مولانا ابوالکلام آزاد کے نام خط
یہ آرٹیکل 12 جنوری 2020 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔
ڈئیر
مولانا صاحب!
یقننا
آپ جنت کی پُر کیف فضاوں اور سر سر کرتی ہواوں میں حوروں کے جھرمنٹ میں بھرپور لطف
اندوز ہو رہے ہوں گے یہ بھی غالب امکان ہے کہ ابھی تک آپ اور مسٹر جناح بیچ تقسیم
کو لے کر خوب بحث و تمحیص ہوتی ہو گی۔
میں
نے گاندھی جی کو بھی خط لکھا تھا شائد آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا چلیں آپ کو بھی
بتاتا چلوں میرا نام ابو بکر صدیق ہے یہ 2020ہے تقسیم کو گزرے 72 برس ہو چکے ہیں۔
اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک دونوں ممالک ایکدوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے سے
انکاری ہیں ۔
جہاں
انتہائی خراب معاشی حالت مفلوج ادارے اور مذہب کے نام پہ قتل و غارت نے میرے دیس
کی بنیادیں کھوکھلی کی ہیں وہان پہ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت ایسے عوامل کی بیخ
کنی پہ کمر بستہ ہے اس کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے کی دیکھ بھال کے لیے سکھوں کے
گردواروں، بدھ مت کے سٹوپا ، ہندوں کے مندروں کی بحالی کے پروگرام پہ توجہ دے کے
ٹورازم کے فروغ کے لیے بھی کوشاں ہے حالیہ انصاف کی فراہمی کے ضمن میں کافی طاقتور
افراد جیل کی ہوا کھا چکے ہیں قانون کو اپنا راستہ بناتے دیکھ کر مسرت محسوس ہوتی
ہے ۔
آپ
کے دیس نے حال ہی میں چاند پہ اپنا مشن بھیجا میں اس کو لے کر بہت خوش ہوں اگرچہ
چاند کی سطح پہ اترنے سے قبل رابطہ منقطع ہو گیا لیکن اتنا سفر کامیابی سے کر لینا
کسی بھی کامیابی سے کم ہرگز نہیں ہے ۔ میں تعصب سے بالاتر ہو کر آپ کے دیس کے
سائنسدانوں کو مبارک باد بھی دی کیوں میں سائنس کو سرحدوں سے بالا تر سمجھتا ہوں ۔
یہ ہم سب کی کامیابی تھی۔
آپ
یہ جان کر بہت دکھی ہوں گے کہ سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آنے کے لیے ابھی تک
پاکستان کے ایلیمنٹ کو دفن نہیں کیا 2018میں ہونے والے انتخابات میں میں دوتہائی
نشستیں پاکستان مخالف فضا پیدا کر کے حاصل کی گئی جب کہ پاکستان میں کسی ایک جماعت
نے بھارت مخالفت کی بنیاد پہ نہ ووٹ مانگا نہ ہی ووٹ کے معاملے میں ووٹر کی
ترجیحات میں بھارت دشمنی شامل ہے ۔ امیر اور غریب کے بڑھتے ہوئے فرق نے معاشرہ
بانٹ کر رکھ دیا ہے
گاندھی
جی کی موت پہ آپ بہت رنجیدہ تھے آپ نے ان کے قتل کو ہندوستان کے چہرے کو مسخ کرنے
کی سازش بھی قرار دیا تھا آج آپ کا سارا ہندوستان وہی سوچ رہا ہے جو نتھو رام
گوڈاسے سوچ رہا تھا آج آپ کے محبوب لیڈر گاندھی جی کی شہادت کے دن کو گوڈاسے کے دن
کے طور پہ منایا جانے لگا ہے۔ آر۔ایس۔ایس جس پہ آپ کی حکومت نے انتہا پسند ہونے کی
وجہ سے پابندی لگائی تھی آج حکمران جماعت کا سٹیٹس انجوائے کر رہی ہے۔
جناح
نے آپ کو پہلے جداگانہ انتخابات پہ قائل کرنا چاہا آپ نے اس کو مسلمانوں کے ساتھ
تقسیم کی سازش سے تعبیر کیا پھر وہ اپنے اس مطالبے سے ہٹ بھی گئے اور آپ کی جماعت
سے مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستوں کے آئینی حق کو تسلیم کیے جانے پہ بھی بات کرنے
لگے لیکن آپ کانگریس کے سحر میں یوں کھوئے تھے کہ بصیرت شائد کھو بیٹھے تھے آج
بھارت کی حکمران جماعت 357 نشستوں کے ساتھ حق حکمرانی جتا رہی ہے جس میں ایک بھی
