لالٹین کے گرد جادوئی لمحے
Shared with Your friends
لالٹین کے گرد جادوئی لمحے
گھر کے سٹور سے یہ پرانی لالٹین ملی۔ زنگ آلود ہے مگر اسے دیکھ کر وقت رک گیا۔ بعض روشنیاں بینائی نہیں، بصیرت بخشتی ہیں۔کچھ چراغ آنکھوں کے سامنے جلتے ہیں، اور کچھ دل کے اندر۔مجھے وہ روشنی آج بھی یاد ہے — وہ لالٹین کی روشنی — جو ہمارے بچپن کی سب سے قیمتی متاع تھی۔
یہ 1985 کی بات ہے۔ ہمارے گاؤں میں بجلی آئی، لیکن ہمارے گھر میں وہ تھوڑی دیر سے پہنچی۔ابا جی احتیاط پسند انسان تھے۔ کہا کرتے تھے:"بجلی کسی کو معاف نہیں کرتی، بچے چھوٹے ہیں، دل جل سکتا ہے یا گھر۔"
اس لیے ہمارے ہاں لالٹین ہی روشنی کا واحد ذریعہ رہی۔لالٹین۔۔۔ ایک مٹی کے تیل سے چلنے والا سادہ سا چراغ —مگر ہمارے لیے وہ محض ایک چراغ نہ تھی، بلکہ ایک مرکز تھا، ایک رابطہ، ایک ایسا دائرہ جس میں محبت، خلوص، سکون اور رشتوں کی قربت گھومتی تھی۔
شام ہوتے ہی اماں بڑی محبت سے لالٹین نکالتیں۔ اس کے شیشے کو نرم کپڑے سے چمکاتیں، بتی سیدھی کرتیں، اور مٹی کے تیل سے بھر کر جیسے ہی ماچس کی تیلی رگڑتیں، تو یوں محسوس ہوتا جیسے رات کے سناٹے میں کسی نے کہانی سنانے کا اعلان کر دیا ہو۔
ہم سب — ابا جی، اماں، بہن بھائی — لالٹین کے گرد بیٹھ جاتے۔اس کی زرد روشنی میں ہر چہرہ چمکنے لگتا۔کسی کی آنکھوں میں خواب ہوتے، کسی کے لبوں پر مسکراہٹ۔کوئی اماں کی گود میں ہوتا، کوئی دادی کی باتوں میں کھویا ہوا۔وہ روشنی نہ زیادہ تیز تھی، نہ آنکھوں کو چبھتی تھی،بس دل کو چھو لینے والی ایک ہلکی سی لو، جیسے ماضی ہاتھ پکڑ کر حال کے ساتھ بیٹھ گیا ہو۔
انہی لمحوں میں اماں جی ہمیں سبق دیتے، ہم بھائی لکڑی کی تختی پر لفظوں کی تلاش میں مصروف ہوتے۔لالٹین کا سایہ دیوار پر لرزتا رہتا، جیسے کوئی پرانا قصہ سانس لے رہا ہو۔
پھر ایک دن بجلی آئی۔ پورا گاؤں جھوم اٹھا۔ لیکن ہمیں کچھ خاص خوشی نہ ہوئی۔بجلی کی سفید روشنی بے شک آنکھوں کے لیے تیز تھی،
مگر اس میں وہ حرارت نہ تھی، جو لالٹین کی پیلی لو میں چھپی ہوئی تھی۔ابا جی نے لالٹین بجھانے سے انکار کر دیا۔
کہنے لگے: "بجلی تو آج آئی ہے، لالٹین نے کئی سال ہمیں اندھیروں سے بچایا ہے۔ اسے یوں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔"
ہم نے تب محسوس کیا کہ کچھ چیزیں صرف روشنی کے لیے نہیں ہوتیں، وہ رشتوں کو روشن کرنے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔لالٹین نے ہمیں ایک دائرے میں رکھا، ایک دوسرے کے قریب، ایک دوسرے کی باتیں سننے اور سمجھنے پر مجبور کیا۔
آج جب ہر بچہ اپنے کمرے میں، ہر فرد اپنے اسکرین پر، اور ہر دل اپنے دُکھ میں بند ہے، تو لالٹین کی وہ روشنی یاد آتی ہے۔ وہ پرانا چراغ، جو کسی الماری کے کونے میں پڑا ہوا ہے، جس پر شاید اب گرد جم گئی ہے، مگر ہماری یادیں اب بھی اسی کے گرد چکر لگاتی ہیں۔ کاش اماں کبھی کبھی اسے نکال کر صاف کریں ۔لالٹین نہیں، شاید وہ یادیں روشن ہو جائیں ۔ وہ لو اب بھی جلتی ہے، دل کی کسی پُرانی گلی میں، جہاں بچپن دوڑتا ہے، اماں ہنستی ہے، اوردادی کہانیاں سناتے ہیں۔کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر پھر اسی لالٹین کے گرد بیٹھ جاؤں۔ نہ کوئی موبائل ہو، نہ بجلی، نہ شور۔
بس ایک سادہ سی لالٹین، اور اس کی روشنی میں وہی پرانے لوگ، وہی پرانے لمحے، اور وہی پرانی محبت۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home