Tuesday, 7 April 2026

ہجرت کبھی ناکام نہیں رہنے دیتی

ہجرت کبھی ناکام نہیں رہنے دیتی  

پہلا تناظر: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہجرت کا حکم دیا تو قریش مکہ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ہجرت سے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن صحابہ اکرام اپنی ہجرت کی سرگرمیوں کو مخفی رکھتے تھے اس لیے ہجرت میں کامیابی حاصل رہی۔ اب قریش مکہ نے ان مہاجر مسلمانوں کی جائیدادوں اور ان کے اموال پہ قبضہ ناحق کر لیا۔ قریش کا یہ رویہ قابل مذمت تھا اللہ نے مہاجرین کو اجر بھی دیا اور مال بھی کہیں گنا زیادہ عطا کر دیا. کفار مکہ مہاجروں کی جائیدادوں پہ قابض ہونے کے باوجود محض دس سالوں میں مہاجر مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہو گئے۔

دوسرا تناظر: ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ نئے ہندوستان میں مسلمان اور پاکستان میں غیر مسلم اقوام کے لیے عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا سکھ ہندو اپنے گھر بار، مال مویشی زمینیں جائیدادیں چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے بیشتر راستے میں مارے گئے ان کے اموال پہ ہم نے خوب ہاتھ صاف کیا۔ ہر چیز لوٹ لی۔ یہی حال ہندوستان میں مسلمانوں کا ہوا۔ پھر ہم سب نے دیکھا مہاجر حضرات نے نئی ہجرت گاہوں میں آ کر خوب کام کیا اور جلد ہی معاشی خوشحالی ان کے دروازوں کی زینت بنی۔ لوٹنے والے وہیں کے وہیں رہے جب کہ ہجرت کر کے انیوالے جلد معاشی مراکز پہ چھا گئے۔
تیسرا تناظر : 80 کی دہائی میں افغانستان دنیا کی سیاست کی آماجگاہ بنا روس گرم پانی تک آنے کے لیے افغانستان میں گھس آیا امریکہ بہادر اسلام کا علمبردار بنا اور جہاد کی عظیم ذمہ داری اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کی شراکت میں پاکستان کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں چڑھ دوڑے۔ افغان لوگ اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان میں آئے پاکستان میں انہوں نے شائد کوئی ایسا کام ہو جو نہ کیا ہو۔ جوتیاں مرمت کرنے پالش کرنے سے لیکر ڈرائیوری محنت مزدوری ہر طرح کا کام کیا لیکن بھیک نہیں مانگی۔ قدرت نے اپنے اصول کے تحت ان مہاجرین کا بازو پکڑنا خود پہ لازم کر رکھا ہے۔ وہی افغان مہاجر ہر جگہ گلی گلی نگر نگر کام کرتے نظر آنے لگے۔
چوتھا تناظر :اب پاکستان کو انہی افغان مہاجرین میں کیڑے نظر آنا شروع ہوئے جن کے نام پہ اربوں ڈالرز ہمارے جنرلوں کے جیب میں گئے جس سے بیرون ملک جزیرے تک خریدے گئے۔ حکومت نے طے کیا کہ ان کو پھر ہجرت پہ مجبور کیا جائے افغان شہریوں کو پاکستان سے نکالا جانے لگا۔ کل اینکر پرسن حامد میر نے ویڈیو شئیر کی کہ ایک افغان شہری جس کو حکومت نے ملک نے نکالنے کے لیے پکڑا پاکستانیوں نے اس کی دکان کو لوٹ لیا۔ اور اس طرح ایک مرتبہ پھر افغان شہریوں کی قسمت میں ہجرت لکھی جا رہی ہے۔ ہجرت بظاہر ایک محرومی نظر آتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک نئی اور زیادہ مضبوط زندگی کا دیباچہ ثابت ہوتی ہے۔

