Friday, 24 April 2026

پہلگام میں دہشت گردی: دونوں ریاستوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

پہلگام میں دہشت گردی: دونوں ریاستوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

یہ تحریر 25 اپریل 2024 کو فیس بک پیج کے لیے لکھی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ زئیر کی جا رہی ہے۔

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں معصوم سیاحوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے پر دونوں ریاستوں (بھارت اور پاکستان) نے غیر دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ دونوں کا رویہ ان کی عدم مخلصی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ ان کے اقدامات سے چھپے ہوئے ہتھکنڈے بھی عیاں ہوتے ہیں۔

بھارتی ردِعمل پر نظر ڈالی جائے تو اس حملے کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب امریکی نائب صدر بھارت کے دورے پر تھے۔ اگر ہم ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو جب امریکی صدر بل کلنٹن طویل بھارتی دورے پر تھے، تب بھی ایک ایسے ہی حملے میں 30 سکھ قتل کر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بھارتی انتخابات سے قبل بھی ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں، جو اکثر بھارت کی نو منتخب حکومت کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

بل کلنٹن کے دورے کے موقع پر بھی بھارت نے یہی موقف اپنایا تھا کہ پاکستان ایک غیر ذمہ دار اور دہشت گردوں کی سرپرست ریاست ہے۔ تب پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت قائم تھی۔ کلنٹن نے پاکستان کا محض چند منٹوں کا دورہ کیا اور مشرف کی سرزنش کر کے چلے گئے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جب یہ حالیہ واقعہ پیش آیا، نریندر مودی بھارت میں موجود نہیں تھے بلکہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ انہوں نے اپنا دورہ مختصر کیا، فوری وطن واپس پہنچے اور ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا۔ مودی صاحب کی یہ جلد بازی ذہنوں میں یہ تاثر چھوڑ رہی ہے کہ جیسے انہوں نے پہلے سے کوئی ذہن بنا رکھا تھا۔ یہاں "حسنِ واقعہ" سے زیادہ "حسنِ اہتمام" کی بو آ رہی ہے۔

"دی ریززسٹنس فرنٹ" نامی ایک گمنام تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بھارت نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے اسے لشکرِ طیبہ سے منسلک کر دیا اور ہمسایہ ریاست کے ساتھ تعلقات منقطع کرتے ہوئے تمام معاہدے ختم کر دیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت نے "دی ریززسٹنس فرنٹ" کے پاکستان سے مبینہ تعلق کے شواہد پاکستان کے حوالے کیے؟ کیا پاکستان نے ان شواہد کی بنیاد پر کسی کو قانون کی گرفت میں لانے سے انکار کیا؟ اگر ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی پاکستانی گروہ یا شہری اس میں ملوث ہے، تو کیا اسے ریاستِ پاکستان کا اقدام تصور کیا جائے گا؟

بھارت نے بغیر کسی مطالبے یا انتظار کے پاکستان کو قصوروار ٹھہرا دیا۔ پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا، واہگہ اور اٹاری بارڈر بند کر دیے گئے اور ساتھ ہی "سندھ طاس معاہدہ" بھی یکطرفہ طور پر ختم کر دیا۔ بہرحال، معصوم جانوں کے ضیاع پر دکھ ہے، لیکن بھارتی حکومت کے اقدامات اسے مشکوک بنا رہے ہیں۔

اب آتے ہیں پاکستانی اقدامات کی طرف۔ پاکستان نے جیسے ہی بھارتی اقدامات کی خبر سنی، فوری طور پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں عسکری و سول قیادت شریک ہوئی۔ پاکستان نے بھی جواب میں بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا، پہلے سے معطل تجارت کو مزید مقفل کر دیا اور واہگہ بارڈر کا اپنا دروازہ بھی بند کر دیا۔ چونکہ پاکستان کے پاس سندھ طاس جیسا کوئی معاہدہ نہیں تھا جس کے اثرات بھارت پر پڑتے، اس لیے "شملہ معاہدہ" منسوخ کر دیا گیا جس کے تحت بھارت نے جنگ میں قبضہ کی ہوئی 13,000 مربع کلومیٹر زمین پاکستان کو واپس کی تھی۔ اس معاہدے کی منسوخی کے بعد اس زمین کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کیا ہوگی، یہ ایک الگ بحث ہے۔

اگر ریاستِ پاکستان اس حملے میں ملوث نہیں تھی، تو اسے بھارتی اقدامات پر اسی شدت سے جواب دینے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ بھارت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس حملے کے ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں مدد کی یقین دہانی کرانی چاہیے تھی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ٹاسک فورس کی تجویز دینی چاہیے تھی۔ ملوث دہشت گردوں کے جو خاکے جاری کیے گئے، انہیں نادرا کے ڈیٹا بیس میں چیک کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ دوست ممالک میں متحرک سفیر بھیج کر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے تھی۔ لیکن پاکستان کے جوابی اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ 2019 کے بعد سے خاموش مشرقی سرحد پر ہلچل شاید ان کی بھی اندرونی خواہش ہے۔

اب دنیا بھارت کے بیانیے پر یقین کرے گی۔ بھارت عالمی برادری پر دباؤ ڈالے گا کہ جس طرح روس، حماس اور ایران پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ویسے ہی پاکستان کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ ساتھ ہی وہ اسرائیل کی طرز پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیوں کا جواز اور حمایت مانگے گا۔ تاہم یہ دونوں کام مشکل ہوں گے کیونکہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت کے تناظر میں دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے، اس لیے پاکستان پر اس سطح کی پابندیاں نہیں لگ سکیں گی اور نہ ہی اسرائیل جیسی فوجی حمایت مل سکے گی۔ اگر بھارت نے اپنے طور پر کوئی مہم جوئی (Adventure) کی تو وہ باقاعدہ جنگ کے بجائے اسی نوعیت کا کوئی حملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے بھارت نے پاکستان کو ممبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور بعد ازاں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا، جس کے اثرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

بہرحال، دونوں جانب غیر ذمہ دار قیادت مسلط ہے اور پونے دو ارب عوام مسلسل موت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home