Sunday, 22 March 2026

دورِ نبوی پانے کی خواہش: حقیقت یا محض جذباتی بیان؟

ہمارے ہاں شاعر اور خطیب حضرات اکثر و اوقات جوشِ ایمانی میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ "کاش! ہم نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا ہوتا"۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کریں:

کاش میں دورِ پیمبر ﷺ میں اٹھایا جاتا باخدا قدموں میں سرکار ﷺ کے پایا جاتا

یہ خواہش محض ایک جذباتی بیان سے زیادہ ہرگز نہیں ہے۔ ایسا کہنے والا غالب امکان ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں صحابہ کے حالات سے مکمل طور پر ناواقف ہوتا ہے۔ ایسا دعویٰ کرنے والا اگر آغازِ نبوت میں مکہ میں ہوتا اور وادیِ ابطح کے نوکیلے اور گرم پتھروں پر لیٹا کر تشدد سہہ رہا ہوتا، تو کیا اپنے اس دعوے پر قائم رہ سکتا تھا؟

وادیِ ابطح مکہ مکرمہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک کھلی اور پتھریلی وادی تھی۔ یہاں کی ریت اور کنکر گرمیوں میں آگ کی طرح تپتے تھے، اسی لیے کفارِ مکہ اس جگہ کا انتخاب کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کو جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت سے بھی تڑپایا جا سکے۔ مشرکینِ مکہ، جن میں ابوجہل اور امیہ بن خلف پیش پیش تھے، مسلمانوں کو دوپہر کے وقت اس تپتی وادی میں لے جاتے اور انہیں برہنہ کر کے گرم ریت پر لٹا دیتے۔ کبھی سینے پر وزنی اور گرم پتھر رکھ دیے جاتے تاکہ وہ ہل نہ سکیں اور سانس لینا دشوار ہو جائے، تو کبھی بعض صحابہ کو لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں بٹھا دیا جاتا تاکہ لوہا گرم ہو کر ان کے جسم کو جھلسا دے۔

اسی وادی میں آلِ یاسر یعنی حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر اور والدہ حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہم) کو اذیتیں دی گئیں۔ ان کا خاندان اسلام کی تاریخ میں "پہلا شہید خاندان" کہلاتا ہے۔ ان پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات انسانی دل کو دہلا دینے والی ہیں۔ حضرت یاسر (رضی اللہ عنہ) اصل میں یمن کے رہنے والے تھے، وہ اپنے ایک بھائی کی تلاش میں مکہ آئے اور یہیں بس گئے۔ انہوں نے ابو حذیفہ بن مغیرہ (بنو مخزوم کے سردار) سے حلیفانہ تعلق قائم کیا، جس نے اپنی ایک لونڈی حضرت سمیہ کا نکاح حضرت یاسر سے کر دیا۔ ان کے بطن سے حضرت عمار پیدا ہوئے۔ اس طرح یہ پورا خاندان بنو مخزوم کے زیرِ اثر تھا۔

جب اس خاندان نے اسلام قبول کیا، تو بنو مخزوم کا موجودہ سردار ابوجہل آگ بگولہ ہو گیا۔ وہ اس خاندان کو مکہ کی تپتی ہوئی وادی "ابطح" میں لے جاتا اور طرح طرح کی اذیتیں دیتا۔ انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا تاکہ ان کا جسم جھلس جائے۔ کبھی انہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینوں پر وزنی چٹانیں رکھ دی جاتیں۔ ساتھ ہی انہیں بار بار پانی میں ڈبویا جاتا (جو کہ واٹر بورڈنگ کی ایک قدیم شکل تھی) تاکہ وہ سانس نہ لے سکیں اور کفر کے کلمات کہیں۔

رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس سے گزرتے اور انہیں تڑپتا ہوا دیکھتے تو آپ ﷺ کا دل بھر آتا، لیکن اس وقت مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت نہ تھی کہ انہیں چھڑا سکیں۔ آپ ﷺ انہیں دیکھ کر فرماتے: "صَبْرًا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ" (اے آلِ یاسر! صبر کرو، یقیناً تمہارا ٹھکانہ جنت ہے)۔

حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہا) اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں۔ ابوجہل ان پر بدترین تشدد کرتا اور گالیاں دیتا، لیکن وہ کلمہ حق پر ڈٹی رہیں۔ ایک دن ابوجہل غصے میں آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے حضرت سمیہ کی شرمگاہ میں نیزہ مارا، جس سے وہ شہید ہو گئیں۔ حضرت سمیہ کی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد، ان کے شوہر حضرت یاسر بھی مسلسل تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یوں یہ میاں بیوی اسلام کے ابتدائی شہدا میں شامل ہوئے۔

