Thursday, 8 January 2026

گاندھی جی کے نام خط

نوٹ : یہ آرٹیکل سب سے پہلے 14 مارچ 2021 کو فیس بک پیج پہ شئیر کیا گیا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔


از لاہور پاکستان

08جنوری 2020


ڈئیر گاندھی جی !

میں اس امید سے آپ کو خط لکھ رہا ہوں کہ آپ خیرت سے ہوں گے۔ اور یقینا اسی امن اور راحت میں آرام پذیر ہوں گے جس کے لیے آپ نے ہمیشہ سے خود کو آسائشوں سے دور تکلیف دہ زندگی کے سپرد کیے رکھا۔ یقینا آپ ایک بے لوث انسان تھے آپ نے ہمیشہ مذہب سے بالا تر ہو کر انسانیت کی سطح پہ جا کر سوچا۔آپ کی خدمات آپ کی قوم کے لیے انمول ہیں میں جب بھی آپ کی ان کاوشوں کے بارے پڑھتا ہوں جو آپ نے اپنی قوم کے لیے کی میں حیران کن مسرت محسوس کرتا ہوں۔اور یقینا یہ ہر اس شخص کا حال ہے جو تعصب سے بالاتر ہو کر سوچنے کی کوشش کرتا ہے ۔

میرا نام ابو بکر صدیق ہے اور میں 2020میں آپ کے متروکہ پاکستان میں رہائش پذیر ہوں۔ تقسیم کو اب 72 برس بیت چکے ہیں۔ میں آپ کو انتہائی بوجھل دل سے بتانا چاہوں گا کہ برصغیر کے لوگوں کا اب تک کا سفر انتہائی مایوس کن ہے ۔ بارڈر کی لیکر کے دونوں جانب لوگوں کو بھوک افلاس کا ناگ ڈسے جا رہا ہے ، غربت کی لیکیر سے نیچے کا گراف تو تب کھینچا جائے اگر کوئی اس اس سے اوپر بھی ہو۔ہر کسی کو یکساں آگے بڑھنے کے لیے مواقع شدید قلت کا شکار ہیں ۔

میری ریاست کے آپ کی ریاست کے ساتھ تعلقات کی نوعیت انتہائی کشیدہ ہیں ۔ تقسیم کے بعد سے اب تک یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے مخالف ہی چلے آئے ہیں۔کسی نے ان کو پتہ نہیں کیا سبق پڑھا دیا ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ اپنی توانائی معیار زندگی بلند کرنے کے لیے صرف کرتے دونوں ہمسایہ ممالک سالانہ ایک کثیر رقم خود کو ایسے مہلک ہتھیاروں سے لیس کرنے میں خرچ کر رہے ہیں جس سے پوری دنیا کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔

میرا ملک زیادہ تر بری معاشی حالت کی بنا پر دنیا میں ہدف مذاق بنا رہتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں ابھی تک جاگیر دارانہ نظام اور سول اداروں کی کمزوری ، اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت مجھے انگریز کی باقیات کی یادہانی کرواتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک ، اقلیتوں کی نامناسب دیکھ بھال ، غربت ، صحت کے مسائل ، بے روزگاری اور مذہبی متشدد رویوں جیسے مسائل بھی اس کی پیشانی کو بدنما کرتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے ہم اپنی سمت کو درست کر سکتے ہیں کہ جہاں سست ہی سہی لیکن منزل تک رسائی ممکن ہے ۔

آپ کے ملک نے معاشی میدان میں بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا شمار دنیا کی تیز ترین معاشی ترقی کرتی ہوئی اقوام میں ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہت آگے نکل گیا ہے جو کہ قابل رشک ہے ۔ ملک میں انفراسٹکچر پھیلا ہوا جال معاشی ترقی کو سہارا دیتا ہے ۔ سب سے زہادہ خوش آئند امر یہ ہے کہ آپ کے ملک میں تقسیم سے لیکر اب تک ایک متحرک جمہوری عمل موجود ہے ۔

