Sunday, 12 April 2026

جلیانوالہ باغ کا بدلہ: اودھم سنگھ کی داستان

جلیانوالہ باغ کا بدلہ: اودھم سنگھ کی داستان

یہ 13 مارچ 1940 کی بات ہے۔ برطانوی دارالحکومت لندن کے کاکسٹن ہال میں 'ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن' کے زیرِ اہتمام ایک اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی عوام اور افواج کے گرتے ہوئے حوصلے بلند کرنے کے لیے ہندوستان میں برطانوی راج کی 'عظمتِ رفتہ' کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ اسٹیج پر 1919 میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر رہنے والے سر لیوس ڈینی، انڈیا اور برما کے سیکریٹری آف اسٹیٹ لارنس جان لملی ڈنڈاس، ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کے صدر چارلس سی بیلی اور طویل عرصے تک پنجاب کے گورنر رہنے والے سر مائیکل اوڈوائر براجمان ہیں۔

جیسے ہی مائیکل اوڈوائر تقریر کے لیے اسٹیج پر نمودار ہوئے اور تاجِ برطانیہ کے لیے اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فخریہ بیان دیا کہ "میں نے برطانوی پرچم کی سربلندی کے لیے کسی بھی موقع پر کمزوری نہیں دکھائی"، اور اپنی بات کی تقویت کے لیے 13 اپریل 1919 (بیساکھی) کو جلیانوالہ باغ امرتسر کے قتلِ عام کو بطور دلیل پیش کیا، تو ہال میں موجود ایک نوجوان نے اپنا ریوالور نکالا—جسے وہ ایک بڑی کتاب کے صفحات کاٹ کر اس میں چھپا لایا تھا—اور تین گولیاں مائیکل اوڈوائر کے سینے میں پیوست کر دیں۔ گولیوں کی زد میں آکر اسٹیج پر بیٹھے دیگر لوگ بھی زخمی ہوئے۔ ہال میں شور برپا ہو گیا اور افراتفری میں ہر کوئی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگا، مگر اس ہجوم میں اگر کوئی پرسکون کھڑا تھا تو وہ وہی "قاتل" تھا۔

پولیس نے اسے گرفتار کر لیا، جس نے نہ بھاگنے کی کوشش کی اور نہ ہی گرفتاری میں مزاحمت کی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ "تم کون ہو؟" تو اس نے گرجدار آواز میں جواب دیا: "رام محمد سنگھ آزاد"۔

یہ اودھم سنگھ تھے، جنہوں نے 19 برس کی عمر میں 1919 کے اس خونی دن جلیانوالہ باغ میں شرکت کی تھی۔ اس روز وہ شرکاء کو پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھے۔ رولٹ ایکٹ نے ہندوستان کے حالات پہلے ہی کشیدہ کر رکھے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم میں ہندوستان نے برطانیہ کی نہ صرف فوجی بلکہ مالی مدد بھی کی تھی۔ ہندوستانیوں نے بھوک کی بھٹی میں اپنی زندگیاں جھونکیں اور مہنگائی کے اژدھے کو گلے لگایا، کیونکہ انہیں امید تھی کہ جنگ کے خاتمے پر 'ہوم رول' کی صورت میں مفید آئینی اصلاحات نافذ ہوں گی۔ لیکن جب برطانیہ جنگ جیت گیا، تو مقامی لوگوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سڈنی رولٹ کا تجویز کردہ 'رولٹ ایکٹ' نافذ کر دیا گیا۔ اس قانون میں انفرادی آزادیوں پر ایسی پابندیاں لگائی گئیں کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔ کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکتا تھا اور دو ماہ تک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے بغیر تفتیشی حراست میں رکھا جا سکتا تھا۔ ملزم کو فردِ جرم کی کاپی اور وکیل یا اپیل کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اسی پر لاہور کے ایک اخبار نے "نہ دلیل، نہ وکیل، نہ اپیل" کے عنوان سے تبصرہ شائع کیا۔

30 مارچ 1919 سے دہلی اور پنجاب بغاوت کی چنگاری سے سلگ رہے تھے۔ گاندھی جی کو پنجاب آنے سے روک دیا گیا اور انگریزوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی تھی۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ستیہ پال کو امرتسر سے شہر بدر کر دیا گیا۔ بیساکھی کی تقریبات سے آزادی کی خوشبو آ رہی تھی۔ پنجاب کے گورنر مائیکل اوڈوائر نے لاہور اور امرتسر میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور جنرل ڈائر کو حالات پر قابو پانے کے مکمل اختیارات دے دیے۔

