Sunday, 12 April 2026

مذہبی رواداری: ایک نیا سوشل کانٹریکٹ، کیا سمجھوتہ ممکن ہے؟

مذہبی رواداری: ایک نیا سوشل کانٹریکٹ، کیا سمجھوتہ ممکن ہے؟

سندھ میں پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سندھ کی ہندو برادری نے بھی شرکت کی۔ پیپلز پارٹی کے منتظمین نے دانشمندانہ سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذہبی رواداری کی خاطر ضیافت میں گوشت کی کوئی ڈش شامل نہیں کی۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جسے سراہے جانے کی ضرورت تھی، مگر ہمارے میڈیا کو اقدار کی اس خوبصورت نمائش میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے برعکس، دو روز قبل بھارت میں ایک اور مسلمان کو گائے ذبح کرنے کے شبہ میں مار دیا گیا، جسے ہندو انتہا پسندانہ جنون کے مظہر کے طور پر پیش کیا گیا۔ کیا ہم کبھی 'سمجھوتہ' کرنے کی اس سوچ کو پروان چڑھتا دیکھ سکیں گے؟

"عمل اور ردعمل مقدار میں برابر اور سمت میں مخالف ہوتے ہیں"؛ یہ اصول اگرچہ ایک غیر مسلم سائنسدان (نیوٹن) نے بیان کیا تھا، لیکن شاید اسی لیے ہم نے کبھی اس پر غور کر کے اپنے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مذہبی رواداری کی حد بیان کرتے ہوئے پیروکارانِ اسلام کو ارشاد فرماتا ہے: "اور (اے مسلمانوں!) تم ان (مشرکوں) کے جھوٹے خداؤں کو گالی مت دو"۔ اس کی وجہ بھی خود ہی بیان فرما دی: "کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جہالت میں حد سے گزر کر تمہارے سچے رب کی شان میں گستاخی کریں"۔ یعنی کسی کے معبود کا جھوٹا ہونا بھی اس کی تحقیر کا جواز نہیں بن سکتا۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بد بخت ہے وہ شخص جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے"۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: "یا رسول اللہ! ایسا کون (بدبخت) ہو سکتا ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جو دوسرے کے ماں باپ کو گالی دے اور بدلے میں وہ (دوسرا شخص) اس کے ماں باپ کو گالی دے"۔ قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت اور نبی مکرم ﷺ کے اس فرمان کو اگر مذہبی رواداری کے تناظر میں دیکھا جائے، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک انتہا پسندانہ رویے کو صدیوں سے پروان چڑھا رہے ہیں۔

توہینِ رسالت ﷺ، توہینِ مذہب یا شعائرِ مذہب کی توہین پر موت کی سزا ہماری دینی غیرت کا تقاضا ہے۔ تو کیا یہ حق دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہو سکتا؟ اگر مقدس ہستیوں کی توہین پر اتنی بڑی سزا دی جا سکتی ہے، تو کسی مذہب کے نزدیک 'مقدس' جانور کو ذبح کرنے پر امن کی توقع کرنا کس حد تک منصفانہ ہے؟ کیا دوسروں کے مذہبی جذبات کی قدر کیے بغیر اپنے جذبات کی قدر کا مطالبہ کرنا قابلِ فہم ہے؟

برصغیر کی تاریخ کا مشہور مقدمہ 'غازی علم الدین شہید' بھی اسی طرزِ فکر سے پیدا ہوا۔ جس کتاب (رنگیلا رسول) میں نبی کریم ﷺ کی زندگی پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش کی گئی تھی، اس کے جواب میں پبلشر راجپال قتل ہوا۔ علم الدین شہید سے قبل عبدالعزیز اور خدا بخش نامی دو مسلمانوں نے بھی اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بچ نکلا۔ بعد ازاں عبدالرحمن نامی ایک شخص نے غلط شناخت کی بنیاد پر کسی اور کو قتل کر دیا۔ ان واقعات کو ہم اکثر 'ایمان کی روح' تازہ کرنے کے لیے سناتے ہیں، لیکن کبھی یہ گفتگو نہیں ہوتی کہ اس کتاب کی اشاعت کا محرک کیا تھا؟ وہ کتاب بھی دراصل قرآن پاک کے اسی اصول سے انحراف کا نتیجہ تھی، کیونکہ وہ ایک 'ردعمل' تھا۔ ایک مسلمان نے ہندوؤں کے بھگوان رام کی شریکِ حیات سیتا کے بارے میں ایک نازیبا کتابچہ لکھا تھا۔ اس وقت کے علماء نے اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا، لیکن یہ بھول گئے کہ اس کا ردعمل کس عظیم ہستی کی طرف آئے گا اور کتنے دل ٹوٹیں گے۔

