رفقا اور اعلیٰ سول
افسران کے درمیان ہونے والی میٹنگز اور اندرونی دستاویزات، جن کا حوالہ بعد ازاں
رچرڈ سِسن، لیو روز اور گیری باس جیسے مؤرخین دیتے ہیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں
کہ مارچ 1971ء سے پہلے ہی طاقت کے استعمال کا فیصلہ ذہنی طور پر ہو چکا تھا۔ یہی
ذہنیت آگے چل کر آپریشن سرچ لائٹ کی بنیاد بنی۔
آپریشن
سرچ لائٹ کوئی اچانک یا وقتی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک مکمل فوجی منصوبہ تھا جسے
باقاعدہ کمانڈ اسٹرکچر کے تحت تیار کیا گیا۔ اس کی سیاسی و عسکری منظوری صدر جنرل
یحییٰ خان نے دی جبکہ منصوبہ بندی میں جنرل عبدالحامد خان (چیف آف جنرل اسٹاف)،
لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان (گورنر مشرقی پاکستان)، میجر جنرل غلام عمر (سیکرٹری
نیشنل سیکیورٹی کونسل) اور میجر جنرل راؤ فرمان علی جیسے افسران شامل تھے۔ رچرڈ سِسن
اور لیو روز اپنی کتاب War and Secession میں لکھتے ہیں کہ سرچ لائٹ کا بنیادی
مقصد عوامی لیگ کی سیاسی قوت کو ختم کرنا نہیں بلکہ بنگالی معاشرے کی فکری، ثقافتی
اور سماجی ریڑھ کی ہڈی توڑنا تھا تاکہ مستقبل میں کسی مزاحمت کا امکان باقی نہ
رہے۔
25
مارچ 1971ء کی رات ڈھاکہ میں شروع
ہونے والی کارروائی اس منصوبے کا عملی اظہار تھی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہاسٹلز خاص
طور پر جگن ناتھ ہال اور اقبال ہال، کو ٹینکوں اور مشین گنوں سے نشانہ بنایا گیا۔
اساتذہ، طلبہ اور غیر مسلح شہریوں کو ان کے کمروں سے نکال کر قتل کیا گیا۔
اینتھونی ماسکارین ہاس اپنی کتاب The Rape of Bangladesh میں لکھتے ہیں کہ فوج کے لیے یونیورسٹی
ایک عسکری ہدف نہیں بلکہ علامتی دشمن تھی کیونکہ یہی ادارہ بنگالی قوم پرستی اور
سیاسی شعور کا مرکز تھا۔ امریکی قونصل ہاورڈ شافر نے اپنی کتاب The Limits of
Influence میں امریکی سفارتی کیبلز کے حوالے سے
ان واقعات کو واضح طور پر "genocidal actions" قرار دیا۔
اس
آپریشن کو زمینی سطح پر نافذ کرنے والے افسران میں میجر جنرل خادم حسین راجہ، میجر
جنرل راؤ فرمان علی اور بعد ازاں لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی شامل تھے۔ راؤ
فرمان علی کی ذاتی ڈائری، جس کے کئی صفحات بعد میں منظر عام پر آئے جو اس بات کا
ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ فوجی قیادت نے شہری آبادی، اساتذہ، صحافیوں اور ثقافتی
کارکنوں کو براہِ راست دشمن سمجھا(اگرچہ راؤ فرمان علی نے بعد میں اپنی کتاب
میں ان ناموں کے مقصد کی تردید کی)۔ خادم حسین راجہ اپنی کتاب A Stranger in
My Own Country میں اعتراف
کرتے ہیں کہ فوجی بریفنگز میں بنگالی عوام کو سیاسی فریق نہیں بلکہ باغی قوم کے
طور پر پیش کیا جاتا تھا جس سے تشدد کو اخلاقی جواز ملتا تھا۔
آپریشن
سرچ لائٹ کے دوران مرنے والوں کی تعداد پر آج تک شدید اختلاف پایا جاتا ہے مگر اس
اختلاف کے باوجود قتلِ عام کی حقیقت ناقابلِ تردید ہے۔ بنگلہ دیشی ریاستی مؤقف کے
مطابق 1971ء کے دوران تیس لاکھ افراد مارے گئے۔ پاکستانی سرکاری بیانیے نے ہمیشہ
اس عدد کو مسترد کیا اور حمود الرحمن کمیشن میں تقریباً 26 ہزار ہلاکتوں کا ذکر
