ہزارہ برادری کی نسل کُشی اور نیوزی لینڈ ماڈل
نوٹ : یہ آرٹیکل سب سے پہلے 8 جنوری 2021 کو فیس بک پیج پہ شئیر کیا گیا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔
نیوزی لینڈ براعظم آسٹریلیا کا ایک خوبصورت ملک ہے، جس کی پاکستان میں واحد شناخت نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ہے۔ مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کی ایک اور شناخت ہمارے سامنے تب آئی جب ایک آسٹریلوی شخص نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد کو تب نشانہ بنایا جب لوگ نماز کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔ قاتل نے اپنی واردات کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پہ براہِ راست نشر بھی کیا۔ بربریت کی اس واردات میں 51 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہمارے لیے یہ ایک روٹین کا واقعہ تھا کیونکہ پچھلی دو دہائیوں میں ایسے کئی واقعات سے ہم گزر چکے ہیں۔ ہم نے کبھی ان واقعات کو اتنی اہمیت نہیں دی اسی لیے ایسے واقعات رک بھی نہ سکے۔ لیکن نیوزی لینڈ کے لیے یہ قیامتِ صغریٰ ثابت ہوا۔ مرنے والے اگرچہ سبھی مسلمان تھے لیکن مرنے والوں کا دکھ نیوزی لینڈ کے گھر گھر میں محسوس کیا گیا۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈن واقعے کی اطلاع ملتے ہی متاثرہ مسجد پہنچیں۔ انہوں نے لواحقین سے باری باری گلے لگ کر تعزیت کی۔ جمعہ کی نماز میں شرکت کی اور اپنے مختصر خطبے میں نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ پڑھی۔ سانحہ کرائسٹ چرچ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے نیوزی لینڈ کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر پہلی مرتبہ براہِ راست اذان اور خطبہ نشر کیا گیا اور اس موقع پر وزیراعظم جسینڈا آرڈن سمیت ہر کوئی آبدیدہ نظر آیا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز اذان اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا۔ مسلمانوں کی جمعہ کی نماز میں ایک سے زائد بار شرکت کی۔ اسلحہ کے قوانین میں فوری تبدیلی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم اس واقعے کے ذریعے شہرت کا خواہاں ہے، لیکن وہ اسے اس مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی اس لیے وہ اس کا نام کبھی اپنی زبان پہ نہیں لائیں گی۔ اس طرح ملزم سے نفرت کا اظہار قومی سطح پہ کیا۔ اور نہ صرف انصاف کی یقین دہانی کروائی بلکہ ملزم کا ٹرائل جلد مکمل کر کے سزا بھی دلوائی۔ اِس بہادر خاتون نے دنیا بھر کو یہ درس دیا کہ خون کو خون سے نہیں دھویا جا سکتا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے انسانوں کو انسان سمجھنا ہوگا۔ زخموں پر مرہم لگانا ہوگا۔ نسل، رنگ اور مذہب کی تمیز ختم کرنا ہوگی۔ آج نیوزی لینڈ ہی نہیں پورا یورپ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ و مامون سمجھ رہا ہے۔ اس سارے واقعے میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈن ایک ریاستی سطح پہ ماں کے طور پہ سامنے آئیں ۔
اب پاکستان کی طرف آئیے ۔ ہزارہ کی شیعہ برادری کو عرصہ دراز سے ان کی مسلکی شناخت کے باعث نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب تک 115 سے زائد حملوں میں ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ کچھ دن پہلے کان کنوں پہ ہونے والے حملے میں 11 افراد شہید ہوئے جن کی تدفین تاحال نہیں ہو سکی کیونکہ لواحقین لاشیں سڑک پہ رکھ کر کوئٹہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں کہ وزیر اعظم بذاتِ خود تشریف لا کر انصاف کی یقین دہانی کروائیں۔ لواحقین کی سادگی کی اس سے بڑھ کر اور مثال کیا ہو سکتی ہے کہ وہ یہ جانتے بھی ہیں کہ وزیر اعظم یقین دہانی کے باوجود کسی کے لیے انصاف میں کبھی بھی معاون ثابت نہیں ہوئے، چاہے وہ ساہیوال کا واقعہ ہو جس میں چھوٹے بچوں کے سامنے ان کے والدین کو ریاستی اہلکاروں نے قتل کر دیا ہو یا درجنوں کم سن بچوں کو ریپ کے بعد قتل کرنے کے واقعات ہوں۔ پھر بھی اسی وزیر اعظم صاحب سے ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انصاف دلوائیں۔
