Saturday, 14 March 2026

ایمان کی حقیقت: صرف دعویٰ یا عملی ثبوت؟

 سورۂ العنکبوت کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ انسان کی ایک نہایت خطرناک خوش فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ:

کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ صرف یہ کہہ دینے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ “ہم ایمان لائے” اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟ حالانکہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا تھا تاکہ اللہ یہ ظاہر کر دے کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے۔
یہ آیات دراصل ایمان کی حقیقت اور اس کے تقاضوں کو واضح کرتی ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ایمان محض ایک دعویٰ یا زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کی پوری زندگی—اس کے فکر، کردار، معاملات اور اجتماعی رویّوں—میں ظاہر ہوتی ہے۔ جب تک ایمان زندگی کے مختلف میدانوں میں آزمائش سے گزر کر اپنی صداقت ثابت نہ کرے، اس وقت تک وہ محض ایک دعویٰ ہی رہتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسی ذہنیت پیدا ہو چکی ہے جسے “پیدائشی کلمہ گوئی” کا تصور کہا جا سکتا ہے۔ یعنی چونکہ ہم ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اس لیے ہم خود بخود اللہ کی محبوب امت ہیں اور ہماری نجات یقینی ہے۔ اس تصور نے ہمارے فکری اور اخلاقی نظام میں ایک گہرا بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایمان کو ایک وراثتی شناخت سمجھ لیا گیا، نہ کہ ایک زندہ اور متحرک ذمہ داری۔
قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کو تقریباً ہر جگہ دو بنیادی عناصر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ پہلا عملِ صالح اور دوسرا ثبات و استقامت کے ساتھ آزمائش میں کامیابی۔ اسی لیے قرآن میں بار بار یہ جامع اسلوب سامنے آتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
یہ ترکیب قرآن میں درجنوں مرتبہ آئی ہے۔ اس تکرار کا مقصد یہی ہے کہ انسان یہ حقیقت سمجھ لے کہ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ قرآن کے اجتماعی نظم میں یہ دونوں دراصل ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ ایمان دل میں پیدا ہوتا ہے، زبان اس کا اقرار کرتی ہے اور عمل اس کی سچائی کا ثبوت بن جاتا ہے۔
اگر ہم اپنی موجودہ انفرادی، اجتماعی اور ریاستی زندگی کا جائزہ لیں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ انفرادی سطح پر ہم اپنے آپ کو کامل مومن سمجھتے ہیں۔ نماز، روزہ، حج اور عمرہ کی ادائیگی میں ہم کسی حد تک کوتاہی نہیں کرنا چاہتے۔ عیدین کے مواقع پر ہمارے جذبات دیدنی ہوتے ہیں۔ میلاد النبی اور محرم کے ایام میں بھی ہمارا جوش و جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ لیکن جب معاملہ کردار اور معاشرتی ذمہ داریوں کا آتا ہے تو صورت حال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔
ہماری معاشی زندگی میں بددیانتی عام ہے۔ کاروبار میں دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی، ملاوٹ اور ناجائز منافع خوری کو بعض اوقات ذہانت اور کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ سماجی زندگی میں جھوٹ، بہتان، حسد اور ظلم کو معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے۔ اجتماعی معاملات میں امانت و دیانت کی جگہ مفاد پرستی اور اقربا پروری نے لے لی ہے۔ گویا ہم نے ایمان کو عبادات کے دائرے تک محدود کر دیا ہے جبکہ زندگی کے دوسرے شعبوں کو اس سے آزاد سمجھ لیا ہے۔
یہی تضاد قرآن کے نزدیک نفاق کی علامت بن جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے قرآن نے ایک مکمل سورت المنافقون کے نام سے نازل کی۔ اس سورت میں منافقین کے طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہی کہتے تھے:
“ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔”
لیکن اس کے باوجود قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ سنایا:
وَاللّٰهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ
یعنی اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ اس آیت سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ صرف زبانی گواہی ایمان کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ایمان وہ ہے جو دل میں اخلاص پیدا کرے، کردار کو بدل دے اور انسان کی عملی زندگی کو اللہ کی اطاعت کے تابع کر دے۔
اسی پس منظر میں سورۂ العنکبوت کی ابتدائی آیات تین بنیادی حقیقتیں ہمارے سامنے رکھتی ہیں۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ آزمائش کے بغیر قبول نہیں ہوتا۔ انسان کو مختلف حالات اور مشکلات میں ڈالا جاتا ہے تاکہ اس کے ایمان کی صداقت واضح ہو جائے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ آزمائش سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کر دیتی ہے۔ جو لوگ صرف دعویٰ کرتے ہیں وہ آزمائش کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں جبکہ سچے اہل ایمان ثابت قدم رہتے ہیں۔ تیسری حقیقت یہ ہے کہ بدعمل لوگ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ خواہ وہ کتنے ہی مذہبی دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔
یہ اصول صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ معاشرے اور ریاست پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر ایک معاشرہ خود کو مسلمان کہتا ہو مگر اس کی اجتماعی زندگی میں عدل، دیانت اور امانت کا فقدان ہو تو وہ قرآن کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اسی طرح اگر ایک ریاست اسلامی شناخت تو رکھتی ہو لیکن اس کے نظام میں ظلم، کرپشن، ناانصافی اور استحصال موجود ہو تو وہ بھی قرآن کے مطلوبہ معیار سے دور ہو جاتی ہے۔
قرآن کے مجموعی پیغام کو سامنے رکھا جائے تو ایمان کا ایک جامع تصور سامنے آتا ہے:
ایمان = عقیدہ + عمل + اخلاص + استقامت
یعنی ایمان صرف ایک نظری عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ اگر ایمان واقعی انسان کے دل میں راسخ ہو جائے تو وہ اس کے کردار، اس کے معاشی معاملات، اس کے سماجی رویّوں اور حتیٰ کہ اس کے ریاستی نظام تک میں ظاہر ہونا چاہیے۔
اگر ایمان صرف کلمہ گوئی تک محدود ہوتا تو قرآن میں صبر، تقویٰ، جہاد، عدل، امانت اور عمل صالح پر اس قدر زور نہ دیا جاتا۔ قرآن بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ نجات کا راستہ محض دعوے سے نہیں بلکہ سچے ایمان اور صالح عمل کے امتزاج سے گزرتا ہے۔
لہٰذا اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایمان کو ایک رسمی شناخت کے بجائے ایک زندہ حقیقت کے طور پر سمجھیں۔ جب تک ایمان ہماری انفرادی زندگی کو پاکیزہ، اجتماعی زندگی کو منصفانہ اور ریاستی نظام کو عادلانہ نہ بنا دے، اس وقت تک ہم قرآن کے اس معیار تک نہیں پہنچ سکتے جسے اللہ نے اہل ایمان کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو کسی فرد، معاشرے اور ریاست کو حقیقی کامیابی اور اللہ کی رضا تک پہنچا سکتا ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home