Wednesday, 18 March 2026

ظالم لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے

دنیا کی تاریخ پر اگر ایک غیر متزلزل اصول کی حیثیت سے کوئی حقیقت ثبت ہے تو وہ یہ ہے کہ ظلم کبھی پائیدار کامیابی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ وقتی غلبہ، دولت کی فراوانی، یا اقتدار کی وسعت بظاہر کسی ظالم کے حق میں کامیابی کا تاثر پیدا کر سکتی ہے، مگر قرآنِ مجید اس فریب کو پوری قطعیت کے ساتھ رد کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ حقیقی فلاح—جو اللہ کی رضا اور دائمی نجات کا نام ہے—ظلم کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک آفاقی قانون ہے، جس کی تصدیق تاریخ، معاشرہ اور انسانی تجربہ ہر سطح پر کرتا ہے۔

قرآن سب سے پہلے ظلم کی حقیقت کو واضح کرتا ہے تاکہ اس کے دائرۂ کار کو محدود نہ سمجھا جائے۔ ظلم صرف کسی کا حق چھین لینے یا طاقت کے ناجائز استعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر انحراف ہے جو انسان کے عقیدے، کردار اور اجتماعی رویوں میں سرایت کر جاتا ہے۔ اسی لیے شرک کو “ظلم عظیم” قرار دیا گیا، کیونکہ یہ خالق کے حق میں سب سے بڑی زیادتی ہے۔ جب انسان اپنی بنیاد ہی ناانصافی پر رکھتا ہے تو اس کے بعد اس کے تمام اعمال ایک بگڑے ہوئے توازن کا شکار ہو جاتے ہیں، اور یہی عدمِ توازن بالآخر اس کے زوال کا سبب بنتا ہے۔

قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عملی شہادت بھی فراہم کرتا ہے۔ “بے شک ظالم فلاح نہیں پائیں گے” کا اعلان محض ایک نظریہ نہیں بلکہ تاریخ کے آئینے میں بار بار ثابت ہونے والی حقیقت ہے۔ فرعون کی قوت، عاد و ثمود کی شان و شوکت، اور بے شمار قوموں کی ظاہری ترقی—یہ سب اس حقیقت کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے عدل کے بجائے ظلم کو اختیار کیا اور بالآخر مٹ گئے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو قرآن تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ ظلم کا راستہ انجام کے اعتبار سے ہمیشہ ناکامی کی طرف جاتا ہے۔

یہاں ایک اہم مغالطہ بھی قرآن دور کرتا ہے، اور وہ یہ کہ ظالم کو ملنے والی مہلت کو کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔ بسا اوقات ایک ظالم فرد یا نظام طویل عرصے تک طاقت کے نشے میں رہتا ہے، جس سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ شاید وہ کامیاب ہو گیا ہے۔ مگر قرآن اسے “استدراج” قرار دیتا ہے—یعنی ڈھیل، جو درحقیقت گرفت کو مزید سخت بنانے کا ایک مرحلہ ہوتی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے وقتی کامیابی دراصل ناکامی کی تمہید بن جاتی ہے، اور انسان اس فریب میں مبتلا ہو کر اپنے انجام کو مزید قریب لے آتا ہے۔

اجتماعی سطح پر بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ جب کوئی معاشرہ انصاف کے بجائے ناانصافی، دیانت کے بجائے بدعنوانی، اور حق کے بجائے طاقت کو معیار بنا لیتا ہے تو اس کے اندر سے استحکام ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ادارے کمزور ہو جاتے ہیں، اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور بالآخر وہ قوم اندر سے کھوکھلی ہو کر زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ قرآن اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ بستیوں کی تباہی محض خارجی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے اپنے ظلم کا لازمی انجام ہوتی ہے۔ گویا ظلم ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو مفلوج کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس قرآن فلاح کا ایک مثبت اور واضح تصور بھی پیش کرتا ہے۔ کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان، عدل، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی کو اختیار کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے معاملات میں توازن قائم رکھتے ہیں، دوسروں کے حقوق کا خیال کرتے ہیں اور اپنے نفس کی اصلاح کرتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں کامیاب قرار پاتے ہیں۔ اس معیار میں نہ طاقت کو کوئی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی دولت کو؛ اصل قدر عدل اور حق کی ہے۔

اگر اس پورے قرآنی بیانیے کو سمیٹا جائے تو نتیجہ نہایت واضح ہے: ظلم اور فلاح دو متضاد راستے ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے۔ ظلم وقتی طور پر ابھر سکتا ہے، مگر اس کے اندر اپنی تباہی کے بیج موجود ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس عدل اور حق کا راستہ بظاہر کٹھن سہی، مگر اس کا انجام استحکام، عزت اور دائمی کامیابی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے فرد، معاشرہ اور ریاست اگر سمجھ لیں تو نہ صرف اپنی سمت درست کر سکتے ہیں بلکہ ایک پائیدار اور باوقار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home