وزیر اعظم صاحب کی اس اندوہناک واقعے کو لے کر سنجیدگی کا عالم ملاحظہ کریں کہ انہوں نے شیخ رشید صاحب کے ہاتھ پیغام بھجوا دیا کہ اپنے پیاروں کی لاشوں کو دفنا دیں وہ فرصت ملنے پہ خود بھی تشریف لائیں گے۔ شیخ رشید صاحب کو کس حد تک سنجیدہ لیا جاتا ہے یہ وضاحت کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ اسلام آباد کے سرد موسم میں اربابِ اختیار بھی انتہائی سرد مزاج واقع ہوئے۔ مقتولین کے ورثا کو ریاستی تسلی نہ مل سکی جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔ سوشل میڈیا پہ عوام ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے لیکن یہ ایسے واقعات کا کوئی معقول حل نہیں ہے۔
نیوزی لینڈ کی طرز پہ وزیر اعظم صاحب کو اسلام آباد میں سینیٹ کے انتخابات کے بندوبست، اور بیرون ملک سے آئے ڈرامہ آرٹسٹ سے ملنے کی بجائے کوئٹہ میں نظر آنا چاہیے تھا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی ٹیمیں تشکیل دی جاتیں۔ ملزمان کو گرفتار کر کے جب تک سمری ٹرائل میں انہیں مثالی اور سرعام سزائیں نہ مل جاتیں تب تک وزیر اعظم سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ہی کام کرتا رہتا۔ پھر مستقبل کے لیے ریاست اپنے تمام لامحدود وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایسے تمام ذرائع جن سے ایسے ناسور جنم لیتے ہیں ان کا سدِ باب کرے۔ ہر معاملے میں ہمسایہ ممالک کو ذمہ دار قرار دے کر اگلے سانحے کا انتظار کرنا کوئی پالیسی نہیں ہے۔ افغانستان کی جنگ کے نقطہ نظر سے تیار کیا جانے والا ذہن تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار افغان وار میں پاکستان کے کردار کو نامناسب کہہ چکے ہیں لیکن ضرورت ان پالیسیوں کو بھی تبدیل کرنے کی ہے۔
اگر ریاست کا قاتلوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے تو پھر اس مسلسل نسل کشی پہ قاتلوں سے لاعلم ہونا اور اس پہ اس حد تک لاچارگی اور خاموشی انتہائی معنی خیز ہے۔ اگر ریاست کے علم میں ہے کہ اس سارے بندوبست کے پیچھے کون ہے اور پھر بھی وہ اس طاقتور گروہ کے سامنے بے بس ہے تو یہ پہلی صورت سے بھی خطرناک صورت حال ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ریاست کے اخلاقی اور قانونی جواز کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ کیونکہ ریاست کا وجود اسی معاہدے پہ قائم ہوتا ہے کہ وہ آزادانہ معاشی سرگرمیوں، جس میں عام آدمی کا استحصال نہ ہو، کو فروغ دے اور عوام کی زندگیوں کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے جان کا تحفظ فراہم کرے۔ پھر اسی کے نتیجے میں ریاست عوام سے اطاعت اور فرمانبرداری کا مطالبہ کرتی ہے۔
ریاست ماں ہوتی ہے، جو اپنے شہریوں سے ان کے مذہب اور مسلک کا پوچھے بغیر اسے اپنی دھرتی سے رزق دیتی ہے۔ جس کی تازہ مثال جسینڈا آرڈن کی قیادت سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک عیسائی اکثریت ملک کی پارلیمنٹ نے مظلوم سے ہمدردی اور یکجہتی کے لیے اپنے مذہب کو بیچ میں آنے کا موقع فراہم نہیں کیا، بلکہ اس کی آواز بننے میں فخر محسوس کیا ہے۔ آپ ریاستِ مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں۔ اگر وہ آپ کے بس میں نہیں ہے تو براہِ مہربانی کچھ دیر کے لیے ہی سہی نیوزی لینڈ ہی بن جائیں۔ نیوزی لینڈ کے ماڈل کو اپنا لیں اور کوئٹہ کی یخ بستہ سردی میں زندہ لواحقین کو ان کے پیاروں کے ساتھ دفن کرنے کی بجائے زندگی کی امید دیں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home