جنرل ڈائر نے امرتسر کے فوجی کمانڈر کی حیثیت سے شہر کا گشت کیا اور اعلان کیا کہ رات آٹھ بجے سے کرفیو ہوگا اور کسی بھی عوامی اجتماع یا چار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ یہ اعلان انگریزی، اردو، ہندی اور پنجابی میں سنایا گیا، مگر بعد کے واقعات سے معلوم ہوا کہ بہت کم لوگوں تک یہ اطلاع پہنچی۔ جب مقامی خفیہ پولیس کو پتہ چلا کہ جلیانوالہ باغ میں عوامی اجتماع ہونے والا ہے، تو ڈائر کو دوپہر 12:40 پر اس کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد اس نے کارروائی کی تیاری شروع کر دی۔

دوپہر تک ہزاروں سکھ، مسلمان اور ہندو جلیانوالہ باغ میں جمع ہو چکے تھے۔ بہت سے لوگ گولڈن ٹمپل میں عبادت کے بعد باغ کے راستے گھروں کو جا رہے تھے۔ باغ چھ یا سات ایکڑ پر محیط ایک کھلا علاقہ تھا جس کے گرد تقریباً دس فٹ اونچی چار دیواری تھی۔ اس میں داخلے کے کل پانچ تنگ راستے تھے جن میں سے کئی مقفل تھے۔ باغ کے مرکز میں ایک سمادھی اور بیس فٹ چوڑا کنواں بھی واقع تھا۔

بیساکھی کے میلے کی وجہ سے باغ میں تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد جمع تھے۔ ساڑھے چار بجے اجتماع شروع ہوا اور ایک گھنٹے بعد جنرل ڈائر 90 گورکھا فوجیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ ان میں سے 50 کے پاس 'تھری ناٹ تھری' رائفلیں تھیں۔ مشین گنوں سے لیس دو بکتر بند گاڑیاں بھی لائی گئی تھیں، مگر راستے تنگ ہونے کی وجہ سے وہ باہر ہی رہ گئیں۔

ڈائر نے مجمع کو کوئی تنبیہ دیے بغیر اہم داخلی راستے بند کر دیے اور فائرنگ کا حکم دے دیا۔ اس نے بعد میں اعتراف کیا، "میرا مقصد مجمع منتشر کرنا نہیں بلکہ ہندوستانیوں کو سزا دینا تھا"۔ فائرنگ تب روکی گئی جب گولیاں تقریباً ختم ہو گئیں؛ اندازاً 1650 کارتوس چلے۔ بھگدڑ کی وجہ سے بہت سے لوگ کچلے گئے اور کئی نے جان بچانے کے لیے کنویں میں چھلانگ لگا دی، جہاں سے بعد میں 120 لاشیں نکالیں۔ کرفیو کے باعث زخمیوں کو طبی امداد بھی نہ مل سکی اور وہ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گئے۔

ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف ہے۔ سرکاری اعداد و شمار 379 بتاتے ہیں، جبکہ انڈین نیشنل کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق زخمیوں کی تعداد 1500 سے زائد اور ہلاکتیں 1000 کے لگ بھگ تھیں۔ ونسٹن چرچل نے بھی اسے "خوفناک" قرار دیا۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اس قتلِ عام کے خلاف احتجاجاً اپنا برطانوی خطاب "سر" (Sir) واپس کر دیا اور وائسرائے کو لکھا کہ "میں تمام اعزازات چھوڑ کر اپنے ہم قوموں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہوں"۔

اودھم سنگھ نے مقدمے کے دوران عدالت میں کہا:

"میں نے یہ کام اس لیے کیا کیونکہ مجھے اس (اوڈوائر) سے نفرت تھی۔ وہ اسی کا مستحق تھا۔ اس نے میری قوم کی روح کچلنے کی کوشش کی تھی، اس لیے میں نے اسے کچل دیا۔ میں 21 سال تک اس بدلے کی تیاری کرتا رہا۔ میں خوش ہوں کہ آخرکار کام مکمل ہو گیا۔ مجھے موت کا کوئی خوف نہیں۔"

اودھم سنگھ نے پھانسی کے پھندے کو بوسہ دیا اور ان کا بیان آج بھی حریت پسندوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ افسوس کہ وقت کی ستم ظریفی دیکھیے، آج شاید قصیدہ خواں ہی قومی ہیرو ٹھہریں اور تختہ دار پر چڑھنے والے "سرپھرے" کہلائیں، لیکن رام محمد سنگھ آزاد صاحب! ہم آپ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home