سیاسی کنڈومائزیشن
سیاسی کنڈومائزیشن
تحریر؛ ابوبکر صدیق
انیس سو ساٹھ کی دہائی میں امریکی فارماسیوٹیکل انڈسٹری نے ایک ایسا انقلابی خاکہ تیار کیا جس نے انسان کی جنسی اور سماجی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ مقصد بالکل واضح تھا؛ عمل بھی جاری رہے، لذت کا تاثر بھی قائم رہے، لیکن اس عمل کے نتیجے میں کوئی نیا وجود جنم نہ لے۔ مانعِ حمل مصنوعات میں سب سے سستی، سہل اور عام چیز کنڈوم کہلائی۔ ایک بار استعمال کیجیے، کام نکالیے اور کوڑے دان میں پھینک دیجیے۔
وقت بدلا، ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور مارکیٹ میں سیلیکون پروڈکٹس آ گئیں۔ اب مقصد صرف حفاظت نہیں تھا بلکہ جسمانی کمزوریوں اور نقائص پر پردہ ڈالنا بھی تھا۔ یہ نیا ہتھیار بار بار دھو کر استعمال کیا جا سکتا تھا، یعنی اصل خرابی اندر چھپی رہے اور باہر سے سب کچھ توانا اور مضبوط دکھائی دے۔
آپ تاریخ کا مطالعہ کیجیے، آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فارمولا صرف میڈیکل سائنس تک محدود نہیں رہا۔ ہمارے سیاسی نظام کے کارپردازوں نے یہی نسخہ ریاست کے تختۂ مشق پر دہائیوں پہلے آزما لیا تھا۔
ہمارے نظام کو جب بھی اپنی کمزوری چھپانی ہوتی ہے یا کسی غیر فطری ملاپ کے نتائج سے بچنا ہوتا ہے، وہ فوراً ایک سیاسی کور چڑھا لیتا ہے۔ اس نظام کے پاس بھی دو طرح کے مہرے موجود ہیں۔ پہلے وہ ڈسپوزایبل پیادے ہیں جنہیں کسی خاص مشن، تحریک یا ایک الیکشن کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ واردات مکمل ہوتے ہی انہیں کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے، اور دوسرا فریق منہ تکتا رہ جاتا ہے۔ دوسرے وہ روایتی اور موروثی سیلیکون مہرے ہیں جنہیں بار بار دھو کر، نیا لیبل لگا کر نظام پر چڑھا دیا جاتا ہے تاکہ سسٹم کی مستقل ناتوانی اور کھوکھلا پن عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔
لیکن اس پورے کھیل میں سب سے خوفناک کردار اس لبریکنٹ کا ہے جو سخت ترین رکاوٹوں کے دوران نظام کو راستہ بنا کر دیتا ہے۔ جب بھی ریاستی مشینری کسی سنگین عوامی مزاحمت یا معاشی بحران کی رگڑ سے جام ہونے لگتی ہے، فوراً مذہبی یا جذباتی لبریکنٹ میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔ چند نعرے، غیر متعلقہ جذباتی فتنے، اور نام نہاد حساس ایشوز کی چکناہٹ کے ذریعے عوام کی توجہ اصل لوٹ مار سے ہٹا دی جاتی ہے۔ رگڑ ختم ہو جاتی ہے اور نظام بغیر کسی مزاحمت کے اپنا کام کر گزرتا ہے۔
المیہ دیکھیے، اس تماشے میں عوام اور نظام مسلسل مصروف رہتے ہیں، مگر اس تعلق سے کبھی کوئی حقیقی تبدیلی یا نیا شعور جنم نہیں لیتا۔ پورا معاشرہ سیاسی بانجھ پن کی نذر ہو چکا ہے۔ اور وہ مہرے جو خود کو اقتدار کے ایوانوں کے ناگزیر شہسوار سمجھتے ہیں، ان کی حقیقت محض اس حفاظتی خول سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی جس کا کام صرف گالیاں اور داغ اپنے دامن پر سمیٹنا ہوتا ہے تاکہ اصل فیصلہ ساز محفوظ رہیں۔
یہ مہرے ایک بار استعمال ہوں یا بار بار، تاریخ کی عدالت میں ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ واردات ختم ہوتے ہی ان کا مقدر صرف اور صرف گمنامی اور رسوائی کی ردی کی ٹوکری ہوتی ہے


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home