حضرت عمار پر تشدد جاری رہا۔ ایک بار مشرکین نے انہیں اس قدر اذیت دی کہ وہ بے ہوش ہونے کے قریب ہو گئے اور ان کی زبان سے زبردستی اپنے بتوں کی تعریف کروائی۔ وہ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: "میں تو برباد ہو گیا"۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "تمہارا دل کیسا محسوس کرتا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "ایمان پر مطمئن ہے"۔ اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: "سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو" (سورۃ النحل: 106)۔

اسی وادی کا ایک ایک چپہ آج بھی امیہ بن خلف کے حضرت بلال پر کیے گئے مظالم کا چشم دید گواہ ہے۔ حضرت بلال بن رباح (رضی اللہ عنہ) پر ہونے والے مظالم تاریخِ اسلام کا وہ باب ہیں جو عشقِ رسول ﷺ اور توحید پر استقامت کی بے مثال داستان ہے۔ جب ان کے مالک امیہ بن خلف کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا، تو اس نے انہیں مرتد کرنے کے لیے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ امیہ بن خلف دوپہر کے وقت، جب مکہ کی ریت آگ کے انگارے بن جاتی تھی، حضرت بلال کو وادیِ ابطح میں لے جاتا۔ وہاں انہیں برہنہ کر کے پشت کے بل لٹا دیا جاتا، پھر ایک بہت بڑی اور وزنی چٹان ان کے سینے پر رکھ دی جاتی تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں۔ امیہ کہتا کہ "یا تو اسی حال میں مر جاؤ یا محمد (ﷺ) کا انکار کر کے لات اور عزیٰ کی بندگی قبول کرو۔" اس شدید تکلیف اور سانس رکنے کے عالم میں بھی حضرت بلال کی زبان سے صرف ایک ہی لفظ نکلتا تھا: "اَحَدٌ۔۔۔ اَحَدٌ" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)۔

امیہ بن خلف جب تشدد سے تھک جاتا تو مکہ کے شرارتی لڑکوں کو بلاتا۔ وہ حضرت بلال کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں مکہ کی گلیوں اور پہاڑی راستوں پر گھسیٹتے پھرتے۔ رسی کی رگڑ سے ان کی گردن زخمی ہو جاتی، لیکن وہ پھر بھی توحید کا ورد کرتے رہتے۔ کفارِ مکہ انہیں لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں بٹھا دیتے تھے۔ جب دھوپ کی حدت سے لوہا گرم ہو کر جسم کو جلانے لگتا، تو وہ ان سے کفر کے کلمات کہلوانے کی کوشش کرتے، مگر حضرت بلال کے پائے استقلال میں لغزش نہ آتی۔ تشدد کے ساتھ ساتھ انہیں کئی کئی دن تک بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا تاکہ ان کی جسمانی قوت جواب دے جائے، لیکن ان کی روحانی قوت جسمانی تکلیف پر غالب رہی۔

حضرت زنیرہ (رضی اللہ عنہا) ان چند ہستیوں میں شامل تھیں جنہوں نے مکہ میں اسلام کے بالکل ابتدائی ایام میں حق کو تسلیم کیا۔ اسلام لانے سے قبل، جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اسلام کے سخت مخالف تھے، وہ حضرت زنیرہ کو اسلام چھوڑنے کے لیے اس قدر مارتے تھے کہ خود تھک کر بیٹھ جاتے اور کہتے: "میں نے تمہیں مارنا اس لیے نہیں چھوڑا کہ مجھے تم پر رحم آ گیا ہے، بلکہ اس لیے چھوڑا ہے کہ اب میں تھک گیا ہوں"۔ حضرت زنیرہ کمالِ استقامت سے جواب دیتیں: "اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا اگر تم ایمان نہ لائے"۔ ابوجہل ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھاتا تھا۔ وہ انہیں تپتی ریت پر لٹاتا اور اس وقت تک مارتا جب تک وہ بے ہوش نہ ہو جاتیں۔ مسلسل تشدد کی وجہ سے ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت زنیرہ کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ مشرکینِ مکہ نے اسے ایک موقع سمجھا اور پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ "دیکھو! ہمارے بتوں لات اور عزیٰ نے زنیرہ کو اندھا کر دیا ہے کیونکہ اس نے ان کی توہین کی تھی"۔ حضرت زنیرہ نے اس نازک موڑ پر بھی ذرہ برابر کمزوری نہ دکھائی۔ انہوں نے بلند آواز میں کہا: "تم جھوٹ بولتے ہو! بیت اللہ کی قسم، لات اور عزیٰ تو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ یہ سب میرے اللہ کی طرف سے ہے اور میرا رب چاہے تو میری بینائی واپس دے سکتا ہے"۔

