فتحِ مکہ کا پیغام
بیس رمضان تاریخِ انسانی کا انتہائی منفرد دن ہے۔ نہ تاریخِ انسانی نے اس سے قبل اور نہ اس کے بعد انسانیت کے شرف کی وہ معراج دیکھی جو فتحِ مکہ کے موقع پر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دکھائی۔ مکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت گاہ تھی، آپ ﷺ نے اپنی جوانی اسی شہر کی گلیوں میں بسر کی تھی۔ اپنی سب سے محبوب زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ وابستہ انتہائی خوبصورت یادیں اسی شہر کا حصہ تھیں۔
اسلام کی دعوت نے قریشِ مکہ کی انا کے بت کو اس قدر ٹھیس پہنچائی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے رفقا کے لیے مکہ کی سرزمین تنگ کر دی۔ نئے مواقع کی تلاش میں صحابہ کرام نے پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی۔ کفارِ مکہ مسلمانوں کو اپنی روایات کا باغی سمجھتے تھے، اس لیے وہ ان کے اس عمل کو قابلِ تعزیر گردانتے ہوئے ان کی ہجرت گاہوں میں بھی ان کے تعاقب میں گئے۔ مسلمانوں کو اپنے دفاع میں کئی بار جنگ کرنا پڑی، لیکن ہر جنگ میں ایک چیز نمایاں نظر آئی اور وہ تھی نبی کریم ﷺ کی خون ریزی سے گریز کی پالیسی۔
فتحِ مکہ کے موقع پر قبیلہ بنو خزرج کی کمان حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاتھ میں تھی۔ جب انہوں نے ابوسفیان کو دیکھا تو پہچان لیا اور جوش میں آ کر کہا: "اے ابوسفیان! آج جنگ کا میدان گرم ہے، آج خون کی ندیاں بہیں گی اور حرمت حلال کر دی جائے گی۔ قریش کو اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔"
کمانڈر کے ان الفاظ پر ابوسفیان خوفزدہ ہو گیا اور فوراً آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ سعد نے یہ الفاظ کہے ہیں۔ حضرت سعدؓ کے یہ الفاظ خاص طور پر ابوسفیان کو پریشان کر گئے: "اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَہ" (یعنی آج کا دن خون ریزی کا دن ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَرْحَمَہ" (آج خون کی ندیاں نہیں، رحمت کا دریا بہے گا)۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہؓ سے منصب واپس لے لیا اور ان کے بیٹے قیس بن سعدؓ کو بھیجا کہ وہ جا کر کمان سنبھال لیں۔
اس تاریخی موقع پر آپ ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا۔ صرف یہی نہیں، نبیٔ رحمت ﷺ نے رواداری اور عام معافی کے اس اعلان کے ساتھ امن کے قیام و استحکام کے لیے ہدایات جاری فرمائیں کہ:
جو کوئی ہتھیار پھینک دے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی خانہ کعبہ کے اندر پہنچ جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی اپنے گھر کے اندر بیٹھا رہے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو کوئی حکیم بن حزام کے گھر چلا جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ بھاگ جانے والے کا تعاقب نہ کیا جائے۔ زخمی کو قتل نہ کیا جائے۔
نبی کریم ﷺ نے کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد قریش و مشرکینِ مکہ کو جمع کیا اور خطاب فرمایا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے عبدِ مکرم کی مدد فرمائی اور تنہا باطل کے تمام لشکروں کو شکست دی۔"
سر جھکائے کھڑے افراد میں وہ جری نوجوان بھی تھے، جو اسلام کو مٹانے میں سب سے پیش پیش تھے۔ وہ فصیح و بلیغ بھی، جن کی زبانیں رسول اللہ ﷺ پر گالیوں کے بادل برسایا کرتی تھیں۔ وہ جوشیلے بہادر بھی، جن کی تلواروں اور نیزوں نے رسالت مآب ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تکلیفیں دی تھیں۔ وہ بھی، جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے تھے اور جو وعظ کے وقت آپ ﷺ کی ایڑیاں لہولہان کر دیا کرتے تھے۔ وہ بھی تھے، جن کی تشنہ لبی خونِ نبوت کے سوا کسی چیز سے بجھ نہیں سکتی تھی اور وہ بھی، جن کے حملوں کا سیلاب مدینے کی دیواروں سے آ آ کر ٹکراتا تھا۔ وہ بھی تھے، جو مسلمانوں کو جلتی آگ پر لٹا کر ان کے سینوں پر آتشیں مہریں لگایا کرتے تھے۔
آپ ﷺ نے قریشِ مکہ سے—جو اپنے جنگی جرائم کی سزا کے بارے میں سوچتے ہوئے سر جھکائے کھڑے تھے—پوچھا: "اے قریش! تمہارا کیا خیال ہے، تم مجھ سے کس سلوک کی امید رکھتے ہو؟" وہ اگرچہ ظالم، شقی اور بے رحم تھے، لیکن مزاج شناس تھے؛ پکار اٹھے: "ہم اچھا گمان رکھتے ہیں، آپ کریم نبی ہیں، کرم والے بھائی اور بھتیجے ہیں اور آپ جو چاہیں وہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا: آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے، وہ سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے، جاؤ تم سب آزاد ہو۔"
نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وحشی (رضی اللہ عنہ)، جنہوں نے جنگِ احد میں آپ کے چچا کو شہید کیا تھا، حاضر ہوئے؛ آپ ﷺ نے انہیں ان کا جرم یاد دلانے کے بجائے معاف کر دیا۔ ابوسفیان، جو پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے، اپنی بیوی ہندہ بنت عتبہ کو لے کر آ گئے۔ یہ وہی خاتون تھیں جنہوں نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا، ان کے کان اور ناک کاٹ کر لاش کو مسخ کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے جنگی جرائم کے باعث اسے "جہاں پاؤ قتل کر دو" کے احکامات دے رکھے تھے، لیکن جب اس نے معافی مانگی تو آپ ﷺ نے معاف کر دیا۔
عثمان بن طلحہ، جن سے نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی رات یہ درخواست کی تھی کہ وہ کعبہ کا دروازہ کھول دیں تاکہ ہجرت سے قبل آخری بار اللہ کے گھر میں جبینِ نیاز جھکا سکیں، لیکن انہوں نے چابی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب فتحِ مکہ کے بعد چابی حضور ﷺ کے قدموں میں رکھی گئی تو آپ ﷺ نے انتقام نہیں لیا بلکہ فرمایا: "یہ کنجی قیامت تک تیری نسل میں رہے گی، کوئی ظالم ہی اسے تم سے چھینے گا۔"
ابولہب کے بیٹے عتبہ نے حالتِ کفر میں اپنے باپ کے زیرِ اثر آنحضور ﷺ کی صاحبزادی کو طلاق دے دی تھی۔ لیکن فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اسے اور اس کے بھائی معتب کو لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے قبولِ اسلام کی خواہش ظاہر کی تو آنحضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور اپنے چچا کو بھی مبارک باد پیش کی جنہوں نے اپنے بھتیجوں کو کفر کی ضلالت سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لا کھڑا کیا۔
سکھ سیرت نگار جی سنگھ دارا اپنی کتاب "رسولِ عربی ﷺ" میں لکھتا ہے: "سبحان اللہ! رسول اللہ ﷺ نے اپنے قتل کا قصد کرنے والوں، اپنی نورِ چشم کے قاتلوں، اپنے چچا کا کلیجہ چبانے والوں، سب کو معافی دے دی اور قطعی معافی۔" ہندو سیرت نگار سوامی لکشمی پرشاد اپنی کتاب "عرب کا چاند ﷺ" میں لکھتا ہے: "آپ ﷺ کے اس عدیم المثال حکم سے، جو آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے لشکر کو دیا، ایسی محبت اور ہمدردی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے تصور سے آج بھی انسان کے اخلاقی احساس میں ایک عجیب رفعت و وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جذباتِ صلح و آشتی کا ایسا نمونہ تاریخ کے صفحات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔"
یورپین دانشور آرتھر گلمین (Arthur Gilman) اس تاریخ ساز واقعے کے متعلق لکھتا ہے: "فتحِ مکہ کے موقع پر یہ بات آپ ﷺ کے حق میں جائے گی کہ اس وقت، جب کہ اہلِ مکہ کے ماضی کے انتہائی ظالمانہ سلوک پر انہیں جتنا بھی طیش آتا کم تھا اور انتقام کی آگ بھڑکانے کے لیے کافی تھا، مگر آپ ﷺ نے اپنے لشکر کو ہر قسم کے خون خرابے سے روکا اور اللہ کے سامنے بندگی اور اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ دوسرے فاتحین کے وحشیانہ طرزِ عمل کے مقابلے میں اسے انتہا درجے کی شرافت اور انسانیت سے تعبیر کیا جائے گا۔ محمد ﷺ کی فتح درحقیقت دنیا کی فتح تھی، سیاست کی فتح تھی۔"
قارئین کرام! اسلام صرف وہی ہے جو قرآن میں مذکور ہے اور جس کی بہترین عملی شکل رسالت مآب ﷺ کی سیرت ہے۔ اگر اللہ اپنے کلام میں معافی اور درگزر کا حکم دے اور اس کا رسول اس پر اکمل طریقے سے عمل پیرا ہو کر دکھائے، تو پھر امت نے اپنے موجودہ رویے کس اسلام سے اخذ کیے ہیں؟ امت نے اپنے رویوں میں نہ اپنوں کے لیے، نہ غیروں کے لیے رحم، عفو و درگزر اور معافی جیسے اعمالِ صالحہ کو جگہ نہیں دی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ دلی اور سنگ دلی نے اسلام کے دامن کو داغدار کیا۔ بلاشبہ یہ دینِ رحمت ہے اور ہادیِ برحق جناب محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت اللعالمین ہیں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home