کیا۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ نے اگرچہ کوئی حتمی عدد بیان نہیں کیا مگر
رپورٹ میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں، غیر مسلح افراد کے قتل اور فوجی نظم و ضبط
کے شدید انہدام کا اعتراف موجود ہے۔ گیری
باس اپنی سفارت خانے کی رپورٹس ،جو بعد میں The Blood Telegram کے نام سے چھپی
، اور اسٹینلے وولپرٹ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کم از کم چند لاکھ تھی اور
عددی اختلاف اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا کہ یہ ایک منظم قتلِ عام تھا۔
فوج
کے اندر بنگالیوں کے بارے میں نفرت انگیز سوچ اس تشدد کا بنیادی محرک تھی۔ جنرل
نیازی اپنی کتاب The Betrayal of East Pakistan میں بنگالیوں کو "cowardly" اور
"Hindu-influenced" قرار
دیتے ہیں، جبکہ صدیق سالک Witness to Surrender میں لکھتے ہیں کہ فوجی حلقوں میں
بنگالیوں کو ایک کمتر اور ناقابلِ اعتماد نسل سمجھا جاتا تھا۔ یہ زبان محض الفاظ
نہیں بلکہ وہ فکری سانچہ تھا جس نے قتل، لوٹ مار اور ریپ کو ممکن اور جائز بنا
دیا۔
آپریشن
سرچ لائٹ کا سب سے ہولناک پہلو عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی تھی۔ سوزن براؤن ملر
اپنی کتاب Against Our Will میں
لکھتی ہیں کہ بنگلہ دیش میں ریپ کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اینتھونی
ماسکارین ہاس، اقوام متحدہ کی رپورٹس، اور بعد از جنگ میڈیکل اسٹڈیز اس بات کی
تصدیق کرتی ہیں کہ لاکھوں عورتیں اس تشدد کا شکار ہوئیں۔ یہ واقعات کسی انفرادی
بدعملی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے فوجی ماحول کا شاخسانہ تھے جہاں نسلی نفرت اور
سزا دینے کا تصور غالب تھا۔
بعد
از جنگ پاکستانی فوجی افسران کی لکھی گئی کتابیں سرکاری بیانیے سے کہیں زیادہ تلخ
سچائی بیان کرتی ہیں۔ خادم حسین راجہ، صدیق سالک اور حتیٰ کہ جنرل نیازی نے بھی یہ
تسلیم کیا کہ سیاسی مسئلے کو فوجی طاقت سے حل کرنے کی کوشش ایک بنیادی غلطی تھی۔
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ نے اخلاقی انحطاط، قتلِ عام اور فوجی قیادت کی ناکامیوں
کی نشاندہی کی مگر یہ افسران کی ذاتی تحریریں ہیں جو اس سانحے کی مکمل تصویر پیش
کرتی ہیں۔
آپریشن
سرچ لائٹ محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ریاستی ذہنیت، نسلی تعصب اور طاقت کے جنون
کا مظہر تھا۔ مگر اس تصویر کو مکمل کرنے کے لیے انفرادی ذمہ داری، جنسی تشدد کی
منظم حکمتِ عملی، اور ہلاکتوں کے اعداد کی سیاست کو الگ الگ واضح کرنا ناگزیر ہے۔
جنرل
یحییٰ خان اس پورے سانحے کے مرکزی سیاسی و عسکری ذمہ دار تھے۔ بطور صدر اور چیف
مارشل لا ایڈمنسٹریٹر وہ نہ صرف حتمی اختیار کے مالک تھے بلکہ تمام عسکری فیصلوں
کی منظوری انہی کے دستخط سے ہوتی تھی۔ گیری باس اپنی کتاب The Blood
Telegram میں امریکی سفارتی کیبلز کے حوالے سے
لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان کو مارچ 1971ء میں ہونے والی کارروائیوں کی نوعیت کا مکمل
علم تھا اس کے باوجود انہوں نے نہ آپریشن روکا اور نہ ذمہ داروں کا احتساب کیا۔ یہ