حضرت خباب بن ارت (رضی اللہ عنہ) ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کے بالکل آغاز میں حق کو قبول کیا، لیکن ان پر ہونے والے مظالم کی نوعیت دیگر صحابہ سے بھی زیادہ ہولناک تھی۔ حضرت خباب پر ہونے والا سب سے مشہور اور دلدوز ظلم یہ تھا کہ مشرکینِ مکہ انہیں ننگے بدن دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹا دیتے تھے۔ ظلم کی انتہا یہ کہ ایک شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ دیتا تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔ ان کی پیٹھ کی چربی پگھل کر ان انگاروں پر گرتی تھی، یہاں تک کہ وہ چربی ہی ان انگاروں کو بجھا دیتی تھی۔ سالوں بعد، جب حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا دورِ خلافت تھا، ایک مرتبہ حضرت خباب نے اپنی قمیص اٹھا کر اپنی پشت دکھائی۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے جب ان کی کمر پر سفید داغ اور گڑھے دیکھے تو کانپ گئے اور فرمایا: "میں نے آج تک ایسی پشت نہیں دیکھی۔"

ان کی مالکہ، ام انمار، جب دیکھتی کہ خباب (رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی محفل میں بیٹھتے ہیں، تو وہ غصے میں لوہے کی سلاخیں آگ میں سرخ کرتی اور ان کے سر یا کمر پر رکھ دیتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں مکہ کی تپتی ریت پر بھی لٹایا جاتا تھا۔ مشرکینِ مکہ انہیں گردن سے پکڑ کر اور بالوں سے گھسیٹ کر تپتی ہوئی زمین پر پھینک دیتے تھے۔ ان کا جسم زخموں سے چور ہو جاتا، لیکن ان کی زبان پر اللہ کی وحدانیت کا کلمہ جاری رہتا۔ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) پیشے کے لحاظ سے لوہار تھے اور تلواریں بناتے تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا، تو ان کے مشرک گاہکوں نے ان کے واجب الادا پیسے دینے سے انکار کر دیا۔ عاص بن وائل پر حضرت خباب کے کچھ پیسے واجب تھے۔ جب انہوں نے تقاضا کیا تو عاص نے بدتمیزی سے کہا: "میں تمہارے پیسے اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کرتے۔" حضرت خباب نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں مر کر دوبارہ زندہ ہونے تک بھی محمد (ﷺ) کا انکار نہیں کروں گا۔"

ایک مرتبہ حضرت خباب (رضی اللہ عنہ) ان مظالم سے تنگ آ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرمائیں گے؟ کیا آپ اللہ سے مدد نہیں مانگیں گے؟" نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا:

"تم سے پہلے ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیے گئے، جن کے جسموں کو لوہے کی کنگھیوں سے ادھیڑا گیا، مگر ان چیزوں نے انہیں دین سے نہیں پھیرا۔ اللہ کی قسم! یہ دین مکمل ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا۔"

اب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھیں کہ آپ اگر نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو کیا ان میں سے کسی ایک صحابی کو دی جانے والی اذیت سہہ پاتے اور پھر اپنے ایمان پر قائم رہتے؟ یقیناً ہم میں سے بہت سے نبی کریم ﷺ کی آواز پر لبیک نہ کہہ پاتے اور شاید کفر ہی کی حالت میں مر جاتے۔

قریش کے معبود صرف سامنے نظر آنے والے لات اور عزیٰ ہی نہیں تھے، بلکہ اللہ نے فرمایا: "کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟" آج یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ لات اور عزیٰ کے بت مسمار ہو گئے ہوں لیکن خواہشِ نفس کا بت پہلے سے بہت زیادہ مضبوطی کے ساتھ موجود ہے۔ اگر کوئی دورِ پیمبر ﷺ میں ہونے کی خواہش دل میں رکھتا ہے اور اپنے عقیدے میں سچا ہے، تو دورِ نبوت کی سب سے بڑی نشانی "قرآن مجید" آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اسے چاہیے کہ قرآن پر ویسے ہی عمل کرے جیسا صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کرتے تھے۔ اپنے اخلاق کو قرآن کے زاویے سے از سرِ نو ترتیب دے، اپنے معاملات میں قرآن کو حاکم بنائے اور عزت کا معیار قرآن سے اخذ کرے۔ تو مجھے یقین ہے کہ وہ روحانی طور پر پیغمبر ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہو جائے گا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home