سورہ بقرہ کی آیت 83 میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل سے لیے گئے اس عہد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: “وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ”۔ اس آیت میں بیان کردہ ہدایات دراصل انسانی معاشرے کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے کی بنیاد ہیں۔ سب سے پہلی ہدایت توحید ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ توحید صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و عملی نظام ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ضمیر، اقدار اور اجتماعی زندگی میں کسی غیر اللہ کو مطلق اختیار اور اقتدار کا مقام نہ دے۔ جب انسان اللہ کی وحدانیت کو قبول کرتا ہے تو درحقیقت وہ تمام باطل اقتداروں، ظالمانہ نظاموں اور مصنوعی خداؤں کی نفی کر دیتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک آزاد اور باوقار انسانی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا۔ انسانی تہذیب میں خاندان بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور والدین اس اکائی کے ستون ہوتے ہیں۔ قرآن مجید اس بات کو واضح کرتا ہے کہ جو معاشرہ اپنے والدین کا احترام نہیں کرتا وہ دراصل اپنی تہذیبی بنیادوں کو کھو دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قریبی رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ہدایت دی گئی۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف فرد کی روحانی اصلاح کا دین نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی نظام بھی ہے جس میں کمزور اور محروم طبقات کی کفالت کو بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ یتیم اور محتاج دراصل معاشرے کے وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی کمزوری کے باعث دوسروں کی مدد کے محتاج ہوتے ہیں۔ اگر معاشرہ ان کی خبرگیری چھوڑ دے تو ظلم اور عدم مساوات جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے بار بار یتیموں کے حقوق کا ذکر کیا اور محتاجوں کی مدد کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا۔
اسی آیت میں ایک اور نہایت اہم اصول بیان کیا گیا کہ لوگوں سے اچھی بات کرو۔ بظاہر یہ ایک سادہ اخلاقی ہدایت معلوم ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ انسانی معاشرے میں اکثر تنازعات اور نفرتیں زبان کے غلط استعمال سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر انسان اپنے الفاظ میں نرمی، خیرخواہی اور احترام کو شامل کر لے تو بہت سی دشمنیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ نماز دراصل انسان کو اللہ سے جوڑنے والا عملی نظام ہے جو اسے مسلسل یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ اخلاقی ذمہ داری کے تحت زندگی گزار رہا ہے۔ جبکہ زکوٰۃ معاشی انصاف کا عملی ذریعہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ دولت صرف چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو بلکہ معاشرے کے محروم طبقات تک بھی پہنچے۔ اس طرح اسلام ایک ایسا معاشی توازن قائم کرنا چاہتا ہے جس میں معاشرہ طبقاتی استحصال سے محفوظ رہے۔
اس عہد کے ذکر کے فوراً بعد قرآن مجید بنی اسرائیل کے رویے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا اکثر اس عہد سے منہ موڑ گئے۔ یہ بیان دراصل انسانی فطرت کی کمزوری کو آشکار کرتا ہے۔ انسان اکثر اصولوں کو مان تو لیتا ہے مگر عملی زندگی میں انہیں نظرانداز کر دیتا ہے۔ قرآن اسی حقیقت کو نمایاں کرتے ہوئے اگلی آیت میں اس عہد کی مزید توسیع بیان کرتا ہے: “وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ لَا تَسۡفِکُوۡنَ دِمَآءَکُمۡ وَ لَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ”۔ یہاں دو مزید بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں: ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور اپنے لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل نہ کرنا۔ یہ اصول انسانی معاشرے میں امن اور استحکام کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ کسی معاشرے کی سب سے بڑی تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں یا ایک دوسرے کو اپنے ہی وطن سے نکالنے لگیں۔
لیکن قرآن اس عہد کے بعد بنی اسرائیل کے عملی رویے کو بیان کرتے ہوئے ایک انتہائی تلخ حقیقت سامنے لاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو، اپنے ہی لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور ان کے خلاف ظلم و زیادتی میں دوسروں کی مدد کرتے ہو۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ جب وہی لوگ قیدی بن کر تمہارے پاس آتے ہیں تو تم انہیں فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو، حالانکہ انہیں جلاوطن کرنا ہی تم پر حرام کیا گیا تھا۔ اس طرزِ عمل کو قرآن ایک سنگین تضاد قرار دیتا ہے۔ یہ دراصل اس ذہنیت کی علامت ہے جس میں انسان دین کے بعض حصوں کو قبول کرتا ہے اور بعض کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ قرآن اسی رویے کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے: “اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ؟” یعنی کیا تم کتاب کے کچھ حصوں پر ایمان رکھتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو؟ یہ سوال صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ ہر اس قوم کے لیے ہے جو دین کو اپنی خواہشات کے مطابق قبول یا رد کرتی ہے۔
قرآن اس رویے کے نتائج بھی واضح کرتا ہے کہ جو قوم ایسا طرزِ عمل اختیار کرتی ہے اس کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب مقدر ہو جاتا ہے۔ درحقیقت یہ محض ایک مذہبی وعید نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے۔ جب کوئی معاشرہ انصاف، رحم اور اخلاقی اصولوں کو ترک کر دیتا ہے تو اس کے اندر انتشار، ظلم اور باہمی دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ قوم دنیا میں بھی ذلت اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ قرآن کے اس بیان میں ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے کہ اللہ کے احکام کو جزوی طور پر ماننا دراصل انہیں رد کرنے کے مترادف ہے۔ دین ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جسے جزوی طور پر اختیار کرنے سے نہ فرد کی اصلاح ہوتی ہے اور نہ معاشرے کی۔
اگر ان آیات کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں نہ صرف گزشتہ امتوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے بلکہ موجودہ امت کے لیے ایک واضح تنبیہ بھی موجود ہے۔ قرآن دراصل ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ اگر ہم بھی وہی روش اختیار کریں گے جو بنی اسرائیل نے اختیار کی تھی تو ہمارا انجام بھی مختلف نہیں ہو گا۔ آج کی دنیا میں مسلمانوں کی اجتماعی حالت پر نظر ڈالیں تو یہ آیات ایک آئینے کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔ ہم توحید کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں بہت سی غیر اسلامی اقدار کو قبول کر لیتے ہیں۔ ہم نماز اور عبادات کی بات تو کرتے ہیں مگر معاشرتی انصاف، معاشی مساوات اور انسانی حقوق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کے ان حصوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو ہمارے ذاتی مفاد سے مطابقت رکھتے ہیں اور ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں جو ہمیں اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار ہمیں اپنے رویے کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ کتاب صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ زندگی کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اگر ہم ان آیات کو بار بار پڑھیں اور ان کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہماری بہت سی موجودہ مشکلات کی جڑیں اسی رویے میں پوشیدہ ہیں جسے قرآن نے “کتاب کے بعض حصوں پر ایمان اور بعض کا انکار” قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن ہمارے پاس اسی عہد کے ساتھ موجود ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں سے لیا تھا۔ اس عہد کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی زندگی، اجتماعی رویوں اور ریاستی نظام میں عدل، رحم، دیانت اور انسانی احترام کو قائم کریں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف ہماری دنیا کی حالت بدل سکتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی رحمت ہمارے شاملِ حال ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے اسی طرح دین کو جزوی طور پر قبول کرنے کی روش برقرار رکھی تو تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسی قومیں دنیا میں بھی ذلت کا شکار ہوتی ہیں اور آخرت میں بھی سخت جواب دہی ان کا مقدر بنتی ہے۔
0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home