Friday, 3 July 2026

جیل میں شیشے کے برتن استعمال کرنے کا مریم نواز کا دعویٰ اور قانون

 جیل میں شیشے کے برتن استعمال کرنے کا مریم نواز کا دعویٰ اور قانون

تحریر : ابو بکر صدیق
پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جیل کے ایام میں سے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس کا مقصد جیل کے دوران ان پہ کی جانیوالی سختی کو بیان کرنا تھا اور ساتھ ہی یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ انہوں نے جیل مصائب بھری زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ دوران جیل ایک مرتبہ ان کا شوگر لیول ڈاون ہو گیا تو انہوں نے اپنی مدد کے لیے سب کو پکارا مگر کسی نے ان کی کوئی مدد نہ کی۔ پھر ان کے پاس شیشے کی بوتل میں گُڑ پڑا ہوا تھا جسے وہ پکڑنے لگیں تو بوتل ٹوٹ گئی اور انہیں زمین سے اٹھا کر وہ گُڑ کھانا پڑا۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہم مریم نواز صاحبہ کے اس دعوی کو جھٹلا نہیں رہے عین ممکن ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو لیکن ہم اسے اگر قانون کی نگا ہ سے دیکھا جائے تو اس دعویٰ میں کئی سقم موجود ہیں۔ پاکستان کے جیل قوانین کا بنیادی ڈھانچہ پرزنس ایکٹ 1894 (The Prisons Act, 1894) اور پاکستان پرزنز رولز 1978 (Pakistan Prisons Rules, 1978) پر مبنی ہے۔ ان قوانین کے مطابق شیشے یا کانچ کی اشیاء کو بیرکوں میں رکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔
پرائزنز ایکٹ 1894 کی دفعہ 42 اور 45 کے تحت جیل کے اندر ایسی اشیاء لانا یا قیدیوں کو دینا سخت ممنوع ہے جنہیں قانون "ممنوعہ اشیاء" (Contraband) قرار دے۔پاکستان پرزنز رولز 1978 کے رول نمبر 690 (Rule 690 - List of Prohibited Articles) میں ممنوعہ اشیاء کی ایک باقاعدہ فہرست (List) دی گئی ہے۔ اس قانون کا اصل متن واضح کرتا ہے:
"All arms and weapons and articles which are capable of being used as weapons of whatever description."
ترجمہ: "ہر قسم کے ہتھیار اور ایسی تمام اشیاء جنہیں کسی بھی طرح ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہو (وہ ممنوعہ اشیاء میں شامل ہیں)۔"
چونکہ شیشے یا کانچ کی بوتل، جار اور برتن کو توڑ کر انتہائی تیز دھار ہتھیار بنایا جا سکتا ہے، اس لیے جیل حکام رول 690 کے تحت اسے جیل کی سیکیورٹی کے لیے ایک پوشیدہ ہتھیار (Potential Weapon) تصور کرتے ہوئے قیدیوں کو دینے سے منع کرتے ہیں۔
جب کوئی قیدی جیل میں داخل ہوتا ہے تو قانون جیل انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس کے پاس موجود ہر ایسی چیز ضبط کر لے جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہو۔پاکستان پرزنز رولز 1978 کے رول نمبر 18 (Rule 18 - Search of Prisoners) کے مطابق
"Every prisoner shall be searched on admission and all prohibited articles, or articles which are considered dangerous or inexpedient to be left in the possession of a prisoner, shall be taken from him."
"ہر قیدی کی جیل میں داخلے کے وقت تلاشی لی جائے گی اور تمام ممنوعہ اشیاء، یا ایسی اشیاء جنہیں قیدی کے پاس چھوڑنا خطرناک یا نامناسب سمجھا جائے، اس سے واپس لے لی جائیں گی۔"
اس قانون کے تحت جیل کا سپرنٹنڈنٹ یا انچارج عملہ اپنے صوابدیدی اختیار (Discretionary Power) کا استعمال کرتے ہوئے شیشے کے برتنوں یا بوتلوں کو "خطرناک یا نامناسب" (Dangerous or Inexpedient) قرار دے کر قیدی کے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
جیل انتظامیہ پر قانونی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قیدی کی جان کی حفاظت کرے۔ پاکستان پرزنز رولز کے رول 428 اور متعلقہ سیکیورٹی گائیڈ لائنز کے تحت قیدیوں کو ایسی کسی بھی چیز تک رسائی نہیں دی جا سکتی جس سے وہ خودکشی (Suicide) یا خود کو زخمی (Self-harm) کر سکیں۔ شیشے کے ٹکڑے خودکشی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، اسی لیے ان پر پابندی سخت ہے۔
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کیا اس میں کوئی قانونی استثنا (Exceptions) ہے؟اگر کسی قیدی کو مینوئل کے رول 225 سے 245 کے تحت "کلاس اے یا بی" (بامشقت یا بہتر رہائشی کلاس) ملی ہوئی ہو، تو رول 262 کے تحت انہیں کچھ ذاتی اشیاء اور برتن رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن اس کی شرط بھی قانون میں واضح ہے:
کوئی بھی ایسی رعایت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی حتمی منظوری اور سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوتی ہے۔ عملی طور پر سیکیورٹی مینوئل کی رو سے وی آئی پی قیدیوں کو بھی کانچ کے بجائے پولی کاربونیٹ (ان بریک ایبل پلاسٹک) یا اسٹین لیس اسٹیل کے برتن ہی فراہم کیے جاتے ہیں۔
قانون کے الفاظ کے مطابق ہر وہ چیز جو ہتھیار بن سکتی ہے یا قیدی کے پاس رکھنا خطرناک ہے (بشمول کانچ/شیشہ)، وہ رول 690 اور رول 18 کے تحت ممنوع ہے۔ اب مریم نواز صاحبہ کے دعویٰ کی قانونی حیثت کو کافی مشکوک ہے لیکن اگر ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیا جائے کہ ان تک شیشے کے جار یا برتن کی رسائی تھی تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایک استثنائی قید کاٹ رہی تھیں جہاں جیل کا عملہ ان کی ہر ممکن مدد کر رہا تھا۔ یعنی پھر کہانی کا وہ حصہ سوالیہ نشان کی زد میں آ جائے گا جس میں جیل کے دوران سختیاں اور مظالم بیان کرنا مقصود تھا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home