آپ کو بتا کر میں ہرگز خوشی محسوس نہیں کروں گا کہ گزشتہ ایک دو دہائیاں آپ کے دیس میں پولیٹکل سوشلائزیشن کے عمل میں عجیب رویوں کا مشاہدہ کرنے کو مل رہا ہے ۔ آپ کو یقینا سن کر بہت دھچکا لگے گا کہ1992میں بابری مسجد کو منہدم کرنے کے بعد اس کی جاگہ رام مندر کی تعمیر کرنے کا اعلان کرنے والی دائیں بازوں کے ہندو نیشنلسٹ اس وقت برسر اقتدار ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ قائم کر رکھا ہے ۔ مذہبی اعتبار سے یہ لوگ انتہا پسند اور متشدد ہیں۔یہ آپ کو دیش بھگت گرادننے میں ہچکچاتے ہیں ۔ حالیہ انتخابات میں پراگیہ ٹھاکر نے لوگوں سے یہ کہہ کر ووٹ مانگے کہ نتھو رام ، آپ کا قاتل ، تو دیش بھگت تھا ہی پر ہاں گاندھی جی بھی دیش بھگت تھے۔ یعنی آپ کے نیشنلسٹ ہونے پہ شک ہے ۔ ان کا خیال ہے آپ اینٹی نیشنلسٹ تھے جبکہ آپ کا قاتل نتھورام گوڈاسے ایک محب وطن اور ہیرو تھا۔ گزرنے والا سال آپ کا 150واے جنم دن کا سال تھا کسی بد بخت نے آپ کی مقدس راکھ ناصرف چرا لی بلکہ آپ کی تصویر پہ اینٹی نیشنلسٹ لکھ کر اسے مسخ بھی کر دیا۔

انہوں نے اپنی قوم سے بھی وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انڈیا کو ایک "ہندو دیس" بنا کر دم لیں گے۔یہ وہ غلطی ہے جو ہم نے مسٹر جناح کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کی تھی ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔ اس سے انڈیا میں معاشرہ تقسیم در تقسیم کے عمل کا شکار ہے ۔یہ خوف کے بیوپاری ہیں ان کے پاس امید کا کوئی پیغام نہیں ہے ۔ پورانے زخموں کو کرید کر مذہبی تقسیم کی خلیج کو مذید گہرا کیا جا رہا ہے لوگ خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ حذب اختلاف جو کہ جمہوری عمل پہ ایک چیک اینڈ بیلنس کی صورت ہے اسے دشمن اور پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے ۔

آپ کی جماعت کانگریس اس وقت اقربہ پروری اور کرپشن کی لمبی داستانوں کے ساتھ گوشہ نشینی اختیار کر چکی ہے ۔ ہندو نیشنلسٹ اس لوک سبھا کی 545میں سے 356 نشستوں پہ بر اجمان ہیں جن میں سے ایک بھی مسلمان نہیں ہے ۔ ہندوستان کی واحد مسلمان ریاست جموں اینڈ کشمیر چار ماہ سے بدترین کریک ڈاون کا شکار ہے لوگ دنیا سے کٹے ہوئے ہیں جو بھی لوکل زرائع سے خبریں آ رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ وہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ 80لاکھ کشمیری انتہا پسندوں کی تلواروں کی نوک پہ ہیں ۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ انہوں نے شہریت کا قانون بھی تعصب کی نظر کر دیا ہے جس سے مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے ۔

سیکولر اور محفوظ دیش جس کا وعدہ آپ نے کیا تھا ڈوب رہا ہے۔ آپ کے دوست جناح درست ثابت ہوتے جا رہے ہیں میں بھی ان کی دانش کا قائل ہوگیا ہوں اور خوش ہوں کہ میرے آباو اجداد آپ کے دیکھائے ہوئے سیراب کی نظر نہیں ہوئے ۔اور جناح کے پاکستان میں ہی رکے رہے۔

وہ بھارت جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا مر رہا ہے۔

اب آپ کو اگر سکون آ سکتا ہے تو آپ سکون کریے آپ کا کافی سما لے لیا۔

نہرو جی کو میرا سلام دیجیے گا اور ابوالکلام آزاد بھی آپ کے آس پاس ہی ہوں گے انہیں بھی میرا خط لازمی پڑھایے گامیں نے انہیں الگ سے بھی خط لکھا ہے شاید ایک دو روز کی تاخیر سے انہیں مل جائے۔

آپ کے لیے نیک تمناوں کا طلب گار

ابوبکر صدیق

ایم فل پولیٹیکل سائنس، ایل ایل بی۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور پاکستان

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home