ہجرت کا پہلا پہلو انسانی عزم اور بقا کی جنگ سے متعلق ہے۔ جب کوئی انسان اپنا گھر بار، زمین اور مانوس ماحول چھوڑ کر کسی انجانی جگہ ہجرت کرتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنی جائیداد تو نہیں لے جا سکتا، لیکن اپنا ہنر اور "کچھ کر گزرنے کا جنون" ضرور ساتھ لاتا ہے۔ مقیم لوگ (مقامی باشندے) اکثر سہل پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تحفظ کی ایک جھوٹی حس ہوتی ہے، جبکہ مہاجر کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور پانے کے لیے پوری دنیا پڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان مہاجرین ہوں یا تقسیمِ ہند کے لٹے پٹے قافلے، انہوں نے چھوٹے سے چھوٹے کام کو عار نہیں سمجھا اور یہی محنت انہیں معاشی طور پر اس مقام پر لے آئی جہاں لوٹنے والے محض ان کا منہ دیکھتے رہ گئے۔

دوسرا اہم پہلو اخلاقیات اور معاشی برکت کا ہے۔ تحریر میں مکہ کے کفار سے لے کر سرحدوں کے لٹیروں اور موجودہ دور کے بدعنوان عناصر کا جو موازنہ کیا گیا ہے، وہ ایک بہت بڑی سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے: "حرام یا چھینی ہوئی دولت کبھی کسی قوم یا فرد کو استحکام نہیں بخشتی۔" جائیدادوں پر قبضہ کر لینے سے عارضی طور پر تو تجوریاں بھر جاتی ہیں، لیکن وہ "خلاقیت" اور "برکت" ختم ہو جاتی ہے جو معیشت کو دوام بخشتی ہے۔ لوٹنے والا ذہنی طور پر دوسروں کے مال پر تکیہ کر لیتا ہے، جس سے اس کی اپنی ترقی کی صلاحیت زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف، مہاجر کی محنت اس کے لیے نئے معاشی مراکز کے دروازے کھول دیتی ہے، جیسا کہ ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ ہجرت کرنے والے گروہ جلد ہی بڑے تاجر اور صنعت کار بن کر ابھرے۔

آخری بات یہ ہے کہ ہجرت کا عمل اللہ کے اس وعدے کی عملی تفسیر ہے کہ "تنگی کے ساتھ آسانی ہے"۔ تحریر کے مطابق، ہجرت انسان کو "کمفرٹ زون" سے نکال کر اسے قدرت کے ان اصولوں سے جوڑ دیتی ہے جہاں صرف وہی زندہ رہتا ہے جو متحرک رہتا ہے۔ پاکستان میں موجودہ حالات اور افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر جو تبصرہ کیا گیا ہے، وہ ایک تنبیہ بھی ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ جو آج دوسروں کو بے گھر کر کے ان کے اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، وہ قدرت کے قانون کے مطابق زوال کا شکار ہوں گے، جبکہ وہ جو محنت اور توکل کے ساتھ دوبارہ ہجرت کر رہے ہیں، وہ کسی نئی سرزمین پر دوبارہ عروج حاصل کر لیں گے۔ ہجرت کبھی ناکام نہیں ہوتی کیونکہ یہ انسان کو مٹی سے جوڑ کر اسے دوبارہ زیرو سے ہیرو بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اس لیے یہ مہاجر تھوڑے مشکل وقت میں ضرور آئے ہیں لیکن اللہ کا ان کے ساتھ اچھے وقت کا وعدہ ہے۔ یہ ضرور معاشی طور پہ مستحکم ہوں گے۔ لوٹنے والے کبھی خوشحال نہیں ہو سکتے۔ چاہے وہ مکہ کے کافر ہوں، تقسیم ہندوستان کے وقت بارڈر کے اطراف میں لٹیرے ہوں، یا پاکستانی جو ہر وقت مہاجروں کی جائیدادوں کو لوٹنے کی طاق میں رہتے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home