ہجرت کبھی ناکام نہیں رہنے دیتی
پہلا تناظر: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہجرت کا حکم دیا تو قریش مکہ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ہجرت سے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن صحابہ اکرام اپنی ہجرت کی سرگرمیوں کو مخفی رکھتے تھے اس لیے ہجرت میں کامیابی حاصل رہی۔ اب قریش مکہ نے ان مہاجر مسلمانوں کی جائیدادوں اور ان کے اموال پہ قبضہ ناحق کر لیا۔ قریش کا یہ رویہ قابل مذمت تھا اللہ نے مہاجرین کو اجر بھی دیا اور مال بھی کہیں گنا زیادہ عطا کر دیا. کفار مکہ مہاجروں کی جائیدادوں پہ قابض ہونے کے باوجود محض دس سالوں میں مہاجر مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہو گئے۔
ہجرت کا پہلا پہلو انسانی عزم اور بقا کی جنگ سے متعلق ہے۔ جب کوئی انسان اپنا گھر بار، زمین اور مانوس ماحول چھوڑ کر کسی انجانی جگہ ہجرت کرتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنی جائیداد تو نہیں لے جا سکتا، لیکن اپنا ہنر اور "کچھ کر گزرنے کا جنون" ضرور ساتھ لاتا ہے۔ مقیم لوگ (مقامی باشندے) اکثر سہل پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تحفظ کی ایک جھوٹی حس ہوتی ہے، جبکہ مہاجر کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور پانے کے لیے پوری دنیا پڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان مہاجرین ہوں یا تقسیمِ ہند کے لٹے پٹے قافلے، انہوں نے چھوٹے سے چھوٹے کام کو عار نہیں سمجھا اور یہی محنت انہیں معاشی طور پر اس مقام پر لے آئی جہاں لوٹنے والے محض ان کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
دوسرا اہم پہلو اخلاقیات اور معاشی برکت کا ہے۔ تحریر میں مکہ کے کفار سے لے کر سرحدوں کے لٹیروں اور موجودہ دور کے بدعنوان عناصر کا جو موازنہ کیا گیا ہے، وہ ایک بہت بڑی سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے: "حرام یا چھینی ہوئی دولت کبھی کسی قوم یا فرد کو استحکام نہیں بخشتی۔" جائیدادوں پر قبضہ کر لینے سے عارضی طور پر تو تجوریاں بھر جاتی ہیں، لیکن وہ "خلاقیت" اور "برکت" ختم ہو جاتی ہے جو معیشت کو دوام بخشتی ہے۔ لوٹنے والا ذہنی طور پر دوسروں کے مال پر تکیہ کر لیتا ہے، جس سے اس کی اپنی ترقی کی صلاحیت زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف، مہاجر کی محنت اس کے لیے نئے معاشی مراکز کے دروازے کھول دیتی ہے، جیسا کہ ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ ہجرت کرنے والے گروہ جلد ہی بڑے تاجر اور صنعت کار بن کر ابھرے۔
آخری بات یہ ہے کہ ہجرت کا عمل اللہ کے اس وعدے کی عملی تفسیر ہے کہ "تنگی کے ساتھ آسانی ہے"۔ تحریر کے مطابق، ہجرت انسان کو "کمفرٹ زون" سے نکال کر اسے قدرت کے ان اصولوں سے جوڑ دیتی ہے جہاں صرف وہی زندہ رہتا ہے جو متحرک رہتا ہے۔ پاکستان میں موجودہ حالات اور افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر جو تبصرہ کیا گیا ہے، وہ ایک تنبیہ بھی ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ جو آج دوسروں کو بے گھر کر کے ان کے اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، وہ قدرت کے قانون کے مطابق زوال کا شکار ہوں گے، جبکہ وہ جو محنت اور توکل کے ساتھ دوبارہ ہجرت کر رہے ہیں، وہ کسی نئی سرزمین پر دوبارہ عروج حاصل کر لیں گے۔ ہجرت کبھی ناکام نہیں ہوتی کیونکہ یہ انسان کو مٹی سے جوڑ کر اسے دوبارہ زیرو سے ہیرو بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home