نرمی قلب: قرآنی تعلیمات اور انسانی شخصیت کا جوہر
قرآنِ
مجید انسان کے باطن اور اس کی اخلاقی کیفیت کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ اس کتابِ
ہدایت میں بارہا یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان کی اصل اصلاح اس کے دل کی اصلاح
سے وابستہ ہے۔ دل کی نرمی، رحمت، شفقت اور قبولِ حق کی کیفیت دراصل اللہ تعالیٰ کی
ایک عظیم نعمت ہے۔ جب دل نرم ہوتا ہے تو انسان حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتا
ہے، دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے اور اللہ کی ہدایت اس کے اندر اثر کرتی
ہے۔ اس کے برعکس جب دل سخت ہو جائے تو انسان نصیحت سن کر بھی متاثر نہیں ہوتا اور
ہدایت اس کے دل میں جگہ نہیں بنا پاتی۔ قرآنِ مجید نے اسی حقیقت کو مختلف مقامات
پر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ
کی شخصیت کے حوالے سے دل کی نرمی کو ایک خاص الٰہی نعمت قرار دیا ہے۔ سورہ آل
عمران میں ارشاد ہوتا ہے: "فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا
غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ" یعنی "یہ
اللہ کی رحمت ہی ہے کہ آپ ان لوگوں کے لیے نرم دل ہو گئے اور اگر آپ سخت مزاج اور
سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے"۔ اس آیت میں واضح کیا گیا کہ
رسول اللہ ﷺ کا نرم دل ہونا محض ذاتی صفت نہیں بلکہ اللہ کی خاص رحمت کا نتیجہ
تھا۔ اس سے یہ اصول بھی سامنے آتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور شفقت اختیار کرنا
دراصل ایک الٰہی نعمت اور معاشرتی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں مومنین کی ایک
نمایاں صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے نرم ہو جاتے ہیں۔ سورہ
زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے جسے سن کر ان
لوگوں کے جسم اور دل نرم ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ اس آیت سے معلوم
ہوتا ہے کہ اللہ کا کلام دراصل دلوں کو نرم کرنے والی قوت رکھتا ہے۔ جو لوگ قرآن
کو غور و فکر کے ساتھ سنتے اور سمجھتے ہیں ان کے دلوں میں خشوع پیدا ہوتا ہے،
آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور ان کی زندگی کا رخ بدلنے لگتا ہے۔
قرآنِ کریم میں دل کی نرمی کو ہدایت کی
علامت قرار دیا گیا ہے جبکہ دل کی سختی کو گمراہی اور روحانی بیماری کی علامت
بتایا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے دل پتھروں کی طرح سخت ہو گئے بلکہ بعض پتھروں سے بھی
زیادہ سخت۔ اس مثال کے ذریعے قرآن انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ جب انسان مسلسل حق سے
روگردانی کرتا ہے، نصیحت کو نظر انداز کرتا ہے اور گناہوں میں مبتلا رہتا ہے تو
آہستہ آہستہ اس کا دل سخت ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہدایت کے پیغام کو سن
کر بھی متاثر نہیں ہوتا۔
جیسا
کہ ہم صحابہ اکرام کے قبول ایمان کے واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ قرآن مجید کی
کسی آیت کو سننے کے ساتھ ہی لرز جاتے اور اللہ کے خوف سے ڈر کر اسلام قبول کر لیتے
۔ آج بھی غیر مسلموں میں قبول اسلام کی سب سے بڑی وجہ قرآن مجید کا مطالعہ ہی ہے۔
لیکن ہم اپنے ہاں دیکھتے ہیں کہ کتاب رشد و ہدایت کو ثواب کی نیت سے تو پڑھا جا
رہا ہے لیکن اس سے ہمارے دل پہ وہ کیفیات طاری نہیں ہوتیں جو ہم قبول اسلام کے وقت
غیر مسلموں کے دلوں پہ دیکھتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ شائد بار بار حق سے روگردانی کے
باعث ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں اور پیغام ہدایت سن کر بھی متاثر نہیں ہو رہا۔
اسی طرح سورہ حدید میں اہلِ ایمان کو تنبیہ
کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومنین کے دل اللہ کے ذکر اور
نازل ہونے والی حق بات کے سامنے جھک جائیں؟ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں
جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی لیکن ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد ان کے دل سخت ہو گئے۔
اس آیت میں دراصل مومن کو مسلسل روحانی بیداری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ قرآن یہ
پیغام دیتا ہے کہ اگر انسان اللہ کے ذکر اور ہدایت کے ساتھ تعلق کمزور کر دے تو دل
کی نرمی ختم ہونے لگتی ہے۔
قرآنِ مجید میں دل کی نرمی پیدا کرنے کے
کئی اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے اہم سبب اللہ کا ذکر ہے۔ ذکرِ الٰہی انسان
کے دل کو زندہ کرتا ہے اور اس میں خشوع پیدا کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کو یاد کرتا
ہے، اس کی نعمتوں پر غور کرتا ہے اور اپنی کمزوریوں کا احساس کرتا ہے تو اس کے دل
میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح قرآن کی تلاوت اور اس میں غور و فکر بھی دل کو
نرم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ قرآن کی آیات انسان کو کائنات کی حقیقت، زندگی کی
ناپائیداری اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دلاتی ہیں جس سے دل میں انکساری اور
خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ قرآن مجید میں انبیاء علیہم
السلام کی سیرتوں کے ذریعے بھی دل کی نرمی اور رحمت کی تعلیم دی گئی ہے۔ حضرت
موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون جیسے سخت دل حکمران کے پاس بھیجا گیا تو اللہ
تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا اللہ سے
ڈر جائے۔ اس ہدایت میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی نرم رویہ
اختیار کرنا ہدایت کے دروازے کھول سکتا ہے۔
قرآن مجید اس پہلو پہ بھی زور دیتا ہے کہ
دل کی نرمی صرف عبادت تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی تعلقات میں بھی ظاہر ہونی چاہیے۔
مومن کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم دل ہوتے ہیں۔ سورہ
فتح میں صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ آپس میں رحم دل ہیں۔ اس سے معلوم
ہوتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے افراد کے دل ایک
دوسرے کے لیے نرم اور ہمدرد ہوں۔
آخرکار قرآن مجید کا مجموعی پیغام یہی ہے
کہ دل کی نرمی دراصل اللہ کی طرف سے عطا ہونے والی ایک عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے
انسان ہدایت کو قبول کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے اور اپنے رب کے
قریب ہوتا ہے۔ جو لوگ اللہ کے ذکر، قرآن کی تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کی سیرت کو
اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں ان کے دل نرم اور روشن ہو جاتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ
غفلت، گناہ اور تکبر میں مبتلا رہتے ہیں ان کے دل رفتہ رفتہ سخت ہوتے چلے جاتے
ہیں۔
اس لیے
ایک مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دل کی کیفیت کا مسلسل جائزہ لیتا رہے، اللہ کے
ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، قرآن سے تعلق مضبوط کرے اور لوگوں کے ساتھ رحمت و
شفقت کا رویہ اختیار کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے دل کو نرم رکھ
سکتا ہے اور اللہ کی اس عظیم نعمت کا مستحق بن سکتا ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home