Friday, 29 May 2026

جسٹس ایم آر کیانی کی کتاب The whole Truth ایک نظر میں


 جسٹس ایم آر کیانی کی کتاب The whole Truth ایک نظر میں

جسٹس محمد رستم کیانی، جنہیں عام طور پر جسٹس ایم آر کیانی کے نام سے جانا جاتا ہے، پاکستان کی عدلیہ اور بیوروکریسی کی تاریخ میں ایک روشن اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ صرف ایک قانون دان یا جج نہیں تھے، بلکہ ایک فکری رہنما، صاحبِ طرز مزاح نگار، اور حقیقت پسند نقاد بھی تھے۔ ان کا اندازِ بیان، شگفتہ مزاح، اور بے لاگ تبصرے آج بھی ذہنوں کو جھنجھوڑتے اور قہقہے بکھیرتے ہیں۔
کیانی صاحب کا تعلق پنجاب کے ایک علمی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانوی ہندوستان کے سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کا حصہ بنے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حق گوئی تھی؛ وہ سچ کو سچ کہنے کا حوصلہ رکھتے تھے، چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
ان کے خطبات، تقاریر اور تحریریں اس زمانے میں بھی باعثِ حیرت و تفکر تھیں جب ریاستی سطح پر اختلافِ رائے کو پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان کا ایک جملہ جو آج بھی تاریخ میں محفوظ ہے:
"Patriotism is the last refuge of a scoundrel"
یہ اقتباس دراصل ڈاکٹر سیموئل جانسن کا ہے، لیکن جسٹس کیانی نے اسے پاکستانی سیاق و سباق میں اس انداز سے استعمال کیا کہ آج بھی سیاسی و سماجی حلقے اس پر بحث کرتے ہیں۔
The Whole Truth
دراصل جسٹس کیانی کی مختلف تقاریر، مضامین اور مشاہدات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مختلف مواقع پر پیش کیے۔ یہ کتاب ایک عام سوانح عمری یا عدالتی مقدمات کی تکنیکی تفصیل نہیں بلکہ پاکستان کی ابتدائی بیوروکریسی، عدلیہ، اور سیاسی نظام پر ایک ذہین ناظر کی گہرے مشاہدے کی جھلک ہے۔
اس کتاب کا اسلوب طنز و مزاح سے بھرپور ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک گہری سنجیدگی اور سچائی پنہاں ہے۔ کیانی صاحب نے نظام کی خامیوں، افسر شاہی کے تکبر، سیاستدانوں کی بددیانتی اور عوام کی بے حسی کو اس مہارت سے قلمبند کیا ہے کہ قاری ہنستے ہنستے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
جسٹس کیانی کا اندازِ تحریر نثری طنز کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ وہ لفظوں سے کھیلتے نہیں بلکہ انہیں چبھتے ہوئے نشتر کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں بظاہر شگفتگی اور لطافت ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ سماجی و سیاسی نظام پر ایک زہریلا سوالیہ نشان ہوتا ہے۔
مثلاً، وہ لکھتے ہیں:
"میں نے کبھی کسی افسر کو کام کرتے نہیں دیکھا، البتہ کام کے بارے میں بات کرتے ضرور دیکھا ہے۔"
ایسے جملے بظاہر لطیفہ محسوس ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ پاکستانی بیوروکریسی کی سست روی، رسمی تقاریر اور عملی اقدامات کے فقدان پر ایک گہری تنقید ہیں۔
The Whole Truth
میں جسٹس کیانی نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، ان میں مندرجہ ذیل اہم ہیں:
1. بیوروکریسی کا کردار:
کیانی صاحب خود سول سروس سے وابستہ رہے، اس لیے انہوں نے اندرونی خامیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ وہ افسران کی بے عملی، رسمی رویوں اور خود کو قانون سے بالا سمجھنے کی نفسیات پر بھرپور تنقید کرتے ہیں۔
2. عدالتی نظام:
بطور جج، وہ عدالتی نظام کی خامیوں، وکلا کی چالاکیوں، اور فیصلوں میں تاخیر جیسے موضوعات پر نہایت نرمی سے مگر واضح انداز میں تنقید کرتے ہیں۔
3. سیاست اور حب الوطنی:
جسٹس کیانی سیاستدانوں کی منافقت اور حب الوطنی کے دعووں کو طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کیسے حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر بددیانتی کو چھپایا جاتا ہے۔
4. معاشرتی رویے:
کتاب میں وہ عوام کے مجموعی رویوں، خاموشی، بے حسی، اور شخصیت پرستی پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
منتخب اقتباسات کا تجزیہ
1. "میری نظر میں وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جو اپنے دشمن کا سامنا کرنے کی بجائے اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالتی رہے۔"
یہ اقتباس پاکستانی سیاسی و سماجی رویوں پر ایک گہرا طنز ہے جہاں ہر بحران کا الزام "باہر کی سازش" پر ڈال دیا جاتا ہے۔
2. "ہم لوگ قانون کو کتاب میں مقدس مانتے ہیں، مگر عمل میں اسے ردی سمجھتے ہیں۔"
یہ فقرہ ہمارے قانون پسند معاشرے کی اصل تصویر ہے، جہاں قانون کی کتابیں تو موجود ہیں، مگر ان پر عملداری ندارد۔
اگرچہ The Whole Truth کئی دہائیوں پہلے لکھی گئی، لیکن اس کے موضوعات اور مشاہدات آج بھی اتنے ہی زندہ اور برمحل ہیں۔ جسٹس کیانی نے جو سچ اس وقت کہا، وہ آج بھی ہمارے معاشرے، عدلیہ، بیوروکریسی اور سیاست میں جوں کا توں موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اب طنز کو برداشت کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔
یہ کتاب نہ صرف قانون، تاریخ یا بیوروکریسی کے طلبا کے لیے مفید ہے، بلکہ ہر اس شخص کے لیے رہنما ہے جو پاکستان کی فکری، سماجی اور ریاستی ساخت کو سمجھنا چاہتا ہے۔
جسٹس کیانی کا اندازِ تحریر جہاں ایک طرف قاری کو محظوظ کرتا ہے، وہیں بعض اوقات یہ طنز اتنا گہرا اور بالواسطہ ہو جاتا ہے کہ عام قاری کے لیے مفہوم اخذ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ کتاب کا بیشتر مواد تقاریر اور غیر رسمی مشاہدات پر مشتمل ہے، اس لیے اس میں ایک منظم بیانیہ یا تسلسل کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود، کتاب کی سب سے بڑی طاقت اس کا بے لاگ سچ اور شگفتہ اندازِ بیان ہے۔ جسٹس کیانی کا کمال یہ ہے کہ وہ بظاہر ہنسی مذاق میں وہ سچ بول دیتے ہیں جو دوسروں کو کہنے کی جرأت نہیں ہوتی ہے۔
یعنی The Whole Truth ایک ایسی کتاب ہے جو پاکستان کے فکری سفر کا ایک آئینہ ہے۔ یہ نہ صرف ایک جج کی خود نوشت نہیں بلکہ ایک معاشرے کی اخلاقی و ذہنی تشکیل کا نوحہ بھی ہے۔ جسٹس ایم آر کیانی کا مزاح تلخ سہی، مگر وہ ہمیں جگانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ کتاب ہر اس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو پاکستان کو سمجھنا چاہتا ہے — اس کے اداروں، اس کے کرداروں، اور اس کی خامیوں کو۔ اور اگر ہم واقعی بہتری کے خواہاں ہیں، تو ہمیں کیانی جیسے سچ بولنے والوں کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home