کچھ برس قبل امریکی پادری ٹیری جونز نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی اور اس کی ویڈیو وائرل کر دی۔ اس نے اپنے اس قبیح عمل کی وجہ یہ بتائی کہ مسلم ممالک میں مظاہروں کے دوران امریکی پرچم نذرِ آتش کیا جاتا ہے، جو ایک غیور قوم کی عظمت کی علامت ہے؛ اس کے ردعمل میں، میں ان کی مقدس کتاب جلا رہا ہوں۔ اس واقعے پر امتِ مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، یوٹیوب پر پابندی لگی اور امریکہ مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی۔ لیکن کسی نے ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق، کیا کہیں نہ کہیں ہم بھی اس واقعے کے ذمہ دار ہیں؟ اگر ہماری مذہبی جماعتیں امریکی پرچم جلانا 'فرضِ عین' سمجھتی ہیں، تو کیا وہ قرآن کی بے حرمتی کو اپنے اس عمل کا ردعمل ماننے کو تیار ہیں؟

دنیا میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس درجہ حاصل ہے۔ ہم صدیوں ساتھ رہے لیکن اس مسئلے پر کوئی باہمی اتفاقِ رائے پیدا نہ کر سکے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود حکمران تھے، تو انہیں سرکاری سرپرستی میں سب کچھ کرنے کی آزادی تھی۔ لیکن پھر وقت نے کروٹ لی، مسلمان محکوم ہوئے مگر اطوار بدستور حکمرانہ رہے۔

ہمارے مذہب نے صرف گائے ہی کی قربانی کا حکم تو نہیں دیا۔ کئی حلال جانور ایسے ہیں جن سے گوشت کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اجتماعی طور پر 80 کروڑ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کی قدر کرتے ہوئے گائے کی قربانی نہ کرنے کا اعلان کر دیں؟ ایسا کرنے سے مسلمانوں کا ایک مثبت اور روادار امیج ابھرے گا۔ اگر امامِ کعبہ بین الاقوامی مذہبی رواداری کے تناظر میں ایسا کوئی مشورہ دیں، تو یہ ایک عظیم جرات ہوگی۔

اگر گائے ذبح کرنے پر کسی ہندو کے ہاتھوں مسلمان مارا جائے تو یہ 'جنونی انتہا پسندی' کہلاتی ہے، تو اسی وقت کسی مسلمان کا توہینِ مذہب پر کسی کو قتل کر دینا کیسے 'احسن' ہو سکتا ہے؟ مذہب چاہے کسی کا بھی ہو، وہ یکساں وابستگی مانگتا ہے۔ آج ایک نئے سوشل کانٹریکٹ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، جس میں رواداری کی بنیاد پر معاشرے کی ازسرِ نو تشکیل ہو۔ مذہب انتہا پسندی نہیں سکھاتا، مگر اس کی 'انسانی تشریح' اس عنصر سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ دین کی روح کو کوئی نہیں جانتا۔ اگر اللہ نے "لکم دینکم ولی دین" (تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین) کہہ کر اسے نجی معاملہ قرار دیا ہے، تو ہمیں بھی اسی اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے مذہبی رواداری کو اپنا شعار بنانا چاہیے اور ایک دوسرے سے سمجھوتہ کرنا سیکھنا چاہیے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home