مسلمان نہیں ہے حالانکہ کہ 20 کروڑ سے زائد مسلم آبادی کا ملک ہے آپ کی سیکولر
جماعت کانگریس نے بھی مسلمان کینڈڈیٹس کو ٹکٹ نہیں دیے کیوں ان کا بھی یہ ہی خیال
ہے کہ لوگ مسلمانوں کو ووٹ دینا پسند نہیں کرتے۔
آپ
نے نا جانے کون سے سہانے خواب دیکھا کر اپنے مسلمان بھائیوں کو روکا تھا حالانکہ
تب بھی کچھ مسلمان آپ کو سمجھا رہے تھے کہ جب ہندو اقتدار میں آئیں گے تو یہ وہ
ہندو نہیں ہوں گے جن کے ساتھ آپ برطانوی دور میں اٹھتے بیٹھتے ہو۔ تب کے ہندو مسلم
فسادات کو آپ نے سامراجی طاقتوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی قرار دیا
لیکن آج کل جو ہندو نیشنل ازم کے نام پہ گاو رکشک اور جے شری رام کے نعرہ نہ لگانے
کی پاداش میں مسلمانوں کا جلایا جا رہا ہے یہ کس کے کھاتے میں ڈالیں ۔
ہندو
نیشنل ازم آج آپ کے سیکولر انڈیا کا سب سے مقبول فیشن ہے ۔ میڈیا نے جو رنگ مسلم
مخالفت میں دیکھایا ہے وہ آپ کے لیے یقینا تکلیف دے ہو گا کوئی اگر غیر جانبدار
بھی رہنا چاہے تو پاکستان ایجنٹ ہونے کا داغ اپنی پیشانی پہ لگواتا ہے ۔ گاندھی جی
کو بھی بتایا تھا کہ آپ کے دیس میں بابری مسجد منہدم کرنے کے بعد رام مندر کی
تعمیر ایک مقبولیت کا باعث بنا ہے آپ مسجد کے انہدام کو بہتر سمجھ سکتے ہیں یہ آپ
کا ہندوستان ہے۔
انڈین
آئین کے آرٹیکل 370جس سے کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ آپ دلوا کر گئے تھے وہ بھی
ختم ہو گیا ہے اور جلد ہی واحد مسلم ریاست اپنی اکثریت کھو دے گی۔ آپ کی ریاست
مسلمانوں کو کسی طور سیاسی طور پہ مستحکم دیکھنے کو تیار نہیں ہے کشمیر کی صورتحال
پہ تو میں خاموشی ہی رکھوں تو بہتر ہو گا آپ یقنا بہت دکھی ہو جائیں گے۔
آپ
کو یاد ہو گا جب ویول پلان پیش ہوا تو جناح اسے ماننے پہ راضی ہو گئے تھے لیکن
گاندھی جی فرمایا تھا کہ آزاد ہندوستان کی پارلیمنٹ اس کے کچھ حصوں کو تبدیل کر لے
گی آپ کو وہاں سے ہندو مائنڈ سیٹ کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ کتنی بڑی بد عہدی
کی بات ہے جب آپ ایک معاہدے کے تحت اکھٹے ہوتے ہیں پھر اقتدار پانے کے بعد وہ
معاہدہ ختم کیسے ہو سکتا ہے؟ جناح سمجھ گئے تھے تب ہی لیکن آپ اور شیخ عبداللہ
کانگریس کی محفلوں کے نشے سے باہر نہ آ سکے انہوں نے ویول پلان میں جو نیت ظاہر کی
کشمیر کے مسئلے پہ ویسا کر کے دیکھایا۔ کشمیر کوئی انڈین مفتوح علاقہ نہیں انہوں
نے بھارت سے معاہدہ کر کے انڈین یونین میں شمولیت اختیار کی اور آج آپ کے انڈیا نے
کسی معاہدے کا بھی خیال نہیں کیا۔
آج
دوسرے درجے کا شہری ہونے کے باوجود اویسی صاحب جس درد بھرے لہجے میں خود کو قیامت
تک ہندوستانی ہونے کایقین دلا رہے ہیں یہ سچائی ہے جناح کی پیشن گوئی کی کہ بھارت
میں مسلمان ہمشہ اپنی وفاداری کا یقین دلانے میں ہی زندگی گزار دیں گے ۔ تقسیم ہند
کے وقت اگر نہ ہی سہی لیکن آپ کے دیش میں دو قومی نظریہ شدت اختیار کر گیا ہے آج
پاکستان میں بھی یہی محسوس ہو رہا ہے کہ اگر قائد اعظم پاکستان کے لیے آواز بلند
نہ کرتے تو ہر مسلمان کے ساتھ یہی ہو رہا ہوتا ۔مجھے خوشی ہے کہ جناح درست تھے
مولانا
صاحب آپ کا اکھنڈ بھارت کا نظریہ تو گنگا میں ڈوب کر مر گیا
چلیں
آپ پھر حوروں کے ساتھ محو پرواز ہو جائیں
پاکستان
پائندہ باد
آپ
کا خیر اندیش


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home