خاموشی خود ایک فیصلہ تھی۔
لیفٹیننٹ
جنرل ٹکا خان جنہیں بنگالی عوام نے بعد ازاں "قصابِ بنگال" کا لقب دیا
آپریشن سرچ لائٹ کے نفاذ میں سب سے نمایاں کردار تھے۔ وہ فوجی طاقت کے ذریعے سیاسی
مسئلہ حل کرنے کے شدید حامی تھے۔ خادم حسین راجہ لکھتے ہیں کہ ٹکا خان کی بریفنگز
میں بنگالی عوام کو باغی اور غدار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جس سے ماتحت افسران
میں بے رحمی کو تقویت ملتی تھی۔
میجر
جنرل راؤ فرمان علی کی ڈائری اس سانحے کی سب سے خوفناک دستاویز ہے۔ ان کے اپنے
الفاظ میں ڈھاکہ کے دانشوروں، اساتذہ اور ثقافتی شخصیات کو ختم کرنے کا منصوبہ واضح
طور پر نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے اختتام پر بنگلہ دیشی حکومت نے انہیں
جنگی جرائم کے فہرست میں شامل کیا۔
لیفٹیننٹ
جنرل اے اے کے نیازی جو بعد میں ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ بنے، اپنی کتاب The Betrayal
of East Pakistan میں کئی
مقامات پر بنگالیوں کے لیے تحقیر آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنی شکست
کا الزام سیاست دانوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان کی تحریر فوجی ذہنیت کی
عکاسی کرتی ہے جو انسانی جان کو عدد سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی تھی۔
آپریشن
سرچ لائٹ کے دوران عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کسی انفرادی یا حادثاتی عمل کا نتیجہ
نہیں تھا بلکہ ایک منظم جنگی حکمتِ عملی تھی۔ سوزن براؤن ملر، اینتھونی ماسکارین
ہاس اور اقوام متحدہ کی رپورٹس اس بات پر متفق ہیں کہ ریپ کو بنگالی معاشرے کو
توڑنے، خوف پھیلانے اور نسلی سزا دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ بنگلہ دیشی
ذرائع اور بعض سماجی محققین کے مطابق دو سے چار لاکھ عورتیں اس تشدد کا شکار
ہوئیں، جن میں سے بڑی تعداد بعد از جنگ سماجی تنہائی اور نفسیاتی صدمات کا شکار
رہی۔
ہلاکتوں
کے اعداد و شمار پر بحث دراصل تاریخ سے زیادہ سیاست کا مسئلہ ہے۔ بنگلہ دیشی
مؤرخین تیس لاکھ کے عدد کو قومی یادداشت کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ پاکستانی ریاستی
بیانیہ کسی حتمی عدد سے گریز کرتا ہے۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ نے اگرچہ کوئی عدد
نہیں دیا، مگر رپورٹ میں "وسیع پیمانے پر شہری قتل" کی اصطلاح کا
استعمال خود ایک اعتراف ہے۔ مغربی مؤرخین کے مطابق یہ تعداد تین سے پندرہ لاکھ
کے درمیان مختلف بیان کی جاتی ہے۔ عدد جو بھی ہو، یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ
یہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک منظم قتلِ عام تھا۔
ان
تینوں پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپریشن سرچ لائٹ کسی ایک
لمحے کی غلطی نہیں بلکہ ایک مکمل ریاستی ناکامی تھی۔ یہ مضمون اس لیے لکھا گیا ہے
کہ تاریخ کو دفاعی بیانیے کے بجائے شہادت کی بنیاد پر دیکھا جائے تاکہ آئندہ نسلیں
جان سکیں کہ طاقت کے ذریعے سیاست کرنے کا انجام ہمیشہ انسانی المیے پر ختم ہوتا
ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home