اگر آج حضرت علی ہمارے درمیان ہوتے تو ہم کہاں کھڑے ہوتے؟
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شخصیت اسلام کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے اور ابتدائی دور ہی سے آپ ﷺ کی تربیت میں پروان چڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے خود حضرت علیؓ کے مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے علی! تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسیٰ علیہ السلام کو ہارون علیہ السلام سے تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس فرمان میں حضرت علیؓ کی قربت، اعتماد اور دینی ذمہ داری کا وہ مقام ظاہر ہوتا ہے جو انہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاصل تھا۔ یہ نسبت حضرت علیؓ کے شرف اور عظمت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن اس حقیقت کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یہ مقام ان کا ذاتی مقام تھا۔ ہمارے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا تعلق حضرت علیؓ کے ساتھ کس نوعیت کا ہے اور ہم اپنی زندگیوں میں ان کے ساتھ کس حد تک وابستگی رکھتے ہیں۔
اگر انسان دیانت داری سے اپنے حال پر غور کرے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ قرآن مجید کے نظم سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ محض نسب یا ظاہری تعلق کسی انسان کو نجات نہیں دلا سکتا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا حقیقی بیٹا تھا، مگر جب اس نے اپنے باپ کی تعلیمات سے روگردانی کی تو طوفان کے عذاب سے نہ بچ سکا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے پیغمبر کو یہ سمجھایا کہ وہ تمہارے اہل میں سے نہیں کیونکہ اس کا عمل درست نہیں تھا۔ اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی ایک پیغمبر کی زوجہ ہونے کے باوجود عذاب سے محفوظ نہ رہ سکی کیونکہ اس نے حق کا ساتھ نہیں دیا۔ ان واقعات سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں اصل اہمیت عمل کی ہے، نہ کہ محض تعلق اور دعوے کی۔
اسی اصول کو سامنے رکھ کر اگر ہم اپنے اور حضرت علیؓ کے تعلق کو دیکھیں تو ہمیں اپنے دعوؤں اور حقیقت کے درمیان واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔ ہم سب حضرت علیؓ سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، ان کے فضائل بیان کرتے ہیں اور ان کی شجاعت، علم اور تقویٰ کے قصے سناتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کی سیرت کو اپنی زندگی میں جگہ دی ہے؟ کیا ہم نے ان کے اصولوں کو اپنے کردار کا حصہ بنایا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ محض زبان سے محبت کا دعویٰ کسی انسان کو ان عظیم شخصیات کے راستے پر نہیں لا سکتا جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔ اگر کوئی شخص باپ کی تعلیمات کو نظر انداز کر دے تو محض رشتہ اسے فائدہ نہیں دیتا، تو پھر ہماری زبانی محبت کس طرح معتبر ہو سکتی ہے جب ہماری زندگی ان کی تعلیمات سے خالی ہو۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی حق، عدل اور دیانت کی مثال تھی۔ انہوں نے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیا اور ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ انصاف اور حق کی پاسداری کا بھی نام ہے۔
جب ان کی شہادت کا وقت قریب آیا اور وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے تھے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جو نصیحت کی وہ دراصل ان کی پوری زندگی کا خلاصہ تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ مظلوم کے مددگار اور ظالم کے دشمن بننا۔ اس مختصر جملے میں ایک ایسا اصول بیان کر دیا گیا جو اسلامی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔
اگر ہم آج اپنے معاشرے کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس اصول سے بہت دور جا چکے ہیں۔ ہماری نجی زندگی ہو، سماجی معاملات ہوں یا اجتماعی فیصلے، اکثر جگہوں پر ہم طاقت اور مفاد کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، چاہے وہ حق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا ہمارے لیے مشکل بن جاتا ہے اور ہم اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی معاملات میں بھی کمزور اور مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے طاقتور قوتوں کی طرف جھکاؤ نظر آتا ہے۔ یہ طرز عمل اس تعلیم کے بالکل برعکس ہے جو حضرت علیؓ نے اپنی زندگی اور اپنی آخری نصیحت میں بیان کی تھی۔
یہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر حضرت علیؓ آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو کیا ہم واقعی ان کے ساتھ کھڑے ہوتے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حق کے علمبردار اکثر اپنے ہی زمانے میں مخالفت کا سامنا کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ہمارے مفادات اور ہماری ترجیحات ہمیں اس مقام پر لے آئیں جہاں ہم حق کے بجائے طاقت کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ خیال بظاہر سخت محسوس ہوتا ہے، مگر خود احتسابی کے لیے ایسے سوالات ضروری ہوتے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت علیؓ سے حقیقی تعلق صرف عقیدت کے اظہار سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کے راستے کو اختیار کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب کوئی انسان انصاف کو اپنا اصول بنا لے، مظلوم کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھے اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ پیدا کرے تو اس کا تعلق ان عظیم شخصیات کے ساتھ مضبوط ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہماری زندگی مفادات، مصلحتوں اور خاموشی پر مبنی ہو تو پھر محبت کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی زندگی کو صرف تاریخ کے ایک باب کے طور پر نہ پڑھیں بلکہ اسے اپنے کردار کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ ان کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایمان کا اصل امتحان عمل میں ہوتا ہے۔ جب انسان حق کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہی لمحہ اس کے ایمان کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ہم اس سبق کو سمجھ لیں تو شاید ہم اپنے اور حضرت علیؓ کے تعلق کو محض الفاظ سے نکال کر حقیقت اور عمل کی دنیا میں لے جا سکیں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home