رمضان: تزکیہِ نفس یا نمائشِ اسراف؟
اسلامی ضابطہ حیات کی بنیاد جن زریں اصولوں پر رکھی گئی ہے، ان میں 'سادگی' کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی طرزِ زندگی اور صحابہ کرامؓ کے اسوہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام جس معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے، وہاں ضروریاتِ زندگی کو محدود رکھنا عینِ عبادت ہے۔ سادگی دراصل انسان کو مادی زنجیروں سے آزاد کر کے اعلیٰ مقاصد کے لیے تیار کرتی ہے، جبکہ 'تکلف' اس کے الٹ ایک ایسی نفسیاتی قید ہے جو انسان کو نمود و نمائش کا غلام بنا دیتی ہے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ: "ہمیں تکلف (بناوٹ اور نمائش) اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔"
رمضان المبارک کا مہینہ تربیتی نقطہ نظر سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد صاحبِ وسائل انسانوں کے اندر اس بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس بیدار کرنا ہے، جس سے معاشرے کا پسا ہوا طبقہ اکثر و بیشتر دوچار رہتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار (متقی) بن جاؤ۔" (البقرہ: 183)
تقویٰ کا یہ تقاضا ہے کہ متمول افراد مال و دولت کو محض اپنے لیے ذخیرہ نہ کریں بلکہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ضرورت مندوں تک پہنچائیں اور 'غریب کشی' کے گناہِ عظیم سے بچ سکیں۔
دوسری جانب روزہ غریب پر بھی فرض کیا گیا، جس کی ایک گہری حکمت یہ نظر آتی ہے کہ دینِ اسلام اپنے پیروکاروں میں ایک 'مجاہدانہ کردار' کی تعمیر چاہتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو جس نظام کے قیام کا مشن سونپا، وہ نہایت کٹھن تھا۔ رمضان کا پورا مہینہ دراصل ایک ایسی مشق ہے جو مومن کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کڑے حالات میں بھوک، پیاس اور خواہشاتِ نفسانی پر قابو پا کر ثابت قدم رہ سکے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اپنے گرد و پیش میں سحری اور افطاری کے 'اہتمام' کو دیکھتے ہیں، تو وہاں سادگی کے بجائے 'تکلف' نمایاں نظر آتا ہے۔ جس چیز سے روکا گیا تھا، وہی ہمارے دسترخوانوں کی زینت بن چکی ہے۔ ہماری کھانے پینے کی روٹین عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔" (الاعراف: 31)
ایک اور مقام پر فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کا بھائی" قرار دیا گیا ہے۔
رمضان کے آغاز سے قبل ہی 'اہتمامِ رمضان' کے نام پر جس طرح اشیاء کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی جاتی ہے، اس سے نہ صرف مارکیٹ میں رسد کا توازن بگڑتا ہے بلکہ قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "ذخیرہ اندوزی صرف گنہگار ہی کرتا ہے۔" (صحیح مسلم)۔ یہ طرزِ عمل اس 'مجاہدانہ کردار' کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو روزے کا اصل تقاضا تھا۔ ایک طرف متمول طبقہ تعیش میں ڈوب کر روزے کی روح کو مجروح کرتا ہے، تو دوسری طرف وہ سفید پوش طبقہ جو عام دنوں میں بھی بمشکل گزر بسر کرتا ہے، اس مصنوعی مہنگائی کے ہاتھوں مزید پس کر رہ جاتا ہے۔
یاد رکھیے! رمضان 'ماہِ رحمت' اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے جب ہم اسے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اسکیم کے مطابق گزاریں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے "مواسات" یعنی غم خواری اور ہمدردی کا مہینہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم نے اسے محض لذتِ دہن اور تکلف کا ذریعہ بنا لیا تو ہم اس کے فیوض و برکات سے محروم رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں، دسترخوانوں کی طوالت کے بجائے اپنے تقویٰ کی گہرائی پر توجہ دیں اور سادگی کو شعار بنا کر رمضان کی اصل روح کو پانے کی کوشش کریں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home